
کرن وسیم
(حریم ادب کراچی)
ہرکسی کو یہ حقیقت بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کی سب سے بنیادی اور فطری ضرورتوں میں صنف مخالف سے قربت کا تعلق بھی شامل
ہے۔ اس ہی فطری جذبے کی مخالفت کی بنا پر تاریخ میں ایسے متعددخطرناک حوادث اور واقعات ملتے ہیں جس کی بنیاد اس فطرت کی نفی یا اس کی مقررہ حدود سے تجاوز رہا ہے،یہاں تک بعض لوگوں کا شخصی آزادی کا مطالبہ اس حد تک غیر فطری ہے کہ معاشرے کی اقدار پر تباہ کن زلزلے کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔۔
مستند اور قطعی رپورٹ اس چیزکی گواہی دیتی ہیں کہ دنیا بھر میں جب سے شخصی آزادی اور اسکے نتیجے میں بے پردگی بڑھی ہے اسی وقت سے طلاقوں میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، کیونکہ انسان میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے زندگی اور شریکِ حیات کا جو آئیڈیل بنا لیتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔لہٰذا اس تراشے ہوئے خاکے کو مجسم دیکھنے کی خواہش کسی مقام پر رکنے نہیں دیتی۔۔ ہمسفر کی خامیوں کو تحمل سے برداشت کرنے کی کوئ کوشش نہیں کی جاتی کیونکہ اطراف میں متبادل کی موجودگی اور خوبصورت بے پردہ چہروں کی بھرمار رشتوں کی مضبوطی میں بڑی رکاوٹ ہے۔۔
بے شک عصر حاضر میں جس کو بعض لوگوں نے عریانی اور جنسی آزادی کا زمانہ قرار دیا ہے، اور مغرب نواز لوگوں نے تو اس کو عورت کی حقیقی آزادی کا ایک حصہ قرار دیا ہے، لہٰذا ایسے لوگ پردہ کی باتوں کو سن کر منہ بناتے ہیں اور پردہ کو گزشتہ زمانہ کا ایک افسانہ شمار کرتے ہیں۔
لیکن اس آزادی اور بےراہ روی سے جس قدر فسادات اوربرائیاں بڑھتی جارہی ہیں اتنا ہی پردہ اورحجاب کی مسلمہ اہمیت کو واضح کرنےکی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ (بہت ہی معذرت کےساتھ)کیا کسی عورت کو سننے، دیکھنےاور لمس کرنے کی ازدواجی لذتیں تمام مردوں کے لئے ہیں یا صرف ان کے شوہروں سے مخصوص ہیں؟
عورتیں اپنے جسم اور خوبصورتی کی نمائش کے مقابلہ میں نوجوانوں کی شہوت بھری نگاہ اور آلودہ مردوں کی ہوس کا شکار بنیں یا انکی صنفی کشش اور خوبیاں شوہروں سے متعلق ہیں؟
مغرب نواز لوگ پہلے نظریہ کے قائل ہیں۔
مگر ایک صاف ستھراذوق رکھنے والا سمجھتا ہے کہ جنسی لذت اور دیکھنے،سننےاور چھونے کی لذت شوہرسےمخصوص ہےاس کے علاوہ دوسرے کے لئے گناہ، آلودگی اور معاشرہ کے لئے ناپاکی کا سبب ہے۔
فلسفہ حجاب کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز نہیں ہے، کیونکہ:
بے پردہ عورتیں بناؤ سنگھار اور دیگر زرق برق کے ذریعہ جوانوں کے جذبات کو ابھارتی ہیں جس سے ان کے احساسات بھڑک اٹھتے ہیں اور بعض اوقات نفسیاتی امراض پیدا ہوجاتے ہیں،انسان کے احساسات کتنے ہیجان آور وزن کو برداشت کرسکتے ہیں؟ کیا نفسیاتی ڈاکٹر یہ نہیں کہتے کہ ہمیشہ انسان میں ہیجان سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
معاشرے کا ہر فرد یہ چاہتا ہے کہ مسلمان مرد اور عورت چین و سکون کےساتھ زندگی بسر کریں اور ان کی آنکھیں اور کان غلط کاموں سے محفوظ رہیں
لیکن ”اس آزادی کے بازار“ میں جبکہ عورتیں عملی طور پرایک پراڈکٹ کی حیثیت رکھتی ہیں (کم از کم جنسی ملاپ کے علاوہ) تو پھر ان کے لئے میاں بیوی کا عہد و پیمان کوئی مفہوم نہیں رکھتا، اور بہت سی شادیاں مکڑی کے جالے کی طرح بہت جلد ہی جدائی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں، اور بچے بے آسرا ہوجاتے ہیں۔
یہ مسئلہ خصوصاً مغربی ممالک میں اس قدر واضح ہے جس کے لئےان آزاد معاشروں میں بھی اب اضطراب اٹھنے لگا ہے۔۔
عریانی،بے پردگی اورازدواجی تعلقات میں عدم توازن اس کے موثر عوامل اور اسباب میں سے ایک ہے۔
تربیتی دانشوروں کی تحقیق بھی اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جن کالجوں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے ہیں یا جن اداروں میں مرد اور عورت ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کو ہر طرح کی آزادی ہے تو ایسے کالجوں میں پڑھائی کم ہوتی ہے اور اداروں میں کام کم ہوتا ہے اور ذمہ داری کا احساس بھی کم پایا جاتا ہے۔
جب عورت جنسی کشش کی بنا پر ساز و سامان کی تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی ، انتظار گاہوں میں دل لگی کا سامان ہوگی اور سیّاحوں کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی تو معاشرہ میں اس کی حیثیت کھلونے یا بے قیمت مال و اسباب کی طرح گرجائے گی، اور اس کے شایانِ شان انسانی اقدار فراموش ہوجائیں گے، اور اس کا افتخار صرف اس کی جوانی، خوبصورتی اور نمائش تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔
اس طرح سے وہ چند ناپاک فریب کار انسان نما درندوں اور سرمایہ دارانہ نظام کی سرکش ہواو ہوس پوری کرنے کا آلہ کار تو بن جائے گی مگر نسلوں کی آبیاری کرنیوالی ماں اور بیوی کے خانے سے خارج کردی جائے گی ۔۔
ایسے کم فہم بے پردگی کے نمائندہ معاشرے میں ایک عورت اپنی اخلاقی خصوصیات، علم و آگہی اور بصیرت کے جلووں کو کیسے پورا کرسکتی ہے اور کوئی بلند مقام کیسے حاصل کرسکتی ہے؟
عورت کا اصل کردار اسے مستور رہتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے اور میدان میں اپنا آپ منوانے کیلئے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے مگر فطرت سے انحراف بہت تباہ کن نتائج رکھتا ہے جو آج شاید ہمارے سامنے مکمل طور پر نہ آئے ہوں مگر آئندہ نسلیں اس نقصان کا ازالہ کبھی نہ کرسکیں گی ۔۔۔




































