
رنگ نو
لیاقت علی خان جوقیام پاکستان سے قبل بھارتی پنجاب میں کرنال کی 360 گاؤں کی جاگیروجائیداد کے مالک تھے۔انہوں نوابی دور میں بھی کبھی
ایک لباس دوسری مرتبہ نہیں پہنا تھا.انگلینڈ جب پڑھنے گئے تو خادم، خان سامہ اور ڈرائیورتک ساتھ دیا گیا ان کی قیام گاہ میں کوئی کھائے یا نہ کھائے کھانا 50 سے 100 افراد کا کھاناروز بنا کرتا تھا۔
یہ شان تھی۔۔۔ پاکستان کا پہلا وزیراعظم بننےسے قبل خان لیاقت علی خان کی پاکستان کا قیام عمل میں آنے کےبعد ساری دولت و جائیداد عرض پاک پر لٹادی بدلہ میں اپنے وطن سے ایک انچ کا بھی کلیم نہ کیا۔
انہوں نے دہلی میں موجود اپنی کوٹھی بھی پاکستانی سفارت خانہ کوعطیہ کردی تھی۔ وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد آپ کی کل جائیداد دواچکن، پیوند لگی تین پتلونیں اور بوسکی کی ایک قمیص تھی حتا کہ وزیراعظم کیلئے مختص چینی کا کوٹہ ختم ہوجانے پر نواب خاندان پھیکی چائے پیا کرتا تھا۔
سولہ اکتوبر کو لیاقت باغ میں جب لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا تو آپ کےپاس اپنی ملکیت میں کوئی زمین نہ تھی۔ شہادت کے بعد لیاقت علی خان کی سادگی دیکھ کر دنیا حیران و پریشان رہ گئی تھی۔
شہید ملت کی اچکن کے نیچے پھٹی بنیان اورپاؤں میں سوراخ دارموزے تھےنہ کوئی بینک اکاؤنٹ نا کوئی جائیدا حتا کہ آپ کے کفن دفن تک کیلئے کوئی خرچ تک نہ تھا۔
یہ تھی نواب زادہ شہید خان لیاقت علی خان کی شان و شوکت جنہوں نے اپنا مال اسباب سب کچھ اس وطن کیلئے قربان کردیا تھا۔ﷲ پاک شہید لیاقت علی خان کے درجات بلند فرمائے۔




































