
شکیل خان
بڑے صاحب کیوں ہم کو پکارنے ہو، کیوں ہماری جانب دیکھتے ہو، آپ کی سفید داڑھی دیکھ کر بھی ہم شرمندہ نہی
ہوتے، ہم نے پہلے کون سا آپ کی آواز پر کان دھرا ہے۔ آپکی تحریک تو ہماری عسکری ضرورت ہے۔آپ کے نام پر تو ہم ساری دنیا میں اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔
آج آپ کے ٹویٹ (اللہ جانے یہ بھی اصلی ہے یاجعلی ) کے بعد ہمارا منہ چبا کر بات کرنے والا اداکارنما وزیر خارجہ کہتا ہے کہ وہ او آئی سی( OIC)جیسے بےوقعت ادارے میں آپ کے بیان پر بات کرے گا۔ آپ کے کشمیر میں مخلوق مٹ رہی ہے، آپ سر ہتھیلی پر رکھے مقبوضہ کشمیر میں موجود ہیں۔ عمر کے اس حصہ میں کہ جب اعضاء جواب دے دیتے ہیں۔ آپ اپنی چٹختی ہڈیوں کے ساتھ میدان کارزار میں کھڑے ہیں۔ سید صاحب، شاہ صاحب، میرے سید علی گیلانی میں شرمندہ ہوں ۔ میں آپ کے لئے کچھ نہی کرسکتا ۔میرے اربوں روپے سینٹ کے سور خریدنے پر لگ گئے میں بہت کنگال ہوگیا ہوں، بزرگو زبانی کلامی توپیں وہ وزیر خارجہ چلادے گا،بقیہ تو ہمیں معاف کرو۔
وہ معذور منہ ٹیڑھا کیے ہوئے یسین ملک جو جان لیوا امراض میں مبتلا ہے،آج دلی کی تہاڑ جیل میں سڑ رہا ہے ۔اس کی بیوی یہاں دہائیاں دیتی رہتی ہے کہ کشمیر کو بچا لو میرے کشمیر کو بچا لو۔ اسی طرح شاید اس کا پیارا شوہر بھی بچ جائے لیکن ہم ٹو بادشاہ ہیں ،ہم اسی کے لیے کیا کرسکتے ہیں ۔
وہ خوبصورت میر واعظ کشمیر عمر فاروق تشدد کا نشانہ بن رہا ہے، جو جب خطب دیتا ہےتو لگتا ہے کہ لحن دائودی میں قرآن پاک پڑھ رہا ہے۔گلی گلی میرے کشمیریوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، گھرگھرماتم کدہ ہے، ہرشام، شام غریباں ہے،بچوں سے معصومیت چھن گئی ہے، بھارتی فوج کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے ۔ان کو مار رہی ہے جنت نظیر وادی کربلا بن گئی ہے ۔
لیکن ہم مطمئن ہیں، ہم محفوظ ہیں، ہمارے وارداتی اپنی وارداتیں ڈال کر خوش ہو رہے ہیں۔ ہم بہت مگن ہیں۔ہمارے پاس کرنے کے لیے بہت کام ہیں ۔ترکی کے ڈرامے بہت اچھے ہیں ۔
سید علی گیلانی صاحب، یسین ملک صاحب، میر واعظ عمر فاروق صاحب مقبوضہ کشمیر کے رہنے والوں آپ کو اپنی جنگ خود لڑنی، اپنی صلیب خود اٹھانی ہے، سیاسی راستوں سے، بغیر تشدد کے، عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔بس یہ یاد رکھنا کہ * جاگتے رہنا، ساڈے تے نہی رہنا ۔




































