
مفتی محمد طاھرمکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی شوریٰ کے رکن اور نامور عالم دین ،خطیب ایشیاء حضرت مولانا سید عبدالمجید دندیم شاھ صاحب نور اللہ
مرقدھ 3دسمبر 2015ء جمعرات کے دن علیٰ الصبح 71 سال کی عمرمیں راولپنڈی کے ایک ھسپتال میں مختصر علالت کے انتقال کرگئے ۔
مولانا سیدعبدالمجید ندیم شاھ یکم جنوری 1941ء کو ملتان میں پیدا ھوئے اورگوجرانوالہ میں جامعہ صدیقیہ میں ایک جید عالم دین مولاناقاضی شمس الدین سے دورھ حدیث مکمل کیا ، اسکے بعد جامعہ بنوری ٹائون کراچی میں قائد تحریک ختم نبوت مولانا سید محمد یوسف بنوری سے دورھ تفسیرمکمل کیا ۔
اس کے بعد انہوں نے خطابت کے میدان میں قدم رکھا اس میں اللہ نے انہیں جو کامیابی عطاء فرمائی وہ تحریرمیں یا لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی ،یوں کہا جائے تو بے نہ ھوگاکہ انہوں نے ایک اپنا انداز خطابت نئے طور پر متعارف کروایا کہ سادھ الفاظ لیکن انتہائی ذومعنیٰ خطاب ، حد درجے کی فصاحت اور بلاغت رکھتے تھے ۔
مولانا سیدعبدالمجید ندیم شاھ صاحب انتہائی نفیس المزاج انسان تھے شکل میں کشش اور رعب رکھتے تھے ،شروع میں قائداعظم والی کیپ،پھرمختلف ٹوپیاں پہنتے ھوئے جوں ھی بزرگی آتی گئی ٹوپی پر عمامہ سفید رنگ کا پہنناشروع کیا جو آخر تک پہنے رکھا۔
انہوں نے سب سے زیادہ خطابات توحیدورسالت کے عنوانات پر کئے تھے اسکی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ جب انکی خطابت کا عروج عمل میں آیا تو امت مسلمہ کا کوئی ایک ایساخاص پلیٹ فارم نہ تھا جسمیں اتحاد امت کی بات ھوتی ھو بس ھر مسلک والادوسرے مسلک والے کی ٹانگ کھینچتااور کیچڑ اچھالتاتھا لیکن جوں ھی " متحدہ مجلس عمل " یا " آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت " معرض وجود میں آئیں تو علامہ سید عبدالمجید ندیم شاھ صاحب نے بھی اتحاد امت پر خطابات کئے جو اپنی مثال آپ تھے ۔
ان کی شیریں زباں کی مقبولیت کا اندازھ اس بات سے لگایا جاسکتا ھیکہ انہوں نے کبھی سندھی زبان میں تقریر نہیں کی لیکن اس کے باوجود سندھ میں بھی بمع تینوں صوبوں کے انکو جو پذیرائی ملتی تھی وہ قابل دید تھی ۔
انہوں نے تفیسر میں خاص دروھ کیا تھا اسی وجہ سے انکی " سورہ فاتحہ،سورہ یوسف ،سورہ مریم " وغیرہ پر خطابات ھیں اور عام فہم خطابات ھیں انکو عوامی سطح پر آج بھی پذیرائی حاصل ھے۔
میرا تعلق حضرت سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ھی پلیٹ فارم سے ھوا ، ایک بارھوا یوں کہ چنابنگر میں جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقدھوتی ھے اسمیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عظیم راھنماء بے شمار خداد صلاحیتوں کے مالک شہید ختم نبوت مفتی محد جمیل خان نے قائد تحریک ختم نبوت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد نور اللہ مرقدھ کے ھاتھوں سید عبدالمجید ندیم شاھ صاحب کی " اعزازی دستار بندی " کروادی اور اسکو عنوان یہ دیا گیا کہ " سید عبدالمجید ندیم شاھ صاحب نے پوری دنیامیں اپنی مسحورکن آواز کی دھاگ بٹھائی اور پوری دنیامیں اللہ اور اسکے رسول کےدین کو پہنچانے میں خوب محنت کی ھے اس اعتراف میں انکی یہ دستار بندی کی جارھی ھے " یہ دستار بندی انہیں اور زیادھ قریب لے آئی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پھرتو ھرسال باقاعدگی کیساتھ وہ چنابنگرختم نبوت کانفرنس میں تو آتے ھی تھے لیکن جہاں کہیں بھی ختم نبوت کی کانفرنس منعقدھوتی اور انکی صحت اجازت دیتی تھی ضرور تشریف لاتے تھے ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کیساتھ ساتھ حضرت ندیم شاھ صاحب جمعیت علماء اسلام کے بھی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے اور مولانا فضل الرحمان صاحب کا ان پر خاصااعتماد رھا اس طرح وہ دو ایسی جماعتوں کے رکن بن گئے جنکا تعلق آپ میں " چولی دامن " والا ھے ، ان دو جماعتوں کے علاوہ انکا کسی کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ھاں اللہ اور اسکے رسول کے دین کی تبلیغ کیلئے جو جماعت جہاں کہیں انہیں بلاتی کھلے دل کیساتھ جاتے کیونکہ انہیں " خطیب ایشیاء " کا لقب بھی ملاھواتھا صرف پاکستان ھی نہیں امریکہ، یورپ ،برطانیہ ، جنوبی افریقہ،بنگلہ دیش، انڈیا، برما،فلسطین سعودیہ،انڈونیشیا،چاپان ،ترکی،افغانستان میں بھی انہوں نے اپنی خطابت کے جواھربکھیرے۔
پاکستان کے ھر عالم دین یا شیوخ الحدیث انہیں عزت کی نگاھ سے دیکھتے تھے ۔
بس دنیا فانی ھے یہاں جو بھی آیاھے جانے کیلئے آیا ھے ، حضرت اماں عائشہ فرماتی ھیں ناں کہ اس دنیامیں اگر کسی کو رھنےکا حق ھوتا تو وھ محمد عربی ﷺ کی ذات ھے جسکے لئے دنیابنائی گئی ، لیکن جب وھ ﷺ بھی اس دنیا سے کوچ کرگئےتو پھر کون رھ سکتا ھے ؟
لیکن ایک یہ بھی حدیث ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ھیکہ "قرب قیامت میں علم اٹھالیا جائیگا علماء کے اٹھائے جانے کیساتھ ساتھ "تو یہ وھی ھورھاھے علماء جارھے ھیں دکھ ھوتاھے اللہ پاک انکو کروٹ کروٹ جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے ۔
جس سال شاھ صاحب کا انتقال ھوا اسی سال اکتوبرمیں چنابنگرمیں جو ختم نبوت کانفرنس ھوتی ھے اسمیں وہ قائد جمعیت کے ساتھ اسٹیج پر تشریف لائے اور انتہائی ضعیف ھوچکے تھے تو خطاب میں انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ " آثار بتا رھے ھیں کہ میں اپنا وقت پورا کرچکاھوں پچھلے دنوں جب دل آمادھ شرارت ھوا(یعنی دل کا دورہ پڑا)اور اسنے تھوڑی سی کروٹ لی،مجھے ھسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں پہنچادیاگیاتو میں سمجھا شاید روانگی کا وقت آگیا ھے ،اللہ کی شان ھیکہ پھرکچھ لمحات رعایتا مل گئے بونس کے طور پر اسلئے بس ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کو اپنی نجات اور اس حاضری کو آخری حاضری سمجھ کر آیاھوں " (سبحان اللہ ،اللہ اکبر ) اکتوبرمیں یہ الفاظ کہے اوراُسی سال یعنی03دسمبر 2015ء کو انتقال فرماگئے ۔




































