
زین صدیقی
کراچی غم زدہ ہے۔کراچی زخمی ہے۔ آج اس کے زخموں کو کریدا جارہا ہے۔شہر کے جس علاقے سے
گزرو بدبو کی لہر دماغ کو ماؤف کردیتی ہے۔ہرطرف کچرا دیکھ کر بچے،بوڑھے،جوان اور خواتین سوچ رہے ہیں اورسوال کررہے ہیں ۔کراچی کا کیا قصور ہے ۔کچرا کون اٹھائے گا؟ ،یہ کس کی ذمہ داری ہے ؟طویل عرصے سے شہری اورسندھ حکومت طے نہیں کرپارہیں کہ یہ کس کی ذمہ داری ہے ۔ایک دوسرے پر ملبہ ڈالا جارہا ہے۔الزامات لگ رہے ہیں ۔یہ کوئی بتانے کو تیار نہیں یہ کس کی ذمہ داری ہے؟۔کراچی میں کچرے کے مسئلے کوراکٹ سائنس بنادیا گیا ہے۔شہریوں پرظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ کوئی الجبراکے سوال سے بھی زیادہ مشکل سوال ہے اور اہلیان کراچی کو باور کرایاجارہا ہے کہ یہحل ہونے والامعاملہ ہے نہ ہم اسے حل کریں گے۔
کراچی کے جس گلی محلے سے گزریئے کچرااور ابلتے گٹر آپ کا استقبال کریں گے۔سیوریج کا 60سال پرانا نظام بھی ان کی ناکامی ونااہلی پر مہر تصدیق ثبت کرنے کیلئے سامنے آگیا ہے ۔شہریوں کو سمجھا یا جارہا ہے کہ ہم جو ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں وہ ہمارااحسان ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں ان کا کوئی کام کسی پر احسان نہیں ہے ،یہ توان کی ذمہ داری ہے، یہ اس کا معاوضہ لیتے ہیں ۔عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں ۔ان کے پاس عوام کی خدمت کا مینڈیٹ ہے۔کون کہتا ہے یہ خدائی خدمت گار ہیں ۔کراچی کی سڑکیں اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہیں ۔شہر قائد کی عجیب حالت کر د ی گئی ہے ۔دن میں اسٹریٹ لائٹس جل رہی ہوتی ہیں جو شاہد دن کو چار چاند لگانے کیلئے چلائی جاتی ہیں ،جنہیں رات میں بند کرکے اندھیروں سے اظہاریکجہتی کیا جاتاہے ۔شہریوں کو کمال مشکل کا سامنا ہے ۔شہری جائیں تو جائیں کہاں ۔
انتخاب کے بعد عوامی نمائندے حلف لے کرآتے ہیں ۔کہتے ہیں ہم آپ کے خادم ،آپ کی خدمت کریں گے۔انتخاب سے قبل بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم شہر کی خدمت کریں گے۔اسے روشنیوں کو شہر بنائیں گے ۔
کے ایم سی کے پاس کچر ااٹھانے والی سیکڑوں گاڑیاں موجود ہیں ،کچرااٹھانے والا عملہ بھی موجود ہے،بقول میئر صاحب کے اختیارات سندھ گورنمنٹ کے پاس ہیں ، حکو مت سندھ کہتی ہے صفائی کاکام سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کاکام ہے،کبھی کہتی ہے محکمہ بلدیات کا ہے ،کبھی کہتی ہے کے ایم سی کاہے ،کام جس کا بھی ہے بھائی کرتے کیوں نہیں؟ ،بتاتے کیوں نہیں کراچی کے شہریوں کو کہ یہ کام ہم نہیں کرسکتے ۔ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دے کرعوام کی ہمدردی کیوں حاصل نہیں کرتے ،گالیاں کھانے کا کیا فائدہ۔
بتایا جارہا ہے کہ کراچی میں یومیہ13000ٹن کچر ا پیدا ہوتا ہے،4ہزار ٹن کچرا اٹھایا جارہا ہے ،9000ٹن کچر اسڑکوں پر پڑا ہے ۔جب سے میئر آئے ہیں اختیار ات ان سے دور ہیں ۔سندھ حکومت تسلیوں سے کام چلارہی ہے۔اس صورت حال میں اس امر کی بخوبی تصدیق ہو جاتی ہے کہ کسی کو شہری مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں ۔
کراچی کیلئے وفاق نے 149اے کے تحت کراچی کو وفاق کے تحت لینے کی بات کی ہے اس پربھی قو م پرست جماعتوں اورخصوصاً پیپلزپارٹی نے احتجاج شروع کردیا ہے ۔کراچی سمیت سند ھ بھر میں مظاہرے کیے گئے ہیں ۔ابھی 149اے کی تشریخ ہونا باقی ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت کراچی کے تمام اختیارات وفاق کے پاس چلے جائیں گے،مگرصوررتحال تاحال مبہم ہے۔وفاقی حکومت پر بھی لوگوں کو مکمل اعتماد نہیں ہے۔
شہر پر 35برس راج کرنے والے بھائی لوگ اس شہر میں طاقت کا منبع تھے ۔افسو س وہ اس شہر میں پانی ،بجلی، ٹرانسپورٹ ،صفائی سمیت دیگر انتظامات کو بہتر نہ بنا سکے حالانکہ وہ اپنی طاقت مخلصانہ اس شہر کے مسائل کے حل کیلئے استعمال کرتے تو نظام تیر کی طرح سیدھا ہوچکا ہوتا۔
ایم کیوایم او رسندھ حکومت کے سیاسی کھلاڑی شہریوں سے کھلواڑ کررہے ہیں ۔لمبی لمبی تقرریں کی جارہی ہیں ۔وضاحتیں دی جارہی ہیں ،سیاست چمکائی جارہی
ہے ،شہریوں کو یہ نہیں بتایا جارہا کون حق پر ہے ،جو سچا ہے کم از کم استعفیٰ دے کرگھرجائے تاکہ شہری مان سکیں کہ یہ شخص ہمار اہمدرد تھا، ہمارا مقدمہ لڑکر عہدے سے الگ ہو گیا۔
ماضی میں ملازمتوں اوربے روزگاری کی بات کی جاتی تھی ،پانی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کی بات ہوتی تھی ،آج انہیں صرف کچرے تک محدود کردیا ہے ،دوسرے مطالبات تو دور کی بات اب شہری اسی کے حل کے مطالبے کو ہی غنیمت جان رہے ہیں۔
کراچی 70فیصد ریونیو دینے والا شہر ہے ،یہ معاشی حب ہے،یہ انجن آف کنٹری ہے ،جس کی وجہ سے پورا ملک چل رہا ہے ،اس کی معیشت کا پہیہ رکتا ہے تو پورا ملک جام ہوجاتا ہے،لیکن شاہد اس کا کسی کو احساس نہیں۔ کراچی پرہر جماعت اس پر اپنا حق جتا رہی ہے،یہ کسی جماعت کا نہیں ہے یہ شہر پاکستان کا شہرہے اس کے عوام کا شہر ہے اسے غریب کی ماں کہا جاتا ہے،اسے غریبوں کا دبئی کہا جاتا ہے اسکی ترقی کوروکنے والے اس کے خیرخواہ کیسے ہوسکتے ہیں ؟
اہلیان کراچی نعمت اللہ خان کے دور کویاد کررہے ہیں ،شہر میں پارکس بنے،کے ون اورکے تھری منصوبہ دیا،ان کے دور کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے اقربا پروری نہیں کی اوراقتدار کو اللہ کی امانت سمجھا ،کسی کو بدعنوانی نہیں کرنے دی ،شہرکا پیسہ شہر پر خرچ کیا ۔ کراچی کو ملنے والے پیکیج میں اضافہ کروایا۔بہت سے ان کے منصوبے مصطفی کمال کے دورمیں مکمل ہوئے ،شہر کی ترقی کیلئے مصطفی کمال کے دور میں بھی کام ہوا لیکن آج والی خراب صورتحال ماضی میں نہیں تھی ۔
کراچی کے شہری بے وقوف نہیں ہیں ۔وہ سب سمجھتے ہیں۔سیاسی کھلاڑی اسے بال بنا کرچوکے چھکے لگا رہے ہیں۔انہیں چاہیے کہ خدا کیلئے شہریوں سے کھلواڑبند کردیں اوران پر رحم کھائیں ،نظام کو چلنے دیں ۔کام کریں ،جس مقصد کیلئے اللہ نے آپ کو اقتدار دیاہے ،ورنہ اللہ کے یہاں آپ کو اس جواب دینا ہوگا ۔




































