
رپورٹ: خالد دانش
حلقہ اربابِ ذوق کی تنقیدی نشستوں کی گونج چار سو سنائی د ینا زیب اذکار حسین،ڈاکٹر شاھد
ضمیر،مجید رحمانی،شکیل وحید،غلام علی وفا،مہر جمالی،ریحانہ احسان،نغمانہ شیخ،صائمہ نفیس،اصف علی آصف،کامران مغل،رحمن نشاط اور فرحت اللہ قریشی کی دلجمعی اور فحال بنانے کے لئے مثبت حکمت عملی اور فکری تگ و دو کی وجہ سے ہے۔اور اسکے ساتھ ساتھ اکرم کنجاہی،خالد معین،ڈاکٹر ضیغم،ڈاکٹر ارشد رضوی اور یشب تمنا اور شاہ زماں کی وقتا فوقتاً حاضری اور عالمانہ گفتگو کا ثمر بھی ہے۔ شجاع الزماں،عمار یاسر،زیب لاسی،مطربہ شیخ اور نساء احمد کی موجودگی بھی حلقے کے ارتقائی عمل کا حصہ مانی جاتی ہے۔
حلقہ اربابِ ذوق کے زیر اہتمام تنقیدی نشست کا اہتمام کیا گیا۔،جس کی صدارت۔ آفتاب مضطر نے کی۔آپ کے علمی قد پر گفتگو کرنا مجھ جیسے کم علم کا منصب نہیں ہے البتہ چند سطور سپرد قلم کرتے ہوئے یہ گوش گزار کرنا اشد ضروری سمجھتا ہوں کہ آفتاب مضطر کے سینے میں جس قدر علم پنہاں ہے وہ سارا کا سارا نفع بخش،موثر و پرتاثیر ہے اور اس میں خاکسار کی عقل و دانش کے اعتبار سے روحانیت کی آمیزش بھی ہے۔
اسی تناظر میں عربی کا ایک قول قارئین کی سنجیدہ بصارتوں کی نذر کرتا ھوں۔۔ما اجمل الدین و الدنیا اذا اجتمعا،اگر کسی شخص میں دین و دنیا اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہی اچھا ہے۔۔۔پھر یقین کر لیجئے کہ۔۔آفتاب مضطر کو راقم الحروف نے اس قول کی حسین ترین و جامع تصویر پایا ہے۔۔
۔مہمان خصوصی۔معین اختر تھے۔آپ کا شمار سلجھے ہوئے ادباء میں کیا جاتا ہے جو اپکی ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔
غلام علی وفا،آپ کا ہر کلام حسن معانی،روانی اور الفاظ و بیاں کی دلکشی کی وجہ سے شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔ خاکہ۔احتشام انور، نوجوان نسل کا نمائندہ قلمکار جس کی ہر تخلیق پر قاری و سامع معانی کی وسعت اور خیالات کی گہرائی میں با آسانی اتر جاتا ہے۔ افسانہ ۔مہر جمالی نے پیش کیا۔آپ کے اشعار میں رومان انگیزی،حسن و شباب اور عشق کے تذکروں کے ساتھ درد میں ڈوبے چند اشعار پڑھ کر یا سن کر گلا رندھ جاتا ہے۔
اشتیاق احمد برطانیہ سے خصوصی طور پر ےتشریف لائے ۔آپ ایک شگفتہ مزاج تخلیق کار ہیں جو اپنے ہر فن پارے میں معاشرتی زندگی کا عکس انتہائی احسن طریقے سے بیان کرتے ہیں اور حلقہ اربابِ ذوق کے تمام عہدے داران اور اراکین آپکی آمد پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
نظامت۔حجاز مہدی نے انجام دی۔حجاز بحیثیت نظامت کار الفاظ کو برتنے کا ہنرجانتا ہے اور اگر اس نوجوان کو لفظوں کا نباض کہا جائے تو یہی سچ ہے۔۔
ڈاکٹر شاھد ضمیر نے خاکے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ۔تاثراتی جائزہ ہے جسے جمالیاتی کہا جائے تو مبالغہ نہ ھو گا۔۔احتشام ایک پختہ قلمکار ہے جسے حقائق بیان کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔
کامران مغل نے کہا کہ۔ محاوروں کا استعمال خوش آئند بات ہے،مگر مادرعلمی اور اساتذہ سے متعلق اس قسم کے بیانیے سے متفق نہیں ہوں۔۔
عمار یاسر کے مطابق زبان و بیان کے اعتبار سے منفرد خاکہ ہے۔۔مہر جمالی نے شاعری کی طرح افسانے میں بھی رنگ بھر دئیے ہیں۔۔وفا صاحب کی نظم ایک مثالی کاوش ہے جس میں ایک عہد کو باندھا گیا ہے۔۔ احتشام انور نے نظم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفا صاحب شاعری کا معتبر حوالہ ہیں اور اس نظم کو امید افزاء کہوں تو یہی سچ ہے۔۔
آصف علی آصف نے کہا کہ۔۔دعائیہ نظم ھے۔۔حاشیہ قابل تعریف اقدام شمار کیا جائے گا۔۔شجاع الزماں نے نظم سن کر حیرت و خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ۔وفا صاحب نے بھرپور نظم کے ذریعے اندیشوں اور خواہشات کا ذکر کیا ہے۔۔جسے مستقبل کی روشن امید کہا جائے گا۔۔
معین اختر نے کہا کہ خاکہ سن کر منٹو کی یاد ا گئی۔۔چند غیر شائستہ جملوں سے اجتناب ضروری ہے۔۔زیب اذکار حسین نے کچھ یوں لب کشائی کی۔۔۔خاکہ ایک شعوری کاوش ھے جس کے چند جملوں کو نظر انداز کرتے ھوئے یہ کہا جاتا ہے کہ مزاح اور اصلاح کو ھنر مندی سے یکجا کیا جانا احتشام انور کا کمال فن ہے۔۔نظم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ۔تلخ احساسات کو شائستہ انداز میں بیان کرنا وفا صاحب کا ہی طرہ امتیاز ھے۔۔قدیم و جدید دور کی خوبصورت عکاسی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
صدر مجلس آفتاب مضطر نے اپنے عالمانہ خطاب میں کہا کہحصول علم و فن کی جہد مسلسل کرنے والے تلخ و شیریں حالات سے گزرتے ہیں اور یاد رکھئے جو طالب علم ادراک و آگہی کے جنگلوں میں آبلہ پائی کرتے ہیں وہی منزلوں کے نشاں پاتے ہیں۔۔خاکے میں کسی کی تذلیل کرنا مقصد نظر نہیں آیا بلکہ کسی درجے میں سوچا جا سکتا ہے کہ اساتذہ اپنی عزت طلباء کے دلوں پر کس طرح نقش کر سکتے ہیں۔۔فارسی محاورے خاکے کے حسن و تاثیر پر اثر انداز ہوئے اور غیر ضروری لگے۔۔بہر کیف ذاتی مشاھدہ احسن اسلوب پر بیان کیا گیا ہے۔ افسانے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ۔۔افسانہ میں تکنیکی اعتبار سے بڑی اغلاط دکھائی اور سنائی دے رہی ہیں۔ڈپٹی نذیر احمد اور سرسید احمد خان کے سادہ و سہل افسانے پڑھے جائیں تو رہنمائی ممکن ہے۔۔نظم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ۔جمع فکر نظم ہے جسے وطن اور معاشرے کی فکری نظم کہا جائے گا۔ صاحب کلام شاعری کی ایک سہنرے دور سے گزرے ہیں اور اپ کے اس کلام پر تفصیلی گفتگو درکار ہے۔اور ترجیع بند کو نذیر اکبر ابادی کے انداز میں پڑھنا قابل تعریف ہے۔۔۔ اھل ادب سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ اردو کو اصل صحت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے اور حتی الامکان کوشش کی جائے کہ اسکے بگاڑ میں ہمارا حصہ نہ ہو۔،جس طرح انگریزی پر ہماری توجہ مرکوز ہے اسی طرح دلجمعی اور انہماک کے ساتھ اردو کی ترویج و تشہیر میں مثبت کردار ادا کرنا ہےاور نئے آنے والوں پر لازم ھے کہ ادبی محافل میں جڑنے والے جید ادباء کو بغور سنیں اور انکی گفتگو سے علم کشید کریں۔۔اور اردو زبان میں استعمال ھونے والے ھندی،فارسی،عربی اور ترکی زبان کے لفظوں پر غور و فکر کریں اور انھیں برتنے کا سلیقہ بھی سیکھیں۔۔ اور کہا کہ شعراء کرام کو علم عروض کی اہمیت و افادیت پر نظر رکھنی ہو گی۔۔۔
تقریب کے اختتام پر زیب اذکار حسین نے مہمانوں کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اور آئندہ بھی شرکت کی درخواست کی۔۔۔۔




































