
مہک اطہر
دنیامیں سب سے پہلے جس شخصیت نے علم سیکھاوہ ہمارے پیارے نبیﷺہیں جو پوری دنیا کیلئے معلم اور پیغمبربنا کر بھیجے
گئے ۔عورتوںمیں حضرت خد یجہؓ نے علم سیکھا اور پھر بچوں میں سب سے پہلے جس نے علم سیکھا وہ حضرت علیؓ تھے۔ اس لیےہم دیکھتے ہیں کہ تعلیم زند گی میں بہت اہمیت رکھتی ہے ۔
دنیا کے ہر معاشرے میں ماںکی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ تعلیم حاصل کرے،اوروہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے ،عملی زندگی میں وہ کسی نہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہو۔ےہ تعلیم ہی ہے جو ہر چھوٹے بچے کو بلندیوں تک لے جا تی ہے ۔اس لیے ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کا خا ص خیا ل رکھنا چا ہیے اور نئی نسل کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلانا چاہیے تاکہ وہ اس کی قدر جان سکے،اورہماری آنے وا لی نسل کو معلو م ہو کہ تعلیم انسان کیلئے کتنی ضرور ی ہے۔تعلیم کی وجہ ہی سے اسے اپنے اصلاف کے کارناموں سے آگاہی حاصل ہوسکتی ہے ۔
ماضی میں تعلیم کو نہایت اہمیت حاصل تھی ،اس لیے عربوں کی روایت مقبول عام ہے کہ علم حاصل کرو چا ہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جا نا پڑے ۔بعض لوگ اسے بنی پاک کی حدیث مبارکہ کے طورپر بھی پیش کرتے ہیں۔
دراصل تعلیم ایک معا شرتی عمل ہے ،معا شرے کے فراد اس کیلئے مشترکہ کو شش کرتے ہیں، تعلیم کے حقیقی مقا صد کو حاصل کر نے کے لیے نظم و ضبط مر تب کیا جا تا ہے ، اسی کے مطا بق تعلیمی سر گرمیاں انجا م دی جا تی ہیں ۔علم تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز ہے ،علم سیکھو اور دو سروں کو بھی سکھاﺅ کیو نکہ علم دینے سے گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔ تعلیم ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے ۔دوسرو ں سے الگ ہما ری پہچا ن بنا تی ہے۔
اکثر وا لد ین اپنی گوں ناگوں مصروفیات اورمعا شی پریشا نیوں کے با عث اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں دلچسپی نہیں لیتے ۔وہ تعلیم کی اہمیت سے بھی ناواقف ہوتے ہیں ۔اگر وہ بچوں کو اسکول بھیجتے بھی ہیں توسار ی ذمہ داری اسا تذہ پر ڈال دیتے ہیں۔اپنے بچے کے تعلیمی ادارے میں آنے کی زحمت بھی گوا رہ نہیں کر تے۔
بعض او قا ت محلے کے کسی فرد کو ہی تعلیمی ادارے بھیج دیتے ہیں۔بچے کی بگڑتی ہوئی تعلیمی کا ر کر دگی کی ذمہ داری خود نہیں لیتے بلکہ اس کا ذمہ دار اساتذہ کو ہی قرار دے دیتے ہیں۔ اس معا ملے میں ان سے تلخ کلا می بھی کرتے ہیں۔اگر آج ان کی تعلیم وتر بیت کا خیا ل نہ رکھا گیا تو وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ۔تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ تعلیم ہما رے معاشرے کا بنیادی حصہ ہے۔
تعلیم ہمیں سر اٹھا کر جینا سکھاتی ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر انسان ،انسان نہیں رہتا بلکہ وہ دوسروں سے الگ زندگی گزارتے ہیں
نہ تو ان کی زندگی میں شعور ہو گا ،نہ ہی تہذیب اور نہ ہی اچھائی اور برائی کی پہچا ن ہوگی۔ ہمیں تعلیم حاصل کرنی چاہیے کیونکہ آپﷺ نے بھی علم کی راہ میں تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔
رسول پا کﷺکا ارشاد ہے کہ علم حا صل کر نا ہر مسلما ن مرد اور عور ت پر فرض ہے ۔لہٰذاہمیں چاہیے کہ ہم جس قدر ممکن ہو علم حاصل کریں ۔




































