
عرفان عمر
کل کے واقعہ پر اتنا شدید ردعمل میرے لیے بڑا حیران کن ہے، ہم اتنی حیرت کا شکار کیوں ہو رہے ہیں، کیا کل جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا، ہم اپنے اطراف
میں روازنہ اس طرح کی سوچ کو پروان چڑھتا نہیں دیکھتے؟ ممکن ہے آپ کو نظر نا آیا ہو مگر ہم تو دیکھتے رہتے ہیں یا شاید مجھے ہی نظر آتا ہے جو شاید آپ سب نہیں دیکھ پاتے یا دیکھنا نہیں چاہتے، ہم نے جو بیمار سوچ و تعصب، نفرت و درندگی بوئی ہے وہی تو ہم کاٹ رہے ہیں اس میں اتنے تعجب کی کیا بات ہے؟
اگر ہم اپنے آپ پر کافر کافر کا غلیظ و مکروہ فلسفہ مسلط ہونے دیتے ہیں یا مسلط کرنے کو نظریہ ضرورت کے تحت قبول کرتے ہیں تو ایک کافر کو جہنم واصل کیے جانے پر ہم اتنی حیرت میں کیوں پڑگئے ہیں، جنہوں نے اس سری لنکن کافر کو جہنم واصل کیا ہے(بقول ان درندوں کے) وہ تو سب کہ سب سچے مسلمان و عاشق رسول و اہل بیت و اصحاب تھے یا ہونگے تو وہ بلا کسی بے گناہ یا بے قصور کو سر بازار تھوڑی ملکر مار مار کر زندہ جلائینگے، اس سری لنکن نے لازماً ایسا کچھ نا کچھ کیا ہوگا اسی لیے تو ان سینکڑوں عاشقان رسول(نام نہاد) نے اللہ اور اس کے دین کی حفاظت کے لیے کیا ہوگا شاید، مگر ایک بات مجھے سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ کیسا بزدل فلسفہ انہوں نے اپنا رکھا ہے کہ ان کی ہمت جب ہوتی ہے جب یہ کسی اکیلے یا کمزور انسان کو اپنا شکار بناتے ہیں وگرنہ انکے محلوں میں ہر وہ غیر اسلامی، غیر انسانی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام ہوتا ہے جن کے سامنے سے یہ بھیگی بلی کی طرح گزر جاتے ہیں، اس وقت انکی ہمت انکا جذبہ ایمانی، انکا جذبہ عشق رسول کہا چلا جاتا ہے؟ کیا ان میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اس ملک میں جاری زیادتیوں کے لیے بھی ہمت دکھائیں؟ کیا یہ ہمیشہ ایسے ہی نہتوں کو موت کے گھاٹ اتارتے رہیںگے؟
انکی ہمت جواب دے جاتی ہے جب ملک کا قانون روزانہ بنیادوں پر کمزوروں کو اپنے اس بوسیدہ و بدبودار نظام تلے روندتا ہے؟ کیا جب بے قصور باہمت نوجوانوں کا شہید کیا جاتا ہے تو یہ لوگ کیوں اس طرح طیش میں نہیں آتے؟
میں دین اور اسلام کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتا پر اتنا تو جانتا ہو کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلوں کو مسلمانوں سے زیادہ انصاف فراہم کرنا بھی اسلامی اقدار و شعار کا شیوہ ہے، مگر ہم تو بحیثیت قوم ہی مردہ ہو چکے ہیں، اسکی وجہ اس ملک کا گلہ سڑا بوسیدہ نظام ہے اور اس ملک کو تباہ و برباد کرنے والے اس نظام سے وابستہ طبقہ ہے جو اس ملک کو ایک کمپنی کے طرز پر گزشتہ سات دہائیوں سے چلا رہا ہے،اور اس کمپنی راج کو دوام بخشنے کے لیے انہیں اس طرح کے شدت پسند و جاہل طبقات کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اور دوسری طرف اسی طبقے نے اس ملک کے سیاسی و سماجی ڈھانچہ کو اتنا کھوکھلا کر رکھا ہے کہ اب انہیں وہاں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، دوسری جانب انہوں نے اس ملک کے عدالتی نظام کا وہ حال کردیا ہے جیسے کہ ایک نیم مردہ جسم،
ہمارا اجتماعی زوال یہ ہے کہ ایک نہتے کو مارا جارہا تھا جلایا جارہا تھا مگر ایسے دو چار لوگ بھی ہم نے پانچ سو افراد کے ہجوم میں بھی دو چار انسان نہیں چھوڑ رکھے جو کم از کم اس عمل کو روکنے کی کوشش کرتے، یا ممکن ہے کچھ افراد ہماری طرح سوچتے بھی ہوں مگر اتنی ہمت شاید نا ہورہی ہو کہ محض اس عمل کی مخالفت ہی کرنے کی کوشش کرتے، ممکن ہے انہیں خدشہ ہو کہ کہی انکے ساتھ بھی وہی سلوک نا ہو جائے!
ہم نے ایسا ایک تھانہ، ادارہ نہیں چھوڑ رکھا جوہمت کرتا اور آگے بڑھ کر ایسے غیر انسانی و غیر اسلامی عمل کو روک پاتا؟ اسلام کا نام جتنا ہم لیتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں شاید ہی کسی اور نے کھبی اسلام کو اتنا نقصان پہنچایا ہو جتنا ان جیسے جاہل درندوں نے نقصان پہنچایا ہے ہم مسلمان تو دور ہے پہلے انسان تو بن جائیں
ممکن ہے کل کوئی اسلام بچانے یا عشق رسول کہ شوق میں مجھے یا آپ کو ہی قتل کرنے کہ در پہ ہو۔۔۔




































