
زین صدیقی
سندھ حکومت نے کھلے مقامات اورگھرکے روازے پر کچرا پھینکنے پرپابندی عائد کردی ہے،جبکہ عوامی مقامات پرتھوکنے پربھی
پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144نافذ کی ہے۔اس پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کرکے اس پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے ۔سندھ حکومت صوبے میں اپنے سابقہ 10سالہ دوراقتدار اورموجودہ سواسالہ دوراقتدار میں یہ نہایت اعلیٰ کام کیا ہے ،عوام کی خدمت کا کوئی کام نہ سہی کم از کم کراچی اور سندھ کے عوام کو مہذب بنا نے کی تو کوشش کی ہے ۔ہوسکتا ہے کہ سندھ حکومت کی اس کاوش سے کراچی اور سندھ کا معاشرہ دنیا کا مہذب معاشرہ بن جائے ۔
سندھ پولیس نے روایتی پھرتیاں دکھاتے ہوئے سکھن اورنارتھ ناظم آباد کے علاقوں میں کچر اپھینکنے پر شہباز اورمشرف نامی افراد کیخلاف مقدمات درج کیے ہیں ،جبکہ شہازکی گرفتاری کی اطلاعات ہیں ۔کچراپھینکنے پرپابندی سے متعلق میڈیا کو جاری خبروں اوربیانات میں اہلیان کراچی کو کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں کچرا پھینکیں۔ اسی زمین پر پھینکیں یا خلا میں ،نہ ہی اس بارے میں کوئی مشورہ دیا گیا ۔
کچرے پر پابندی کی پریس ریلیز دیکھ کر کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔کیاسندھ حکومت نے ہرگلی محلے میں کچرا کنڈی بنادی ہے؟یا پھر بڑے پیمانے پرشعوروآگہی بیدار کی ہے کہ عوام کچرا سڑکوں ،گلی محلوں ،بازاروں میں یا اپنے گھر کے باہر نہ پھینکیں ۔کیاان کے گھر کے باہرسے شہر ی یا سندھ حکومت کا خاکروب کچرااٹھانے آئے گا ؟ خاکروب کا نام سنے بھی مدت گزرگئی،شاہد کچرااٹھانے کے کام کی طرح خاکروب لفظ بھی اب متروک ہوتا جارہاہے اورخاکروب لفظ کی طرح اس لفظ سے منسلک کام کرنے والے لوگ بھی شاہد ااپنے کام سے تائب ہو چکے ہیں ، یہ کام افغانیوں اور پٹھانوں نے سنبھال لیا ہے ۔ان کے مستقبل بھی کیا مخدوش ہوگا ۔نہ ہی یہ کسی حکومت سے رجسٹرڈ ہیں ،نہ ہی ان کا اتا پتا ہے کہ ان کو کس نے اس کام پر لگایا ۔یہ اس کام کے ہرگھر سے ماہانہ 150روپے وصول کررہے ہیں ۔وہ بھی کچرا جمع کرکے ان ہی علاقوں میں کھلے میدان میں کچراپھینک رہے ہیں،پابندی سے متعلق ان پر کیا اثر پڑے گا ،کیاوہ کام کرتے رہیں یا وہ بھی کچرا کھلے میدانوں میں پھینکنے پر قانون کی گرفت میں آسکیں گے۔
دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں ایسی پابندیوں پر عمل ہوتا ہے ،وہ سولائزڈ معاشرے ہیں ،ان کا نظم ونسق ہے ،ان کے حکمران بھی عوام کے خادم ہیں ،وہ ووٹ کا پورا پور حق ادا کرتے ہیں ۔اپنے ملک کی خدمت کرتے ہیں ۔ان کی سڑکیں شیشے کی طرح چمکتی ہیں ۔وہ اپنے منصب اور کام سے مخلص ہوتے ہیں ،مگر ہمارے یہاں ساٹھ سال سے ملک کولوٹا جارہا ہے ،سیاست چمکائی جارہی ہے ،زمین پر کام کرنے والے خلائی باتیں کر رہے ہیں ،انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کراچی کا کچرااٹھانا کس کی ذمہ داری ہے ،یہاں کی سڑکیں جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی ہیں ،نکاسی آب کا نظام تباہ ہوچکا ہے ،پانی لوگ خرید کر پی رہے ہیں ،ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شہریوں کو پانی دستیاب نہیں ٹینکرز کے پاس کہاں سے آرہا ہے۔
پابندی اچھی بات ہے،مگربھائی اس پابندی کے بھی کوئی اصول ہوتے ہیں ،کوئی پلاننگ ہوتی ہے ،وہ تو کر لیتے ،اہلیان کراچی اور سندھ کو پابندی عائد کرکے چور بنا یا جارہا ہے۔ کچرا محفوظ جگہ پھینکنا توشہریوں کا حق ہے اور اسے اٹھانا شہری حکومت یا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کام ہے ۔کچراپھینکنے کیلئے مناسب جگیہ کی فراہمی یا کچرا کنڈیاں بنا نا بھی تو ایک کام ہے پابندی سے پہلے ہر علاقے میں کچر کنڈیاں کیوں نہیں بنا ئی گئیں ۔پابندی کے بعد اب لوگ کچرا پھینکتے ہوئے بھی خود کو چورتصور کررہے ہیں ۔
پابندی سے پولیس کی چاندی ہو گی۔سندھ حکومت نے کچرا پھینکنے والے کو قانون کے حوالے کروانے والے کو بھی انعام دینے ےکا اعلان کیاہے ،وہ بھی ایک لاکھ کا ،کیا ہی اچھی بات ہوتی کہ حکومت فنڈز مختص کرکے ہرعلاقے میں ایک لاکھ سے 6کچرا کنڈیاں بنوادیتی تاکہ لوگ اس کچراکنڈی کو استعمال کرتے۔
شہر کے پوش علاقوں میں آہنی کچرا دان پڑے ہیں ،لیکن شہر کی سیکڑوں کچی آبادیوں اورپسماندہ علاقوں میں اس کا نام ونشان تک نہیں ۔سندھ حکومت بتائے کہ ان علاقوں کے لوگ کہاں کچرا پھینکیں۔
حکومتیں عوام کی فلا ح وبہود کیلئے بنائی جاتی ہیں نہ کہ ان کی راہ میں رکاوٹیں اورمسائل پیدا کرنے کیلئے،ہمیں ابھی تک جماعت اسلامی کے سوا کسی سیاسی جماعت میں شہر کراچی اور سندھ کے شہریوں کیلئے اخلاص نظر نہیں آیا ۔ہماری سندھ حکومت سے گزارش ہے کہ خداکیلئے کراچی وسندھ کے عوام کو چور نہ بنائیں ۔




































