
یاسمین شوکت
علامہ محمد اقبال کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔دنیا انہیں شاعر مشرق کے نام سے جانتی ہے۔آپ کو حکم الامت
بھی کہا جاتا ہے۔آپ کوآفاقی شاعراورشاعر اسلام بھی کہا جاتا ہے۔بلاشعبہ اقبال آفاقی شاعر تھے اورشاعر اسلام بھی۔ان کے کلام میں اللہ کا ذکر بھی ملتا ہے آقائے دوجہاں محمدؐ کی ذات گرامی سے بے مثال محبت کابھی،اسلامی دعوت فکر بھی ہے۔ ملامیں پانی جانی والی کمی اورکوتاہیوں کی نشاندہی بھی۔وہ فرقوں میں بٹے انسانوں کا رخ بھی متعین کرتے نظرآئے ہیں اور بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی بھی کرتے نظرآتے ہیں۔
ان کی شاعری میں رعنائی ہے،روانی ہے،جوانی ہے،کہانی ہے،ان کی شاعری میں فکر ہے،درد ہے،سوزدل ہے،عشق رسول ؐہے۔امت کادرد ہے۔پیغام ہے، امیدہے۔مایوسی کا عنصرہے نہ قوم کیلئے مایوسی۔وہ بحیثیت مسلمان بھی اپنے کلام وبیان کے ساتھ اپنی ذات میں انجمن نظراتے ہیں۔
علامہ اقبال کی شاعری میں عام آدمی کیلئے بھی فکر ملتی ہے اورخواص کیلئے بھی،ان کا مخاطب پر وہ فرد ہے جو روئے زمین افعال انجام دے رہا ہے۔
علامہ اقبال کہتے ہیں۔
رنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمین
سیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمین
علامہ کی شاعری سے زندگی کا کوئی گوشہ خالی نہیں،انہوں نے زندگی سے لیکر موت تک کی تصویر کشی کی ہے کہتے ہیں۔
موت ہرشاہ وگدا کے خواب کی تعبیر ہے
اس ستم گرکا ستم انصاف کی تصویر ہے
علامہ اقبال حقیقت حسن کے بارے میں کچھ یوں فرمایا۔
خداسے حسن نے ایک روز یہ سوال کیا
جہاں میں تونے مجھے کیوں نہ لازوال کیا
ملاجواب کہ تصویرخانہ ہے دینا
شب درازعدم کا فسانہ ہے دنیا
علامہ اقبال کی شاعری روایتی شاعری نہیں،یہ نہ تو حسن،عشق ومستی،شاب وشراب کی ترجمانی کرتی ہے نہ ہی،غم اورمایوسی کادرس دیتی ہے۔آپ کی شاعری تو فکر کی شاعری ہے،پیغام کی شاعری ہے۔
علامہ اقبال کا ترامہ ملی نہایت مقبول ترانہ ہے جس سے دشمن سن کراکثر دانت پستے نظرآتے ہیں۔
علامہ فرماتے ہیں۔
چین وعرب ہمارا،ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں،ہم وطن ہے ساراجہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آسان نہیں ہمارا نام ونشاں مٹانا
علامہ اقبال مسلمانوں کو فکر کی دعوت بھی دیتے ہیں اورفرماتے ہیں۔
یوں توسید بھی ہو،مرزابھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو
وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
اورتم خوارہو ئے تارک قرآن ہو کر
مسجد میں نمازیوں کی کمی پر علامہ یوں گویا ہوئے۔
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
الغرض علامہ اقبال کا کلام دعوت فکر دیتا ہے،دعوت اثار قربانی بھی ان کے کلام میں بدرجی اتم موجودہے۔علامہ اقبال کئی کتب ہیں،جن میں بانگ درا،بال جبریل،پیام مشرق،جاوید نامہ،ضرب کلیم،خضرراہ ودیگر شامل ہیں۔
آج دنیا بھر میں علامہ محمد اقبال کا 142واں یوم پیدا ئش منایا جارہا ہے،آپ کا کلام آج بھی تروتازہ ہے۔دنیا آپ کو آج بھی یاد کرتی ہے آپ نے علیحدہ وطن کاخواب دیکھا۔آپ 9نومبر 1877کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور21اپریل 1938میں خالق حقیقی سے جاملے۔آپ آخری آرام گا ہ لاہورمیں واقع ہے۔




































