
شہلا خضر
(حریم ادب کراچی )
حجاب " ہی کیوں ؟ بے حجابی تو آسان ہے "
ہمارا معاشرہ ہی کیوں ؟ مغرب بھی تو ہے "
دینداری کیا صرف حجاب ہے ؟ صرف اعلی اخلاقیات کافی کیوں نہی ؟
بے شمار سوالات بے حساب جوابات ۔۔۔۔
انسان کا ننھا دماغ اور انگنت الجھنیں ۔۔۔۔۔
کریں تو کیا کریں ؟ جائیں تو کہاں جائیں ؟
دل تو مچلتا ہے ۔۔ کہتا من مانی کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں روکیں سے دل کو '
کیوں نہ چلیں زمانے کے سنگ سنگ ۔۔۔۔کیوں دبائیں مچلتی امنگوں کو ؟؟؟؟
چلو آج بات کرتے ہیں اپنے ' پر وردگار کی شان کی ' اس کی چاہت اس کی امیدوں اور اس کی منشاء کی _
کیوں بنایا اپنے ہاتھوں مٹی کا پتلا اور پھونکی اپنی نوری روح ۔۔۔۔۔ اور کیا تھا اس نے سوچا ' کیوں بنایا اپنا نائب ؟
یقینا" اس رب ذولجلال نے تمام کائنات کو بہت فخر سے اپنی اس اچھوتی تخلیق کو دکھایا ہوگا ۔۔۔
اس مہربان شفیق ہستی نے اس انوکھی تخلیق کو دے کر"اپنی مرضی "کا اختیار اتارا اسے میدان کارزار میں _
زرا سوچیۓ کہ حجاب کا جزبہ موجود نہ ہوتا تو ابلیس کی چال کی کامیابی پر کیوں حضرت آدم اور بی بی حوا خود کو پتوں سے ڈھانپتے ؟
حجاب کی طرف ان کا میلان صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ پاکیزگی کا جزبہ ہے جو پرور دگار عالم کی کائنات میں سب سے عظیم الشان تخلیق ' کے اندر ابتداۓ آفرینش سے بدرجۀ اتم ودیعت کر دیا گیا تھا _
کائنات پر نظر دوڑائیں زمین کو آسمان کا حجاب میسر ہے ' میدانوں کو سبزۀ و لالہ کا حجاب دیا گیا ہے ، بیش بہا قیمتی جواہرات ہیرے موتی سونا چاندی سب کو پہاڑوں کی گہرائیوں کا حجاب ملا ' دنیا کے تمام پھل اناج ترکاریاں بیج کی صورت میں غلاف کے اندر باحجاب نشونما پاتے ہیں _ حیات بخش ابر کرم کی جادوئ طاقت کو بادلوں کا حجاب میسر ہے ' قیمتی موتی سیپ کے اندر ہی تخلیق پاتے ہیں _نسل انسانی کے تسلسل کا عظیم الشان مرحلہ بھی شکم مادر کے پردوں میں تکمیل پاتا ہے _
اس حجاب ہی کی طلب ہے جو انسانوں کو اپنی بودوباش کے لیۓ گھروندے بنانے پر اکساتی ہے ' اس جزبے کا ہی تقاضا ہے کہ دنیا کی آذاد خیال مغربی اقوام بھی اپنے روزمرہ کے معمولات کے دوران بالباس ہی رہتی ہیں ' حالانکہ بظاہر ان اقوام کے نذدیک فرد کو زاتی پسند نا پسند کا کلی اختیار حاصل ہے _ پھر وہ کون سا محرک ہے جو انہیں اس حجاب کا پابند رکھتا ہے ؟ انسانی جبلت میں حجاب کا تصور اور حجاب کی طرف اس کا جھکاؤ مسلم حقیقت ہے _
لباس میں حجاب کا رواج جسے موجودہ زمانے میں متناضع بنانے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے زمانۀ قدیم۔سے موجود تھا _ بابل ' یونان ' روم ایران حتی کے اونچی ذات کی ہندو خواتین بھی سر ڈھانپ کر گھروں سے نکلا کرتی تھیں۔قرآن کریم میں باحیا عورتوں کو قیمتی جواہرات سے تشبیہ دی گئ ہے _
نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے " تمہارے اور حق کے درمیان ستر ہزار نور وظلمت کے حجاب حائل ہیں " ہماری محدود عقل وسمجھ اس حجاب کے پیچھے انوار الہی کی لامحدود تجلیات تک رسائ حاصل نہی کر پاتی _ لیکن غافلوں کی آنکھوں کانوں اور دلوں پر ایک پردہ ہوتا ہے _ غافل دل پر غفلت کا تاریک حجاب اسے رب کی معرفت سے دور کردیتا ہے ' صرف تزکیۀ نفس ہی وہ واحد زریعہ ہے جوخالق کے تقرب کا باعث بناتا ہے _ایک مومن کی یہی شان۔ہے کہ وہ خود کو تاریک ظلمت کے حجاب۔سے نکال کر نور الہی سے فیض یاب کرے _
علامہ اقبال کا یہ شعر اس تناظر میں ہماری رہنمائ بہ خوبی ادا کرتاہے '
کافر کی پہچان ہے کہ أفاق میں گم ہے
مومن کی پہچان ہے کہ گم اس میں ہیں آفاق "




































