
شہلا خضر
دسمبرکےآغاز کےساتھ ہی پاک دھرتی کےدولخت ہوجانے کی یاد ہرمحب وطن شہری کےدل و دماغ پر چھاجاتی ہے _۔
وہ دسمبر کا ایک ایسا ہی سرد سیاہ دن تھا کہ پاکستان کا ایک بازو کٹ کر علیحدہ ہوا ۔ 16 دسمبر 1971 وہ تاریخ ہے جس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم محب وطن پاکستانیوں کے دلوں پر وہ گہرا زخم چھوڑا ہے جو شائید کبھی بھی بھر نہ پائے گا ۔۔"۔ریس کورس گرائونڈ ڈھاکہ" میں لاکھوں افراد کے سامنے جنرل نیازی نے بھارتی فوج کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالے ۔۔۔۔۔
مکار دشمن بھارت نے ایسی چالیں چلیں کہ مکمل ادراک ہونے کے باوجود بھی ہم اسکے مزموم عظائم پورا ہونے سے روک نہ پائے ۔۔۔
بھارت وہ ملک ہے کہ جس نے قیام پاکستان کو کبھی بھی کھلے دل سے قبول نہی کیا ۔۔۔۔۔" ۔اکھنڈ بھارت " کا خواب سجائے وہ ہمیشہ پاکستان کی تباہی اور بربادی کے لیے ہر طرح کی چالبازیوں سے کام لیتارہاہے ۔
ہماری بد قسمتی کہ ملک کی پرخلوص اور دیانت دار قیادت قیام پاکستان کے چند سالوں میں ہی راہی عدم سدھارگئے..اور بقیہ کو "غردار " کا تمغہ دے کر راستے سے ہٹا دیا گیا ۔۔اور ملک کی باگ دوڈ نااہل افراد کے ہاتھوں میں تھما دی گئ ۔۔۔
پاکستان کے پہلےصدر اسکندر مرزا بناۓ گئے ۔۔۔۔جو بدنام زمانہ غردار" میرجعفر " کےپڑ پوتےتھے ۔۔۔۔۔۔ اسکندر مرزا قیام پاکستان سے قبل انگریزحکومت کے ڈیفینس سیکٹری تھے ۔
اسی طرح فیلڈ مارشل ایوب خان کے والد بھی برٹش فوج کے آفیسر تھے۔
کٹھ پتلی حکمرانوں کی ڈوریں تقسیم ہند کے بعد بھی ان کے انگریزآقاؤں نے اپنے ہاتھوں میں تھامی رکھیں ۔۔۔
۔۔ابتدائ دور کے یہ حکمران انگریزی تعلیم اورانگریزسرکار کے افسر شاہی ماحول کے پروردہ تھے ۔انہوں نے کوتاہ قد ْ کم پڑھے لکھے اور انگریزی اور اردو سے نابلد مشرقی پاکستان کے شہریوں سے نو آبادیاتی جیسا سلوک روا رکھا۔۔۔ یہ حکمران انگریزوں کے شاہانہ مزاج اور رویے کی ہو بہو نقل کرتے تھے۔۔ اپنی علمی اور جسمانی برتری کے غرور میں اسلامی اخوت اور بھائی چارے جیسے سنہری اصولوں کو یکسر فراموش کر چکے تھے ۔
"بنگلہ "کو قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ بھارتی ایجنٹوں کی ساز باز سے دسمبر 1947میں ہی شروع کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔جب 1948 میں قائد اعظم نے اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا تو ۔۔اسکےخلاف" مجلس تمدن" ڈھاکہ نے باقاعدہ تحریک شروع کر دی ۔۔۔۔ لیکن نہ جانے کیوں اور کیسے قومی زبان قومی یک جہتی سے بھی زیادہ اہم ہو گئ ۔۔۔ جس وقت نوزائیدہ مملکت بے شمار مسائل کا شکار تھی عین اسی وقت لسانیت کے مسلۓ کو چھیڑ نا شدید انتشار کا پیش خیمہ ثابت ہوا ۔۔۔۔ مشرقی پاکستان کے نوجوان طلبہ اس احتجاجی مہم میں ایندھن بنے ۔۔۔ نوجوانوں کے جوش وجزبےسے فائدہ اٹھا کر انہیں اس تحریک میں ہراول دستہ بنا لیا گیا ۔۔۔ ۔۔اور بلآخر 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایک احتجاجی جلسے پر پولیس نے مشتعل ہو کر فائرنگ کر دی ۔۔۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں کئ طلبہ کی ہلا کت کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ۔اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا . بظاہر معمولی دکھنے والا تنازع بڑھتے بڑھتے ملک کو دو ٹکروں میں تقسیم کر دینے کا محرک بنا ۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد لسانی مسلۀ کسی بڑی سازش کے تحت چھیڑا کیا گیا تھا ۔حالانکہ بھارت میں بے شمار زبانیں بولی جاتی تھیں پر ان کی قومی زبان ہندی سے کسی کو کوئ پریشانی نہی تھی ۔۔۔ ۔۔لیکن پاکستان کی نو خیز مملکت کو جڑ سے اکھاڑنے کے ارادے سے ہمارے ملک میں لسانی مسلۀ کو ہوا دی گئ ۔۔۔۔۔۔
ایک طرف قومی زبان پر جھگڑا اور دوسری طرف اختیارات اوروسائل کی تقسیم کے جھگڑے ۔۔۔شمالی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں کے درمیان سرحدوں کے ساتھ ساتھ دلوں میں بھی دوریوں کا پیش خیمہ بنے ۔۔
مشرقی پاکستان کے شہریوں کو مغربی پاکستان سے بد ظن کرنے کے لیے سازشی عنا صر نے مکاری سے جال بچھائے ۔۔جب اسلام آباد کو دارلحکومت بنایاگیا اور اس شہر کی تعمیر کی گئی تو نا اتفاقی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ "شیخ مجیب الرحمن" نے کہا کہ" مجھے اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی ہے "
مشرقی پاکستان کے شہری اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ مغربی پاکستان ان کی زرخیز زمین کی پیداوار سے حاصل شدہ تمام منافع اپنی تعمیر وترقی پر لگا رہے ہیں۔۔ان الزامات میں کسی حدتک سچائ بھی تھی۔اس وقت مشرقی پاکستان میں ۔سرمایہ کاری کی شرح تقریبا" 16 فی صد جبکہ مغربی پاکستان میں یہ بہاؤ 75 فی صد تھا ۔ مغربی پاکستان کی سرکاری نوکریوں اور فوج میں مشرقی پاکستان کا تناسب آبادی کے مقابلے میں بہت کم تھا ۔۔مشرقی پاکستان کے گنے چنے فوجی ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے ۔۔۔
لیکن یہ بھی صریح حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے 1943 کی بد ترین قحط سالی نے مشرقی پاکستان کو زبردست جانی اور مالی نقصان پہنچایا تھا اور جب آزادی ملی تو مشرقی پاکستان معاشی بدحالی کا شکار تھا ۔اس کے برعکس مغربی پاکستان بہت بہتر وسائل کے ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں سبک رفتاری سے گامزن تھا ۔
اس کے علاوہ ون یونٹ کےنفاذ سے 54 فیصد مشرقی پاکستان کی آبادی کو 44 فیصد مغربی پاکستان کے برابر قراردے دیا گیا ۔
ہمارے ناعاقبت اندیش اور کم بصیرت حکمرانوں کے پے درپے غلط فیصلوں نے غلط فہمیوں کو متنازعہ بنا دیا ۔1956 کا آئین جمہوریت پسند عوام کے لیۓ ایک امید افزاء فیصلہ تھا۔۔۔ مگر جلد ہی 1958 میں ایوب خان نے مارشل لاء کے ذریعے اسے معطل کر دیااور ملک کو ایک بار پھرسیاسی عدم استحکام کا شکارکر دیا ۔
فوجی اور سیویلین نوکریوں میں مشرقی پاکستان کے افراد آٹے میں نمک کے برابر ہونے کی وجہ سے ان میں احساس محرومی اور غم و غصّہ بڑھتا رہا
۔بلآ خر حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج" عوامی لیگ نے ایک زیلی مسلحہ تنظیم " مکتی باہنی کے نام سے قائم کی۔
"مکتی باہنی " کے لاکھوں نوجوانوں کوفوجی اور گوریلا ٹریننگ بھارت نےدی ۔بھارتی پارلیمنٹ میں" مکتی باہنی " کی مکمل حمائیت اورامدادکا بل منظور کر لیا گیا ۔۔۔۔۔
1965 کے صدارتی انتخابات میں جمہوریت کی علمبردار اور تمام غیرآئینی اقدامات کے خلاف آوازاٹھانےوالی "مادر ملت " محترمہ " فاطمہ جناح" کو سرکاری مشینری کے زریعے ہرا دیا گیا ۔۔۔اور انہیں بھی "غردار " اور انڈیا کا ایجنٹ قراردے دیا گیا ۔
6جنوری 1968عوامی لیگ کے لیڈر"مجیب الحمن "
کو "اگرتلہ سازش کیس" میں گرفتار کر لیا گیا ۔
اس کے بعدمشرقی پاکستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔اور دباؤمیں آکر مجیب الرحمن کو رہاکرنا پڑا ۔اس گرفتاری اور پھر رہائی کے بعد مجیب الرحمن مشرقی پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر بن گۓ ۔ااور انہیں بنگلہ بندھو ( بنگالیوں کا دوست) کے نام سے پکارا جانے لگا ۔
1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران تقریبا" تمام تر وسائل مغربی سرحدوں کی حفاظت پر لگادیۓ گۓ جبکہ مشرقی بارڈر کی حفاظت کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ۔۔۔
ملک کی تاریخ کے پہلےعوامی انتخابات 1970 میں منعقد ہوئے جس میں مشرقی پاکستان کے مڈل کلاس کے نمائندہ "شیخ مجیب الرحمٰن" بھاری اکثریت سے جیت گۓ ۔۔۔ مغربی پاکستان سے وزارت عظمٰی کے جاگیر دار گھرانے کے امیدوار " زولفقار علی بھٹو "نے شکست قبول کرنے سے انکارکردیا ۔۔۔بھٹو کا رویہ جارحانہ تھا ۔وہ جلد از جلد اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے ۔انہوں نے" ادھر پم ادھر تم "کا نعرہ لگا کر مشرقی پاکستان سے بے زاری اورلا تعلقی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔
جبکہ آپسی اختلافات سے فائدہ اٹھا کربھارتی ایجنٹوں نے مشرقی پاکستان کےشہریوں کو ملکی قیادت کےخلاف مکمل طور سے بد ظن کر دیا تھا ۔۔۔۔
الیکشن کے فوراً بعد ہی مشرقی پاکستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔مکتی باہنی نے بہار کے اردو زبان بولنے والے مہاجرین کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا ۔۔بے شمار گھروں کو آگ لگادی اور ہزاروں خواتین کی عزتیں بھی پامال کی گئیں۔۔کرمی ٹولہ کی فوجی چھاؤنی کا محاصرہ کر لیا گیا اور فوجیوں کے اہل خانہ کی اشیاۓ خورونوش کی فراہمی روک دی گئی ۔۔
جنرل یحیی خان نے تصفیۓ کے لیے مجیب الرحمن سے ڈھاکہ میں مزاکرات کیۓ ۔۔ان مزاکرات میں مجیب الرحمن نے مشہور چھ نکات پیش کیۓ ۔۔پر یہ مزاکرات ناکام رہے ۔یہ چھ نکات اگر تسلیم کر لیۓ جاتے تو مشرقی پاکستان خود بخود ایک آزاد اور خود مختار ریاست میں تبدیل ہوجاتا ۔۔۔۔
ابھی یہ ہنگامے جاری تھے کہ 23 مارچ یوم پاکستان کے روز مشرقی پاکستان نے یوم سیاہ پارلیمینٹ پرکالا پرچم لہراکریوم سیاہ کے طور پر منایا ۔اور اپنی آزادی کا اعلان کر دیا ۔۔۔۔۔
حالات کو قابو سے باہر جاتا دیکھ کر 25 مارچ 1971 کے دن جنرل یحیٰی خان نے فوجی کریک ڈاؤن "آپریشن سرچ لائٹ" کے نام سے شروع کر دیا ۔بھارتی فوج بھی اب اس جنگ میں شامل ہو گئ اور مشرقی پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا ۔ حالانکہ اقوام متحدہ کےچارٹرکی رو سے پڑوسی ممالک کے امور میں مداخلت کرناجرم شمار ہوتاہے۔۔لیکن بھارت نےہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور بین الآقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں ۔۔۔
یہ کریک ڈاؤن 9 ماہ جاری رہا ۔۔بے گناہ شہری بھی مارے گئے اور بلآ خر پاکستانی کمانڈر جنرل نیازی نے ہائی کمان کے مشورے کے بغیر 16 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈال دیۓ ۔۔
بھارتی خفیہ ایجینسی "را" کے سابق چیف "بی رامن" نے اپنےایک مضمون "بنگلہ دیش کی آزادی میں "را" کا کردار " میں لکھا کہ
" را " کو زمہ داری دی گئ تھی کہ وہ خفیہ تربیتی کیمپس میں بنگلہ علیحدگی پسندوں کو عسکری ٹریننگ دیں اور مغربی پاکستان کی فوج کے خلاف جھوٹے مظالم ڈھانے کی خبریں پھیلا کرعوام کو ان سے بد گمان کر دیں " ۔
قیام پاکستان کے محظ 24 سال کے اندر پاکستان دولخت ہوا ۔۔۔بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے فخر سے کہا " آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی سو سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا اور نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا "
آئین کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر جمہوریت کے پودے کو پنپنے نہ دینے کے لیۓ غہر ائینی ہتھکنڈے استعمال کرنا اور جاگیر داروں اور بیوروکریسی کا ملکی سیاست پر قبضہ یہ وہ بڑی وجوہات ہیں جنہیں" تقسیم پاکستان" کا اصل محرک کہا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ دیگر اہم وجوہات میں بیرونی سازش بھارتی مداخلت اورمشرقی پاکستان کی محرومیوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے ۔۔
آج جبکہ "سقوط ڈھاکہ " کےسانحے کو بیتے 49 سال ہوچکے ہیں ۔۔۔۔
کیا ہم نے اپنی تاریخ کےاس بدترین شرمناک سانحےسے کچھ سبق حاصل کرنےکی کوشش کی ؟؟؟؟
کیا ہم نے اپنے بیچ موجود کالی بھیڑوں کوپہچاننے اور ان کی بھر پور سرکوبی کرنے کی کوشش کی؟؟
کیا ہم نے فروہی مسائل کو نظر انداز کر کےملکی سالمیت اور ملکی یکجہتی کو فروغ دینا شروع کیا ؟؟؟؟؟؟
کیا صوبوں میں وسائل اور اخراجات کی تقسیم کارکو انصاف کےاصولوں پر قائم کرنے کی کوشش کی ؟؟؟؟؟
کیا ہم نے صاف شفاف الیکشن کروانے اور اس کے نتائج کو کھلے دل سے قبول کرنے کی روایت قائم کی ؟؟؟؟؟
اگر جواب ہاں میں ملیں تو اس پھر ہمیں اللہ کاشکر اداکرناچاہیۓ کہ ہم ایک غیور اور دور اندیش قوم ہیں ۔جو اپنی تاریخ سے سبق سیکھ کر بہتر تابناک مستقبل کے لیۓ کوشاں ہیں ۔۔۔۔
اور اگر جوابات نفی میں ہوں تو اس سے زیادہ دکھ کی بات نہی کہ اپنی" مادر وطن " کو دو ٹکروں میں تقسیم ہوتا دیکھنے کے بعد بھی ہم غفلت میں ڈوبے رہیں ۔۔۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی غافل سلطنتیں کیسے تباہ وبرباد ہوکر قصۀ پارینہ بن گئیں ۔۔۔۔
عزیز ہم وطنوں! جب اس بار دسمبرمیں سقوط ڈھاکہ کا نوسٹیلجیا آپ کوگھیر لے تو ۔۔۔۔۔۔ اپنے آپ سے عہد ضرور کریں کہ ہم اپنے وطن کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑ دیں گے ۔۔۔۔اور اپنی یک جہتی اور اتحاد کے دھار سے ہر دشمن کو نیست و نابود کردیں گے ۔۔۔۔۔




































