
عائشہ بی
سقوط ڈھاکہ کے بارے میں جب جب سوچھا تو دل تھام کررہ گئی ۔ وہ زخم! اف میرا دل سوچھوں میں ڈوب گیا ۔ میری
روح زخموں سے چور چور ہوگئی ۔ یہ تاریخ کی مکروہ داستان لکھتے ہوئے میرا دل اور ہاتھ تھر تھر کاپنےلگتا ہے ۔ جب قوم کا منافقت ، دھوکہ دہی ، بد دیانت ، جھوٹ وطیرہ بن چکا ہو تو ایسا ہی حادثات پیش آتے ہیں ۔ اف آج وہ سقوط ڈھاکہ کی غضب ناک داستان کو بہتے ہوئے خون کے دریا میں ڈوبو کر لکھوں یا پھر آنکھوں سے بہتے ہوئے خون کے آنسوؤں کو سیاہی بنا کر ڈھاکہ کا غم لکھوں ! میرا دل چاہتا ہے کہ یہ جان لیوا دکھ کا احساس اپنی مسلمان قوم کی دلوں میں بھی اتار دوں ۔۔۔۔۔ ! ایک مسلمان ہونے کےناطے" مشرقی پاکستان " کی جدائی صرف پاکستان کا غم نہیں ہے بلکہ یہ عالم اسلام کے لئیے دکھ کا باعث ہے ۔
ہمارے مشرقی پاکستان ، ہمارے کٹے ہوئے بازو کےزخم، ہمارے سنہری سر زمین ، جن کی گھنیہری بہترین چھاو تلے مسلمان امن و سکون کے ساتھ بہترین زدگی گزار رہے تھے ۔ جو اپنےشمع آزادی کو روشن چراغ بنا کر رکھا ہوا تھا ۔ ان پر امن مسلمانوں کے اجسام میں پاک باز نوجوانوں کا خون گردش کرتا تھا ۔ جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑ کر سرزمین پاکستان کا بہترین تحفہ حاصل کیا تھا ۔ پاکستان کی آزادی کی حفاظت کیلئے مسلمانوں نے اپنی بہترین نظرانے پیش کیے تھے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ ہندوؤں کی عیاری ، منافقت ، چالبازی اور انگریزوں کی عیارانا اور شاطرانہ چالوں اور اپنوں کی ریشہ دوانیوں سے وقوع پذیر ہوا ۔۔۔۔۔۔
بدقسمتی سے ہمارے عیاش حکمران خشامد پرست اور غدارانہ ذہنیت کےحامل مشیر، دشمن کے پھیلائے ہوئے جال میں مقید ہو گئے اور بنگلہ دیش کا بیج بو دیا گیا۔زندہ ہمیشہ وہی قوم رہتی ہےجو اپنے مذہب اور معاشرتی اقدار کی پاسبانی کرے اس کے گرد ایک ایسا حصار قائم کرتی ہے جو باطل نظریے کے حامل افراد کو مداخلت کا موقع فراہم نہیں کرتا-
روس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں بھارت کا پورا پورا ساتھ دیا اور امریکہ ہماری بربادی کا تماشہ دیکھ کر خوش ہوتا رہا۔
حکومت کے ایوانوں کی آنکھوں کو ڈالروں کی چمک دھمک نے اندھا کر دیا تھا۔ یہ لوگ نہ صرف آنکھوں کےاندھے تھے بلکہ دلوں کے بھی اندھے ہو چکےتھے افسوس ! یہ لوگ عیاشیوں میں اتنے غرق ہوچکے تھے کہ اپنے عقیدے تک کھو چکے تھے، جو اسلامی نظریہ پاکستان کی بنیاد تھے۔ ان سب کی دھجیاں فضا میں اڑا دی گئی۔ اسلام سے دوری کی وجہ سے مسلمانوں کی وحدت پر ضرب لگا دی گئی۔ دشمن کے مقاصد پورا کرنے کے لیے مشرقی ہمسایہ حرکت میں آگیا۔ اسلامی دشمن عناصر اور غداروں نے انہیں قوت پہنچائیں یہاں تک کہ پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا۔
16دسمبر1971ء کو پاکستان ایک عظیم سانحے سے دوچار ہوگیا۔ پاکستان کودو ٹکڑے کرنے میں دشمنان اسلام نے بڑھ چڑھ کر اہم کردار ادا کیا۔ جنرل نیازی نے اپنی شکست تسلیم کر لی، اس منظر کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے آسمان ٹوٹ جاتا، زمین شک ہو جاتی۔۔۔۔۔ ! آج مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کی کہانی تاریخ کا حصہ نہ بنتی، جب مسلمانوں کا مذہبی اور قومی غیرت کا جنازہ نکالا جا رہا تھا تو ، اس دوران جنرل یحییٰ خان رنگ رلیاں منانے میں مصروف تھا، ایک اقتدار میں ایسی کمزوریاں پائی جائیں تو ان کی قوم کے لیے شکست ہی شکست ہے۔۔۔۔۔۔
زندہ قوم وہ ہے جو ہمیشہ اپنے مذہبی، ملی اور معاشرتی اقدار کی پاسبانی کرے۔ ایمان کی قوت باطل کے فولاد کو کاٹنے کی قوت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔ " اللہ تعالی سب کو ایمان کی دولت سے مالا مال کر دے"۔۔۔۔۔۔ آمین ثمہآمین آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔۔????
" پھول لےکر گیا آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنےکا یارا نہیں
قبر اقبال سے آرہی تھی سدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارہ نہیں "۔
گلشن اقبال




































