
اریبہ انصاری
کالج میں14اگست کا فنکشن زوروشورسے جاری تھا،نوجوان لڑکیاں سبز اورہرے دوپٹےکندھے پر لٹکائے چہکتی پھررہی
تھیں،ٹیچرز بھی مخملی صوفوں پربراجمان میک اپ سےسجے چہرے لیے ایک دوسرے سےخوش گپیوں میں مصروف تھیں ،ہر لب پر مسکراہٹ تھی ان سے پرے ویران نگاہیں لیے کھڑے ایک وجود پرکسی کی توجہ نہ تھی!
نوجوان طالبات پرجوش لہجے میں ایک سےبڑھ کر ایک تقریر پیش کررہی تھیں،سٹیج کے ایک طرف بڑی سی ٹرافی رکھی تھی،جوش و ولولے سے تقاریر پیش کرتی طالبات کی آنکھوں میں چاہت تھی تو صرف اور صرف وہ ٹرافی پانے کی،نہ کہ اپنی تقریر کے لفظ و معنی سامعین تک پہچانے کی ، کچھ لڑکیوں اور ٹیچرز نے چہرے پر سفید اورہرے رنگوں سے پاکستان کا جھنڈا بھی بنارکھا تھا،جو جذبہ حب الوطنی کی خاطر تو ہرگز نہ تھا،حلیمہ نے تاسف سے جھنڈاجہاں بناتھا وہ رخسار آگے کرکے سیلفی لیتے ایک طالبہ کو دیکھا!
ایک کاندھے پر لاپروائی سے جھولتا ہرا دوپٹہ ،سفید کرتی پرٹخنوں سے کافی اوپر چڑھا ہرا کیپری ،بے ساختہ آنکھوں میں نیلی چادر سر پر ڈال کر تندور پر روٹیاں لگاتا ایک وجود گھوم گیا،حلیمہ کی ماں ہاجرہ جسے دیکھ کر حلیمہ بچپن میں سوال کیا کرتی تھی کہ وہ تندور پر روٹیاں لگاتے وقت بھی اپنی چادر نہیں اتارتی،حلیمہ کا خیال تھا کہ چادر اتار کر اس کی ماں زیادہ پرسکون طریقے سے اپنا کام کرسکتی ہے،جواب میں کہے گئےاس کی ماں کے الفاظ آج بھی اسے یاد تھے." چادر عورت کی عزت ہوتی ہے میری گڑیا" اس کی ماں یہ کہہ کر مسکرا کر روٹیاں لگانے میں مصروف ہوجاتی مگر حلیمہ آج بھی اس جملے کی بازگشت اپنی سماعتوں میں محسوس کرتی تھی!
تقریری مقابلے کے نتیجے کا وقت قریب تھا ،طالبات میں سے کسی اے ،بی اور کسی نے سی گروپ کی جیت کا نعرہ لگایا،اسی دوران ایک ہاتھ بلند ہوا،ماسی حلیمہ کا، ججز کے اشارے پر ایک طرف کھڑی حلیمہ کو ما?ک دیا گیا ،جسے تھام کر وہ سٹیج پر آگ،ماسی کی گیارہ سالہ پوتی طیبہ جو کینٹین میں ان کا ہاتھ بٹاتی تھی،حیرت سے اپنی نانی کو سٹیج پر کھڑا دیکھ رہی تھی،طیبہ کے والدین ایک بس کے ساتھ لوٹ مار کی واردات میں ماردیے گئے تھے، شوہر کو وہ پہلے ہی کھوچکی تھی اب اکلوتی پوتی جو ان کا واحد خونی رشتہ تھی اس کے ساتھ مقامی کالج کی کینٹین میں فروخت کےلیے چائے و دیگر لوازمات بنانے کام کرتی تھیں،طالبات و اساتذہ سمیت ہرایک کی نظر اس وقت حلیمہ پر تھی جب جھریوں سے بھرے بوڑھے ہاتھوں نے ماسک منہ کے نزدیک کیا۔
میں ایک کہانی سنانا چاہتی ہوں، خاموش فضامیں تھکی ماندی آوازہلچل مچاگئی،ماسی حلیمہ خلامیں گھورتی ماضی میں کھوتی گئی۔
میری بات مان ہاجرہ، ماردے اسے،عزت کی موت تومرےگی،اگر دشمنوں کے ہتھے چڑھ گیا تو کیا ہوگا سوچا ہے؟
اپنے باپ کےمنہ سے یہ الفاظ سن کر حلیمہ کی آنکھیں خوف سے مزید بڑی ہوگئیں،ہاجرہ مسلسل نفی میں سرہلارہی تھی،نہ اکبر،میں کیسے ماردوں اپنے جگر گوشے کو،اندھیرےمیں لرزتی آواز ابھری،اکبر نے سر جھٹک کر کو? تیسری بار دیوار کے سوراخ سے گلی میں جھانکا،جب تک پاکستان نہ بن جاتا موت کی ہولی کھیلی جاتی رہنی تھی،کتنی گودیں سونی ہوئیں کتنے سہاگ اجڑے،کتنی عصمتیں لٹیں،گنتی مشکل تھی،ایسے میں اکبربیٹی کو ناپاک درندوں سے بچانے کی خاطر ماردینے کانہ سوچتا تو اور کیاکرتا؟ ایک مجبور باپ اور کربھی کیاسکتا تھا اس اندھیر نگری میں؟......
لیکن ممتاکےہاتھوں مجبورہاجرہ کے سختی سے انکار پر چپ ہوگیا،رات کے اس پہر کچھ مسلمان گھرانے فرارہونے والے تھے،اکبر بیوی بیٹی کو ایک ویران گھر کے بچھواڑے میں لیے منتظر بیٹھاتھا،صحیح سلامت اپنے ملک پہچنے کے خواب دیکھتا وہ لمحہ لمحہ قریب آتی موت سے ناواقف تھا،حلیمہ اور ہاجرہ کو چھپےرہنے کی تلقین کرتا باہر خبرگیری کونکلا ہی تھا کہ دشمنوں کےہتھے چڑھ گیا،کچھ دیر بعد کچھ مسلمان بچتے بچاتے وہاں سے گزرے جن میں ہاجرہ اور حلیمہ بھی شامل ہوگئیں یہ سوچ کر کہ شاید اکبر بھی اسی ٹولی میں ہو،ٹرین میں سوار ہونےسے قبل قدم ایک خون میں لت پت لاش پر پڑے تو ہاجرہ کو لگاآسمان ٹوٹ پڑاہو،اس کا شوہر لاشوں کے ڈھیر میں بےجان پڑاتھا،اس کے بعد بیٹی کی عزت بچانےکی خاطراسے کیچڑ اور کالک میں نہلاکر حلیہ بگاڑ کرہاجرہ پاکستان کیسے پہچی یہ الگ کہانی تھی،سالوں گزرگئے،باپ کےبعد ماں اور پھر شوہر،داماد،بیٹی چل بسے،زندہ رہی تو صرف وہ معصوم بچی،جسے آزادی سے پہلے یتیمی کا منہ دیکھناپڑاتھا،جس نے اس اندھیری رات میں اپنے باپ کے لفظوں میں موت کو محسوس کیاتھا ،جو ایک کہ بعد ایک رشتہ کھوتی چلی گئی تھی،سالوں کا سفر منٹوں میں طے کرکے بوڑھے سوکھے لب دوبارہ خاموش ہوگئی.....پورے ہال میں "ہو"کاعالم تھا۔
چند لمحوں بعد نم کانپتی آواز ہال میں دوبارہ گونج اٹھی!
نئی نسل کبھی آزادی کی اہمیت نہیں جان سکتی کیونکہ اس نے غلامی نہیں دیکھی،عورت کی چادر کی حفاظت،مسلمان کی آزادانہ عبادت کی خاطر قائداعظم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنایااور آج عورت نے ہی اپنی عزت، اس چادر کو سر سے اتار پھینکا،وہ مسلمان جو آزادانہ عبادت نہ کرسکنے کی وجہ سے علیحدہ ملک کا شوق جنون میں بدل کر اپنا خون تک بہاگئے،آج ان ہی کی نئی نسل نے آزادی کو عبادت کےبجائے جہالت کی نذر کرڈالا
حلیمہ کی آواز شدت غم سے لرز رہی تھی،ہاں ،پاکستان بنانے کے لئے میرے باپ سمیت نجانے کتنوں نے اپنی جان دی،پاکستان نے ہمیں کتنا کچھ دیا،پر ہم پاکستان کو "چودہ اگست" پر یہ تقاریب،نغمے اور "تقریروں"کے علاوہ کچھ نہ دےسکے،یا اللہ رحم ....رحم ہمارے پاکستان پر،اب تو ہی کچھ کر،مسلمان تو اب کسی کام کے نہ رہے،ہم تو سمجھتے ہیں منہ پر پاکستان کا جھنڈا بنا کر اور ملی نغمے گا کر پاکستان کا "حق" ادا کردینگے!
حلیمہ کے لفظوں سے زیادہ اس کادردناک لہجہ محسوس کرکے،وہاں موجود ہرایک دل "کانپ" اٹھاتھا!
نجانے اور کتنی حلیمہ جگر "تارتار" کرتادرد دل میں سما"اسلامی جمہوریہ پاکستان"اور نئی نسل کو برباد ہوتا دیکھ کر لمحہ لمحہ مررہی ہیں،کون جانتا تھا بھلا؟؟؟




































