
قرةالعین صدیقی
وقت کسی کا انتظا رنہیں کر تا۔ گھڑی کی سوئیاں کبھی نہیں ر کتیں ،جو شخص وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے ،وقت اس کے کا م
آجا تا ہے اور جو شخص وقت کی قد رنہیں کر تا وقت اسے پیچھے چھوڑ کر نکل جا تا ہے۔ وقت ایک عظیم دولت ہے۔ وہی شخص دنیا میں عزت شہرت حا صل کر تا ہے جو وقت سے فا ئدہ اٹھاتا ہے۔
طلبہ ہما رے ملک کا مستقبل ہیں ان کی تعلیم اور تربیت پر ملک کی ترقی کا انحصا ر ہوتا ہے۔ ےہ میدان عمل میں آکر ملک کی باگ ڈور سنبھا لیں گے۔ اس لیے قومی تعمیرکیلئے ان سے امیدیں وابستہ ہیں ۔طلبہ کیلئے وقت کی اہمیت بہت زیا دہ ہے ۔طلباءجوا ن ذہن ،جو ان خیا لات اور ان تھک محنت کر نے وا لو ں کی ایسی فو ج ہیں کہ جس کا م کا عہد کر لیں تو اسے پائیہ تکمیل تک پہنچا کردم ہیں ۔مگر اس کے لیے ان کے اندر نظم وضبط ضر وری ہے اور نظم وضبط وقت کی اہمیت سمجھنے سے آتا ہے۔ اگر طا لب علم زمانہ طالب علمی میں ہر کا م اپنے مقررہ وقت پر کر تا ہے۔تو اسکی صحت بھی اچھی رہتی ہے اور اپنے تعلیمی مر احل کو طے کر نے میں جو فرا ئض عائدہوتے ہیں ان سے برقت عہد ہ بر اں ہوتا ہے ۔
طا لب علم اگر وقت پر اسکول نہ جائے توتعلیم حا صل نہیں کر سکتا ۔ نہ ہی اسے ذمہ دار طالب علم کہا جاسکتا۔ ََوقت کی اہمیت ہر شعبے میں ضر وری ہے دنیا کا کوئی بھی شخص خوا ہ وہ کسی
کوئی شخص کسی بھی پیشے سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو جب تک وقت کا پا بند نہیں ہوگا کا میا بی سے ہم کنا ر نہیں ہوگا،وقت کی اہمیت کا خیال رکھنا ہر شعبے میں ضروری ہے ،کیونکہ ےہ زما نہ طا لب علم کی زند گی کا بہتر ین دور ہوتا ہے۔ زمانہءطا لب علمی میں اگر طا لب علم وقت کی قد رو قیمت سمجھ لے تو دولت علم سے ما لا ما ل ہو سکتا ہے اور اس کی یہ عا دت عملی زند گی میں بھی مفید ثا بت ہو سکتی ہے۔
وقت کی قدر کرنے والا طالب علم جہا ں جا تا ہے کا میا ب و کا مرا ن ہو تا ہے۔وقت ا یک عظیم د ولت ہے کیو نکہ د ولت خود وقت کی محتا ج ہے۔وقت کی قدر و قیمت کا احساس کرنا ہر طا لب علم کے لیے ضروری ہے۔ وقت کی اہمیت سمجھنے اور اس کی قدر کرنے والا طالب علم کبھی ناکام ونامراد نہیں ہوسکتا ۔
ا بتد ائی عمل کے طور پر اگر طا لب علم اپنی پڑھا ئی کا خا کہ بنا لے تو پھر سا ل کے آخر میں اسے امتحا نی تیا ری کے لیے مشکل مر احل کا سا منا نہیں کر نا پڑتا ۔
دنیا کی تما م چیز یں وقت کی اہمیت کو واضح کر تی نظر آتی ہیں۔طا لب علم ہما رے ملک کا سر ما یہ ہیں ،انہیں ملک کی با گ ڈور سنبھا لنی ہے ۔اس دور میں ا گر طا لب علم تما م مراحل کو خو ش اسلوبی سے منظم انداز میں طے کرتا ہے توکامیابیاں اس کی منتظر ہیں ۔




































