
عالیہ زاہد بھٹی
(حریم ادب کراچی)
"حجابی بچیوں سے اکثر میرا سوال ہوتا ہے کہ تم حجاب کیوں کرتی ہو؟"
جواب میں بہت سی توجیہات دی جاتی ہیں مجھے پسند ہے،تحفظ کا احساس ہوتا ہے, ہماری مذہبی اقدار میں حجاب شامل ہے یا خاندانی روایت ہے وغیرہ وغیرہ مگر ایک مرتبہ ایک بچی کے جواب نے مجھے چونکا دیا کہنے لگی
" یہ حجاب میری دنیا میں پناہ گاہ ہے اور آخرت میں جنت الفردوس میں داخلے کی چابی ہے"
میں نے کہا تو جو حجاب نہیں کرتیں کیا وہ جنت میں نہیں جائیں گی؟ اس نے اک بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا کہ
" یہ تو میں نہیں جانتی کہ جنت ملنے کے چانسز کن کن باتوں سے کم ہو جاتے ہیں مگر یہ پکا پکا پتہ ہے کہ حجاب اختیار کر لینے سے رب راضی ہو جائے گا اور معاف کر دے گا( سورہ احزاب آیت 59 کے حوالے سے) اور جنت میں داخلہ مل جائے گا دنیا میں بھی اسے اختیار کرنے پر نقصان تو کوئ ہوا نہیں عزت میں اضافہ ہی ہوا ہے بس میرا کام ہے اس کے وعدے کا یقین کر کے کام کرنا مجھے پتہ ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا"
اس کے انداز میں بلا کا تیقن تھا میں نے اور سوال کئے بنا اسے دعا دی کہ رب العالمین تمہارے گمان کے مطابق تمہاری دنیا و آخرت سنوار دے
میں نے اپنی زندگی میں بے شمار افراد سے بات کی ہوگی روز مرہ کی کتنی ہی باتیں ہیں جو ہوتی ہیں اور گزر جاتی ہیں حجاب کے حوالے سے عالمی دن بھی آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں بہت سے تحفے اس دن کے حوالے سے دیے اور لئیے خود بھی حجاب کو اختیار کیا اور دوسروں کو بھی ترغیب دی مگر اس لڑکی کے اس بظاہر سیدھے سادے سے جواب نے مجھے عجیب سی کیفیت سے دوچار کر دیا میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ کسی بھی کام کا کرنا یا ہونا ہے تو مشیت ایزدی مگر اس کام کو اختیار کرتے ہوئے میری نیت کیا تھی اور ہے یہ بہت اہم ہے میں عموماً بچیوں کو ہمیشہ حجاب کی ترغیب دیتے ہوئے معاشرے اور ارد گرد کی مثالوں کے ساتھ قرآنی آیات کے حوالے بھی دیا کرتی ہوں مگر میں نے اس بچی کے جواب کے بعداپنے دل سے بارہا پوچھا کہ
"کیا تمہیں اس حجاب کے اختیار کرنے پر اپنی مغفرت کا پکا یقین ہے؟ " میرا دل میری طرح ہی متذبذب تھا کہنے لگا
" ہاں حجاب بھی ہے مگر اوربھی بہت کچھ نماز ،روزے صدقے خیرات، سچائی دیانت سب کچھ ہوگا تو ہی جنت ملے گی ناں صرف حجاب ہی خالی تو نہیں ناں"
"بس یہی وہ نکتہ ہےجسے وہ چھوٹی سی بچی جان گئ اور نہ تم سمجھ پائے نہ میں"
یہ میرا دماغ تھا جو بیچ میں کود پڑا
" ہم ہر اک اچھا کام یہی سمجھ کربےدلی سے انجام دیتے ہیں کہ صرف یہی اک واحد جنت میں جانے والا کام تو نہیں ہے ناں اور بھی بہت سے کام ہیں"
میرے دل ودماغ میں عجیب سی کشمکش جاری تھی کہ اچانک میرے دونوں بیٹے عبداللّٰہ اور عبدالرحمن آپس میں کسی بات پر تکرار کرتے ہوئے کمرے میں آگئے اور میری سوچوں کا تسلسل ٹوٹ سا گیا میں ان کی سمت متوجہ ہوئی
" مما بڑی آپی نے کام کہے تھے سب الٹ پلٹ ہوگئے سب اس عبدالرحمن کی وجہ سے ہوا اس نے ،،،،،،،،"
چھوٹے صاحب نے بات کاٹی
" جی نہیں بھائی آپ کی وجہ سے ہوا میں کولر میں پانی بھر رہا تھا،،،،،،،"
عبداللہ صاحب کیوں پیچھے ہٹتے
" نہیں جی پودوں کو پانی بھی دینا تھا اور گیٹ کے باہرسے وائپر بھی لگانا تھا تم نے ایک بھ کام پورا نہیں کیا "
" وہ تو آپ نے بھی نہیں کیا سارے کام ادھورے ہیں"
اندر سے چھوٹی والی بیٹی نےآکرسارے پول کھول دیئے دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر اس بات پر زچ سے ہوگئےاورعبداللہ نے اصل بات بتائی
" اصل میں مما ! آپی نےہمیں ایک ساتھ اتنےسارے کام کہہ دیے تھےکہ ہم سےایک بھی پورا نہیں ہوا"
" میرے بچوں ماشاءاللہ سے بھرا پرا گھر ہےکام توایک ساتھ ہی آئیں گے اورسارے ہی کرنے ہیں مکمل کرنے ہیں آدھے ادھورے نہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر کام کو اہم ترین سمجھ کر اس طرح انجام دو کہ بس جیسے یہی کرو گے تو سب کام ہو جائیں گے تم لوگوں نے سمجھا کہ گیٹ سے باہر وائپر لگانا اہم ہے تو اس کو لگایا مگر یاد آیا کہ کولر بھرنا ہے اسے ادھورا چھوڑ کر وہ بھرنے لگے پھر احساس ہوا کہ ایک اور کام،،،،،،،،،،، تو اس ساری ہابڑ تابڑ میں کام ہونے کے بجائے خراب ہو گئے ہے ناں؟"
میں نے ان سے پوچھا تو وہ سر جھکا کر بولے
"جی مما جی ایسا ہی ہوا ہے"
میں نے پیار سے انہیں واپس بھیجا اور کہا
" جاؤ اور جاکر ہر ایک کام کو ون بائے ون ایسےکروجیسے بس یہی ایک کام ہے"
بچوں کو تو میں نے بھیج دیا مگر خود اس وقت سے بیٹھی یہ سوچ رہی ہوں کہ سوال بھی ہمارے قریب ہی ہوتے ہیں اور جواب بھی سامنے آ جاتے ہیں مگر ہم کاموں،ذمہ داریوں کو بوجھ سمجھ کر اپنے حصے کے کام بھی دوسروں کی ذمہ داری سمجھ کر یا تو چھوڑ دیتے ہیں یا پھر انہیں بے دلی سے آدھے ادھورے انداز میں کرتے ہیں کہ کہ حق ادا ہونا تو دور کی بات ہے کام مکمل بھی نہیں ہوتا
حجاب عورت کے کرنےکا وہ کام ہے کہ جسےدل کے پورے ثبات و یقین کےساتھ ہر عورت اپنی بخشش اور نجات کا واحد حل،راستہ اور ذریعہ سمجھ کر کرے تو وہ اس دنیا میں بھی کامیاب رہے گی اور آخرت میں بھی جنت کی حقدار قرار پائے گی اور ایسا ہو نہیں سکتا کہ حجاب میں ملبوس عورت اس کپڑے کے ٹکڑے کی حرمت سے آشنا ہواور ہوتی چلی جائے تو اس میں دیانت,امانت،صدق ، حلم و تدبر جیسی صفات نہ پیدا ہو سکیں نماز کو سمجھ کر جان کر مان کر قائم کرنےوالے جب ہدایت یافتہ بن جاتے ہیں اور ان کی نمازوں کے اثرات ان کی زندگیوں میں رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں تو پھر نظر جھکا کرچلنے والے اور پردہ کرنے والیاں بھی اگر ان کو اختیار کرتے وقت اس کے ثمرات کے تیقن میں جکڑے ہوئے ہوں تو کوئ وجہ نہیں کہ پھر کوئی ٹک ٹاکر اپنے آپ کو ریٹنگ کے لئے سڑکوں پر پیش کرے تو نظر جھکا کر رکھنے کے ثمرات سے آگاہ افراد اس پر اک نگاہ غلط انداز بھی ڈال سکیں
سو حجاب کو غض بصر کوصرف اختیار ہی نہیں کرنا بلکہ اسےزندگی کا واحد ابدی وحقیقی مقصود ومطلوب سمجھ کراپنی جنت کایقین ہونا لازمی ہے۔




































