
طیبہ علی
السلام وعلیکم
میرے ہم وطنوں، امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ میرا نام عافیہ ہے میں شہر قائد میں پیدا ہوئی۔ میں اس ملک کی بیٹی ہوں لیکن افسوس کوئ مجھے بیٹی ماننے کو تیار نہیں۔ میری کتھا کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب 2003 میں مجھے کراچی ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا گیا میری فلائٹ نکل چکی تھی لہذا میں اب گھر کو جا رہی تھی راستے میں مجھے میرے تین بچوں سمیت نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا، جب مجھے ہوش آیا تو میں بگرام جیل میں بند تھی۔ میں امریکہ کی نامور جامعہ ایم آئی ٹی کی طالبہ تھی۔ میرا مستقبل بیت شاندار تھا اور میں بہت ہونہار تھی، میں قابل اور ذہین سائنسدان تھی لیکن میں بدنصیب بھی تھی
میں 18 برس سے جیل میں ہوں میری قید جو لگ بھگ 6800 دن ہوگئےہیں مجھ پرجیل میں اتنےمظالم ڈھائے کہ میں اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھی۔ بگرام جیل سے چند ماہ بعد مجھے امریکہ کی کسی ہائ کلاس جیل میں منتقل کردیا گیا، آج کل وہی میرا مسکن ہے۔ میرے دو بچوں کو کچھ عرصے بعد پاکستان بھیج دیا گیا لیکن میرے چھوٹے بیٹے کو میرے سامنے ظالموں نے زمین پر پٹخ کر ختم کر ڈالا۔ میری ممتا تڑپ گئی۔ میں نہیں جانتی میرا جرم کیا ہے!؟ ہاں مجھے ٹارچر کے دوران بتایا گیا کہ می القاعدہ کی مددگار ہوں اور یہ میرا جرم ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں امریکہ تعلیم حاصل کرنے گئی تھی شاید یہی میرا جرم تھا مجھے امریکہ نہیں آنا چاہیے تھا یہ میری بربادی کے دور کا آغاز تھا۔ میری والدہ اتنے برسوں سے میری راہ تک رہی ہیں اب تو وہ بستر مرگ پر ہیں، وہ میرے لیے تڑپتی ہیں اورمیں اپنے بچوں کیلئے میری بہن فوزیہ صدیقی دن رات میری رہائ کے لیے اعلیٰ حکام کے پاس دھکے کھاتی ہے کوئ شنوائی نہیں ہوئی۔ حاکموں کے سینے میں دل نہیں ہے نا اور اگر دل ہے تو دردِ دل نہیں ہے، ضمیر مردہ ہے ۔ میری یہاں قید کے دوران امریکہ میں کئی حکمران تبدیل ہوئے یہاں کا آئین ہے کہ جب بھی حکومت بدلے گی جانے والا حاکم جاتے جاتے جیلوں میں بند بے گناہ قیدیوں کی رہائی کے کاغذات پر دستخط کر جاتا ہے میری میرے گھر والوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اس کے لیے الگ طریقے کارہے،جس میں میرے ملک کے موجودہ سربراہ کو معافی نامے کی درخواست پر دستخط کرنے ہوتے ہیں افسوس میرے حاکموں نے بار بار یہ مواقع ضائع کیے، میرے ملک میں جب بھی عام الیکشن ہوتے ہیں سیاسی جماعتوں کے سربراہ ایک ڈھکوسلا میری قوم کو میری رہائ کا بھی دیتے ہیں۔
اس دفعہ تو فوزیہ نےعمران خان کو ووٹ بھی اس لیے دیا کہ اسے اس کے دعوؤں می کچھ سچائی نظر آئی اب 3 سال ہوگئے اسے اقتدار میں یہ وعدہ بھی ردی کی نذر ہوا میرے گھر والوں نے دنیا کی ہر عدالت میں دستک دی، مہنگے سے مہنگا وکیل پیروی کیلئے کروایا اب تو میرے گھر والوں کے پاس کوئی چیز نہیں بچی، فوزیہ نے اپنا سارا قیمتی زیور میری رہائ کے اخراجات پر لگا دیا۔ میری والدہ ضعیف ہوگئی ہیں اللہ سے ملاقات سے قبل مجھ سے ملنا چاہتی ہیں مجھ پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ سننے والوں کے کلیجے دہل جائیں۔ کبھی میرے چہرے پر گرم کافی ڈال کر کھلوایا جاتا ہے، کبھی ذہنی اور جسمانی تشدد۔ کبھی قرآن مجید کی بے حرمتی پر مجبور کیا جاتا ہے اور اب تو انجکشن سے میرا دماغ بھی ماؤف کرتے ہیں۔ میں اتنے برسوں سے کسی محمد بن قاسم کی للکار کے انتظار میں ہوں میں جس قوم کی بیٹی ہوں اس نے مجھے لاوارث اور بے آسرا چھوڑ دیا۔ کسی نے میری رہائ کے لیے آواز بلند نہ کی ساری قوم ایک غل غپاڑہ میں مگن ہے۔ ٹرک کی لال بتی کے پیچھے بھاگ رہی ہے ۔ اوہ میں بھول گئی کہ میں غیر ضروری شے ہوں ۔ میری قابلیت، ذہانت کی اس قوم کو ضرورت نہیں۔
میں سائنسدان تھی مجھے مشرف نے قیدی بنا دیا۔ جی ہاں مشرف میری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے اس نے مجھے ڈالروں کے عوض امریکہ کو بیچ دیا۔ امریکہ انسانی حقوق کی علمبرداری کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے اس کا منہ بولتا ثبوت میں ہوں ۔ مجھے شکوہ اپنی قوم سے ہے جو کلمہ گو ہے جس کے مذہب کی تعلیمات کے مطابق،: "ظالم کے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہے جو لوگ ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اللہ کا عذاب انہیں بھی لے ڈوبتا ہے" میں اپنے ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہی ہوں مجھے 86 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عمران، زرداری، نواز سب اللہ کے عذاب کی گرفت میں آئیں گے کیونکہ انہوں نے میری والدہ سے میری رہائی کے وعدے کیے اور پھر جب یہ طاقت میں تھے تو میری رہائی کو پس پشت ڈال دیا میرا سوال میری قوم سے ہے۔ آپ سب کے گھروں میں بھی ایک عافیہ ہوگی؟ میں بھی کسی کی ماں ہوں، بیٹی ہوں۔ میری ممتا ترس گئی۔ میرے بچے ماں کو ترس گئے ہیں اگر آپ کی عافیہ کے ساتھ یہ سب کچھ ہو تو آپ برداشت کریں گے؟ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں نا جی پھر مجھے کیوں برباد کیا؟ مجھے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ملالہ امریکی ایجنٹ ہے یہودی آلہ کار ہے اسے گولی لگنے پر اتنا پروٹوکول دیا گیا ، کیا میں اس قوم کی بیٹی نہیں؟ ملالہ نے بھی میرے حق میں آواز بلند نہیں کی یہ 22 کروڑ عوام مل کر بھی مجھے رہا نہ کرا سکی۔ آپ سب امریکہ کی ذہنی غلامی قبول کر چکے ہیں لیکن میری روح آزاد ہے اور آپ کا دماغ قید ہے اور میرا جسم ۔ فرق سوچ کا ہے!!
فقط
آپ سب کی بے حسی کا شکار عافیہ




































