
عروہ احمد
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کشمیری اپنی زندگی کتنی مشکلوں سے بسر کر رہے ہیں ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ کتنا دکھ بھرا ہے اس
کے ساتھ ساتھ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوؤں نے آج تک کتنے کشمیریوں کا قتل عام کیا ہے؟ کتنے کشمیری پر تشدد اور تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ کشمیر میں سالوں پہلے الیکشن ہونے والا تھا جس میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ کشمیری ہندوستان میں رہیں گے یا پھر مسلمانوں کے ساتھ پاکستان میں رہنا پسند کریں گے۔ یہ بات تو ممکن ہی نہ تھی کہ کشمیری ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کرتے، لیکن ہندوؤں کی چالبازیوں اورسازشوں کی وجہ سے یہ الیکشن آج تک نہ ہو سکا اور اس واقعے کوگزرے ہوئے آج 75 برس گزر چکے ہیں وہاں پر آج بھی گذرنے والا ہر لمحہ کشمیری عوام کیلئے اذیت ناک ہے۔ لیکن آج تک کشمیریوں نے ہمت نہ ہاری، ہندوؤں کے آگے سر نہیں جھکایا اور وہ جام شہادت نوش کرنے کےلئے ہر دم تیار ہیں۔ آج بھی کشمیر پاکستان کا حصہ بننے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔
بحیثیت پاکستانی ہماری ذمہ داری ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی تحریک میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ کشمیر کے لئے قائد اعظم کا فرمان ہے کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" کشمیری عوام اس خطے کی آزادی کے لیے مسلسل اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں لاکھوں کشمیری اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ ان کی زبان پر ایک ہی جملہ ہے اور اسی جملے سے میں اپنی تحریر کا اختتام کرنا چاہتی ہوں " کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ ان شاءاللہ




































