
زین صدیقی
کابینہ کا اجلاس جاری تھا،اے ڈی سی نے پوچھا ،”سر!اجلاس میں چائے سرو کی جائے یا کافی" ؟ قائداعظم نےچونک کر
سر اٹھایا اورسخت لہجے میں فرمایا یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کرنہیں آئیں گے"اے ڈی سی گھبراگیا۔آپ نے بات جاری رکھی اور فرمایا “جس وزیر نے چائے کا فی پینی ہووہ گھر سے پی کرآئے یا گھر واپس جا کر پئے۔قوم کا پیسہ قوم کے لیے ہے،وزیروں کے لیے نہیں“۔ اس حکم کے بعد جب تک وہ بر سرِاقتدار رہے،کابینہ کے اجلاس میں سادہ پانی کے سوا کچھ سرو نہیں کیا گیا۔
یہ اس قائد کا کردار تھا ،جنہوں نے قیام پاکستان کے لیے اپنا تن، من دھن لُٹا دیا۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے 76سال ہوگئے، قائد اعظم محمد علی جناح کا ہر قول سچا اورجذبہ بے لوث تھا۔وہ سچے لیڈر تھے،جنہوں نے کسی غرض کے بغیر ملک و ملت کی تعمیر کی ، پاکستان کے قیام کا عظیم ترین مقصد مسلمانوں کے لیےایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا ۔قائداعظم اسے مضبوط اور مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتے تھے ،لیکن ان کی وفات کے بعد سے آج تک پاکستان مخلص قیادت سے محروم رہا ہے۔ماضی کے ہرحکمران نے اپنا الوسیدھا کیا،ملکی خزانہ خالی کیا اور نو دو گیارہ ہو گیا،اقتدار میں رہ کو ہر سطح کےعہدے پر اپنی بھرپور پاور کا استعمال کیا کہیں۔ محکوم کو کچلا کہیں کہیں عوام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا گیا ،اپنے عہدے کے ذریعے اپنی ہر جائزوناجائز خواہش پوری کی ،جبکہ عوامی مسائل کونظراندازکر دیا گیا، یہی و جہ ہے کہ ہمارے وزیر ومشیر اورسیاست دان ارب پتی بن گئے۔عوام کو کوئی ثمر نہیں ملا ۔ ہر سیاست دان نےاقتدار میں آ کرکہا کہ وہ عوام کامخلص اورہمدرد ہے،مگروہی سب سے بڑا خائن اور جھوٹا نکلا ۔قائد اعظم محمد علی جناح کا درج بالا واقعہ حکمرانوں کے منہ پر تمانچہ ہے،جو بیرونی دوروں پر قومی وسائل کا بےدریغ استعمال کرتے ہیں، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کابینہ کے اجلاس میں چائے اور کافی کو بھی قومی خزانہ پر بوجھ قرار دیا ہے،مگر آج تو اجلاسوں میں طرح طرح کے کھانوں پراخراجات کیے جاتے ہیں جو قائد اعظم کے قول کی کھلی نفی کے مترادف ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح زیارت ہی میں ایک نرس کی خدمت سے بہت متاثر ہوئے اور اس سے پوچھا”بیٹی میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟“نرس نے عرض کیا”سر!میں پنجاب سے ہوں،میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے۔ میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کر رہی ہوں ،آپ میرا تبادلہ پنجاب کرادیں“،اداس لہجے میں جواب دیا”سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے۔گورنر جنرل کا نہیں ،قائد اعظم نےکبھی اپنے اختیارات سے تجاوز کیا نہ ہی عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا،بلکہ اس معاملہ میں وہ بہت واضح تھے۔دباﺅ ،سفارش ،رشوت کووہ سخت ناپسند کرتےتھے،اس کی مثال یہی کافی ہے کہ کوئٹہ کی رہائشی لڑکی نے ان سے اپنے تبادلہ کے لیے کہا تو انہوں نے صاف منع کردیا کہ یہ کام محکمہ صحت کا ہے میں گورنر جنرل ہوں۔
آج دنیا جانتی ہے کہ کون کتنے ناجائز اختیارات استعمال کر رہا ہے ،ہما رے حکمران تو ایسے بے شمار تبادلے منٹوں سیکنڈوں میں کروادیتے ہیں ،ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا،وہ پیسے اور اقتدار کے نشے میں دھت رہتے ہیں اور خود کو بڑا ایماندار اور نیک شخص تصور کرتے ہیں،جب قائداعظم گورنر جنرل ہاﺅس سے نکلتے تھے تو آپ کے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی جس میں صرف ایک انسپکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا۔یہ وہ وقت تھا جب گاندھی قتل ہو چکے تھے اور آپ کی جان کو سخت خطرہ تھا اوراس خطرے کے باوجود آپ بغیر سیکیورٹی کے کھلی ہوامیں سیر کرتے تھے، لیکن آج ہمارے حکمران خود کو غیر محفوظ تصورکرتے ہیں،آج وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ 40گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے۔ایک وفاتی وزیرکے ساتھ درجنوں پولیس اہلکار اس کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں کو اپنی عوام کی جانوں کی فکر کم اپنی زیادہ ہوتی ہے۔ہر وہ جس شخص جو جتنی بڑی طاقت رکھتا ہے اسے اتنا بڑا معتبرسمجھا جانا ہمارے ملک میں کمزوری بن گئی ہے۔
خالصتاً ایک اسلامی فلاحی مملکت ہی ہمارا خواب رہا ہے۔قائد اعظم بھی جمہوریت کے بڑے داعی تھے۔وہ ملک کو مظبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ بھی قوم کو ایک قوم دیکھنا چاہتے تھے،لیکن آج ہم فرقوں اور گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔قومی سوچ سے زیادہ ہماری سطحی سوچ ہماری زندگیوں میں کار فرما ہے۔
آج ہر سطح پر اداروں میں رشوت ستانی کا دوردورہ ہے۔میرٹ کی جگہ رشوت اور سفارش لے چکی ہے،کسی کا کوئی جائز کام آسانی کے ساتھ نہیں ہوتا،عزت دار اور شریف شہری تھانےمیں جائز کام کیلئے جانےسے بھی ڈرتے ہیں،الغرض ہر شعبہ میں خستہ حالی وبدحالی ہےجو پاک سر زمین کے حصول کے مقاصد اوراقبال کے خواب کا منہ چڑاتی نظر آتی ہے۔
ملک کو ترقی دینے کیلئے اسے ہمیں قائد اعظم کا حقیقی پاکستان بنانا ہوگا ،وہ پاکستان جو قائد اعظم چاہتے تھے۔اسی میں ملک کو ملت کی ترقی ممکمن ہے ۔




































