
محمد سمیع الدین انصاری
" ترقیاتی کاموں کےباعث شہرکابراحال ہے،جگہ جگہ کھدائی کی وجہ سے دھول مٹی اڑنا معمول بن چکاہے
جس کے شہریوں کی صحت پر نہ صرف برے اثرات مرتب ہورہےہیں بلکہ ڈرائیونگ کےدوران بھی مشکلات درپیش ہیں.
کئی علاقوں میں ٹریفک کانظام درہم برہم ہوکر رہ گیاہے ،جن میں لیاقت آباد، ناظم آباد،دستگیر،ایم اے جناح روڈ ،شارع فیصل سرفہرست ہیں،جہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوتی ہیں،وقت اور فیول کےضیاع کےعلاوہ آئے روز پیش آنے والے حادثات میں کئی شہری قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ مرنے والوں میں زیادہ تعداد موٹرسائیکل سواروں کی ہوتی ہے ،شہرمیں آئے دن گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے،لیکن یہ بات انتظامیہ کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ محدود اور خستہ حال سڑکوں پر ان کی آمدو رفت کیسے ممکن ہوپائے گی،جب سڑک اور راستے خستہ حالی کاشکار ہوں، سڑکوں کی مرمت تو دور کی بات اس پر چلنا دشوار بن گیاہو،بدترین ٹریفک جام میں منٹوں کاسفر گھنٹوں میں طے ہو ، دوسری جانب تجاوزات مافیا نے سڑکوں اور چوراہوں پر قبضہ جمایاہواہے،کوئی گلی اور سڑک ایسی نہیں چھوڑی جہاں راہگیروں کو آمدورفت میں آسانی ہو،مارکیٹوں میں سڑکوں کےاطراف ٹھیلے اور پتھارے جگہ کو تنگ کرکے ٹریفک کی آمدورفت دشوار بنادیتے ہیں، جنہیں رشوت کےعوض کھلی چھوٹ دیدی جاتی ہےکہ جس طرح چاہیں روڈ گھیریں اس پر قبضہ کریں ،تجاوزات کی صورتحال کااندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگاسکتے ہیں کہ پلوں اور فلائی اوور ز تک کو نہیں بخشاگیا،وہاں بھی یاتو پتھارے لگانے کی اجازت دے دی گئی ہے یاپھر غیر قانونی چارجڈپارکنگ کےذریعے افسران عیاشیوں میں مصروف ہیں ۔
اخبارات اور میڈیاپر خبرآنے پر معاملے کچھ دنوں کیلئے دب جاتاہے بعد میں پھر وہی بدترین صورتحال ہوتی ہے جہاں چارجڈپارکنگ کے نام پر کارندے شہریوں کا استحصال کررہےہوتے ہیں اور انہیں لگام دینے والا کوئی نہیں ہوتا،اندازہ کریں فی موٹرسائیکل 20روپے کےحساب سے وصول کیےجاتے ہیں چاہے آپ تھوڑی دیر کیلئے ہی کیوں نہ پارک کریں ۔اسی طرح گاڑیوں سے بھی 50سے 100روپے تک بٹورے جاتے ہیں ،ایسالگتاہے شہرمیں جنگل کاقانون ہے اور جس کی جو مرضی ہوتی ہے وہ کرگزرتاہے۔
تجاوزات کےحوالےسے عدالت کے واضح احکامات نظرانداز کردیے گئےہیں ،افسران رشوت خوری میں مصروف اور عوام سے رقم بٹورنے میں مصروف ہیں ،حالیہ دنوں میں کے ایم سی کے محکمہ چارجڈ پارکنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے وزیر بلدیات، سیکریٹری بلدیات، میئر کراچی اور میونسپل کمشنر کو اندھیرے میں رکھ کر توہین عدالت کا مرتکب بنادیا،پلوں اور فلائی اوورز کے نیچے ہر قسم کی تجاوزات ختم کرنے کے عدالتی احکامات کے باوجود لیاقت آباد ،ڈاکخانہ ،کریم آباد اور بلوچ کالونی فلائی اوور سمیت دیگر مقامات پر چارجڈ پارکنگ اور قبضہ مافیا سے ملی بھگت کرکے سرکاری سرپرستی میں تجاوزات قائم کرادیں،نئے آنے والے ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ نے اپنی گردن بچاتے ہوئے محکمہ انسداد تجاوزات کو کارروائی کیلئے لیٹر جاری کردیا ،میونسپل کمشنر نشاندہی کے باوجود لاکھوں روپے مبینہ کی لوٹ مار میں ملوث ضلع وسطی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت دیگر افسران و ملازمین کیخلاف قانونی کارروائی سے گریز کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق بلدیہ کراچی کے افسران نے اپنے ذاتی ریونیو میں اضافے کیلئے عدالتی احکامات کو بھی نظر انداز کررکھاہے ، محکمہ چارجڈ پارکنگ ضلع وسطی کے ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ عبدالحلیم سمیت بعض افسران نے میئر کراچی کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے پلوں اور فلائی اوورز کے نیچے چارجڈ پارکنگ نافذ کرا کر کے ایم سی میں چالان بھی جاری کرادیے ہیں جس پر بلدیہ کراچی کے محکمہ قانون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈپٹی ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ کا یہ اقدام میئر کراچی ، میونسپل کمشنر سمیت وزیر بلدیات اور سیکریٹری بلدیات کو توہین عدالت کا مرتکب بنانے کی سازش ہے،دلچسپ امر یہ ہے کہ سینٹرل کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے لیاقت آباد ڈاکخانہ پر مشہور گول گپے والے فلائی اوور کے نیچے پارکنگ کے نام پر فیملی روم بنانے کی بھی مبینہ طور پر اجازت دیدی ہے جس کے باعث قوانین مذاق بن کر رہ گئے ہیں،دوسری طرف مذکورہ سنگین صورتحال کا علم ہونے پر محکمہ چارجڈ پارکنگ میں نئے آنے والے ڈائریکٹر عبدالخالق نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پل اور فلائی اوورز کے نیچے الاٹ کی گئیں چارجڈ پارکنگ ختم کرانے کیلئے محکمہ انسداد تجاوزات کو لیٹر جاری کردیا ہے،تاہم تمام صورتحال کے باوجود افسران کیخلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے اس ضمن میں میونسپل کمشنر کا کہنا ہے کہ فلائی اوورز کے نیچے چارجڈ پارکنگز کے قیام سے وہ لاعلم ہیں اگر کسی جگہ ایسا ہوا ہے تو ملوث افسران کے خلاف کارراوئی کریں گے جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے جس پر کے ایم سی حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔




































