
قرۃالعین صدیقی
کتب خا نوں کا تصو ر بہت قد یم ہے۔ زما نہءقد یم سے ہی کتب خا نے معا شرے کی فکری اور علمی تر قی میں مدد گا ر ہیں۔تا ریخ
گواہ ہے کہ کسی بھی عہد کی تر قی میں علم اور فکر کو دخل حا صل ہے۔ کتا بیں علم و حکمت کا خز ینہ ہوتی ہیں ۔ شعور اور ادراک کی دولت قومیں کو اسی خز انے سے حاصل ہوتی ہے۔قو م کے اہل علم حضرات اپنی معلوما ت کوتحریروں کی شکل میں محفو ظ کرتے ہیں اور ےہ دولت کتب خا نوں میں محفو ظ ہوتی ہے۔
ایک بہت مشہور مقولہ ہے :
کتا ب انسان کی بہترین دوست ہے
اور یہ قول صحیح ثا بت ہوا ہے کتا ب کی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر دور میں کتا ب نے انسان
کی رہنمائی کی اوراس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ۔مسلمان حکمرانوں نے اپنی رعایا کی ذہنی نشونما
کے لیے کتب خانے قائم کیے ہیں جن میں سے کچھ اب بھی موجود ہیں۔کتب خانوں کے قیام اور ان کے ذریعے علم کے فروغ کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی ۔کتب خانے کتا بوںکا ایسا مشترکہ سرمایہ ہوتا
ہے۔جہاں سے لوگ علم کی پیاس بجھا تے ہیں ۔ہر آدمی کتا بیںخر ید نے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔کتب خانے علم کے متلاشی لوگوں کے لیے ٹھنڈے پا نی کے چشمے ظا ہر ہوتے ہیں ۔یا جلتی دھوپ میں شجرسایہ دار،جہاں جا کر لوگ اپنے علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔
کتب خانوں کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ اسے وقت کی ضرورت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔کیوں کہ طلبہ کے لیے کتب خانوں میں وقت گزارنا وقت کو کا رآمد بنانا ہے،اسی طرح ہم ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔کتب خا نے جس قدر بلند پا یہ ہوںگے اس قدر لوگوں کی علمی پیاس بجھا سکیں گے۔
مسلما نوں نے ہندوستا ن پر ہزاروں سا ل حکو مت کی اوربہت سے کتب خانے قائم کیے۔ کتب خانے اس وقت نوادارت کے ذخیروں میں شمار ہوتے تھے۔مسلما نوں کے زوال کے ساتھ ہی انگریز حکمران سا رے کتب خانے اٹھا کر لے گئے۔لندن میں ان کتا بوں کا بڑا ذخیرہ آج بھی موجود ہے۔
کتب خانے دراصل صدقہ جاریہ ہیں ۔جب تک قائم رہیں گے لوگ ان سے فیض حاصل کرتے رہیں گے۔ان کے قائم کرنے والوں کو اس کا اجر ملتا رہے گا۔ملک وقوم کی ترقی کے لیے علم کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔مدرسوں میں نصاب بہ محدود ہوتا ہے۔اس لیے علم کو وسعت دینے کے لیے کتب خا نوں کا قیام بہت ضروری ہے۔
سرورعلم ہے کیفیت شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں کتاب سے بہتر




































