
تحریر:عظمیٰ پروین
معاشرتی اورسماجی تبدیلیوں کا سب سےبڑانشانہ خاندان کاادارہ ہے۔بدلتےحالات اورٹیکنالوجی کی جدت نےآج کےوالدین اوراساتذہ
کونئےچیلنج سےدوچارکیاہے۔ والدین ہی پہلی ہستی ہوتےہیں جن کوبچے نمونہ بناتےہیں۔بچےکاذہن کیمرےکی طرح ہوتا ہےجوہرچیزکومحفوظ کرتاہے۔ہم ماضی کی طرح بچوں کوکنٹرول تونہیں کرپائیں گےلیکن انکی تربیت اس طرح کرسکتےہیں کہ وہ درست اورغلط میں تمیزکر سکیں اورذمہ دارانہ رویےکے حامل بنیں۔
ترجیحات کاتعین:؛نوجوان طبقے کی دین سےدوری نےہرصاحب دانش کوفکرمندکررکھاہے۔سب سےبڑامسئلہ یہ ہےکہ اکثر والدین کی ترجیحات واضح نہیں ہوتیں اوربچےاپنی سمجھ کےمطابق منفی یامثبت اقدار جذب کرلیتےہیں اوروہ ان کی شخصیت کاحصہ بن جاتی ہیں۔ والدین کی توجہ،محنت اور حکمت کےباعث میڈیااورمعاشر
ےسےبہت سی منفی اقدارجوبچےسیکھتےہیں فلٹرہوسکتی ہیں۔
والدین کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیےکہ وہ بچوں میں اللہ کی محبت اوراسی کاخوف پیداکریں۔انھیں شعوردیں کہ دنیاکی ہرچیز اللہ کےاحاطہءعلم میں ہے۔اسکی قدرت ہرچیزپر حاوی ہےاوروہ سترماؤں سےبھی بڑھ کرمحبت کرنےوالاہے۔اپنے بچوں کواللہ کی کتاب سے جوڑیں۔قران کی تفھیم کےلیے روزانہ کچھ وقت مخصوص کریں۔اپنی اوربچوں کی زندگیوں کوقران کےمطابق ڈھالنےہی کومقصد زندگی بنالیں۔
بچوں کواس بات کاشعوردیں کہ اسلام کےاحکام تحفظ اورآسانی کی ضمانت ہیں نہ کہ بےجاپابندیاں۔
خوشگوارخاندان؛:گھرزندہ احساس وجذبات رکھنےوالوں کا مسکن ہوتاہے۔باہمی قربت،محبت اورگرم جوش تعلقات کی ڈوری میں بندھاہوا خاندان ہی بچوں کی تربیت اورکامیابی کےلیے میدان ہموارکرتاہے۔والدین جوکرتےہیں بچےاسکودیکھتےاور جذب کرتےہیں۔والدین جب بچوں سےاحترام اورمحبت پرمبنی گفتگو کرتےہیں توبچے محبت،احترام اوراچھے تعلقات قاءںم کرناسیکھتےہیں۔والدین کو چاہئے کہ بچوں کی غلطیوں کو نظراندازکرکےانکی خوبیوں پر توجہ دیں۔جب بچےاپنےمتعلق مثبت باتیں سنتےہیں توانکااپنی ذات اورصلاحیتوں کےمتعلق مثبت تصوربنناشروع ہوتاہے۔ایسےبچےاعتماداورذمہ داری کا مظاہرہ کرتےہیں اورمایوسی کاشکارہوۓ بغیربڑے حادثات پر سنبھل جاتےہیں۔جوبچےمحبت بھرےماحول میں پرورش پاتے ہیں اگربطورسزاوالدین انھیں نظراندازکریں تویہی سزاانکے رویےکودرست کرنےکےلیےکافی ہوتی ہے۔
میاں بیوی کےخوشگواراور پرجوش تعلقات بچوں کی نفسیاتی اورجذباتی نشوونما پر سب سےزیادہ اثرانداز ہوتےہیں۔ پورےخاندان کااکٹھےوقت گزارنا ایساخوشگوارتجربہ ہےجسکی یاد کبھی انسان کےذہن سےمحو نہیں ہوتی۔یوں بچےسماجی مہارتیں بھی جلدسیکھ جاتےہیں
والدین ہربچےکوبوسہ دیں، مصافحہ کریں،اس کوجسم سے لگاءیں۔یہ تمام چیزیں بچوں کے لیےآکسیجن کی طرح ہوتی ہیں اوربچوں کو یہ احساس ملتاہے کہ وہ والدین کےلیےبہت اہم اور قیمتی ہیں۔بچوں کےساتھ مل کر کھیلنابھی جذباتی وابستگی میں اضافےکاباعث بنتاہے۔
کامیاب والدین وہی ہیں جن کے پاس بچےارام محسوس کریں نہ کہ تنگی۔بچوں کاوالدین کےپاس بیٹھنااوربات چیت کرناانکے لیے خوشگوارتجربہ ہوگاتووہ والدین سےقریب ترہوجائیں گے۔ایسے بچےدوستوں کےدباؤ یاترغیب کےباعث بری عادات کا شکارنہیں ہوتےلیکن اگربچہ کوئی بری عادت سیکھ بھی جائے توابتدائ مرحلےپراسکاترک کروانااسان ہوتاہے۔
جولوگ اپنےبوڑھےوالدین کی بھرپورخدمت کرتےہیں۔انکے چڑچڑےپن اوربےجامطالبات کے باوجود صبروتحمل کادامن تھامےرکھتےہیں انکی اولادبھی انھیں کبھی تنھانہیں چھوڑتی۔
بےجاسختی بچوں کےنقطہءنظر یااحساسات کاخیال رکھےبغیر احکامات بچوں کےجذبات اورذہنی صحت کےلیے خطرناک نتاءںج کےحامل ہوتےہیں۔کچھ والدین ہرمعاملے میں اپنی مرضی مسلط کرتےہیں اور مسلسل مداخلت اورتفتیشی انداز اختیار کرتےہیں۔چیخ وپکار ڈانٹ ڈپٹ اورمارسےسیکھنےکا عمل کم ہونے لگتاہے۔اس طرح بچےکی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔وہ والدین کےپاس اکتاہٹ محسوس کرتاہے۔دھمکی یاسزاکا طریقہ بچوں میں تعاون کی صلاحیت اورامادگی پیدا نہیں کرتابلکہ مایوسی اوربےبسی کے احساسات کوپروان چڑھاتا ہے۔بعض بچےبڑےہونےپربغاوت اختیار کرلیتےہیں۔
بہت سےوالدین یہ سمجھتے ہیں کہ ہرلمحہ اصلاح اورغلطیوں کی نشاندہی کی جاۓتاکہ بچےمثالی رویے کےحامل بنیں۔یہ رویہ بچوں کی شخصیت کوکمزورکر دیتاہے،نۓ کام اورنئ مہارت سیکھنےمیں رکاوٹ بنتاہے۔بچہ رسک لینےسےگبھراتاہےاورزندگی کی دوڑمیں پیچھےرہ جاتاہے۔
بعض اوقات بچے بہت تھکےہوئے یاپریشان ہوتےہیں یابعض والدین دوسروں کےسامنےہی لیکچرشروع کردیتےہیں۔دونوں صورتوں میں بچےکاردعمل منفی ہوگا۔پھروالدین بچےکاغصہ تودیکھ لیں گےلیکن اسکےپیچھے چھپے ہوۓ محرک کوتلاش کرنے میں ناکام رہیں گے۔یوں بچےاور والدین دونوں کی پریشانی میں اضافہ ہوتاہے۔درست تشخیص آدھا علاج ہوتی ہےاسکےبعد معاملےکودرست سمت میں ڈالنا اسان ہوتاہے۔پرسکون اندازمیں سننےکی مہارت اختلاف کےحل میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
بچوں میں یہ خیال توضرور پختہ کرناچاہئے کہ والدین کی اطاعت اورانکےساتھ حسن سلوک ضروری ہے۔لیکن ہربچے کی صلاحیتیں،دلچسپیاں اور خیالات دوسرےسےمختلف ہوتے ہیں۔لھذاوالدین کوبچوں کی پسند ناپسند کااحترام کرناچاہئے تاکہ انکی قوت فیصلہ مضبوط ہو۔ کھلونوں،سٹیشنری،کپڑوں اورجوتوں کی خریداری میں بچوں کو انتخاب کاموقع دیں۔ گھرمیں بننےوالےکھانوں کےمعاملےمیں بھی بچوں کی راۓ کومدنظررکھیں۔جب ہم بچےکی پسندوناپسندکااحترام کرتےہیں توبچہ بھی دوسروں کی راۓ کااحترام کرنا سیکھ جاتاہے۔یہ مہارت انےوالےدنوں میں اسکےلیےمفیدثابت ہوتی ہے۔
بعض اوقات بچہ باربار کوئ ڈیمانڈ کرتاہےاوروالدین انکارکردیتے ہیں۔پھرجب بچہ چیختاچلاتاہےتووہ جان چھڑانےکےلیےمطالبہ پوراکردیتے ہیں۔یوں بچےنےیہ سیکھاکہ بات منوانےکےلیےچیخ وپکاراورشور شرابہ کافی اہمیت رکھتاہے۔ دراصل والدین کوہرروزایسے فیصلےکرنےہوتےہیں جوبچوں کے نقطہٴ نظرسےپسندیدہ نہیں ہوتے۔والدین اپنےلہجےکو پرسکون اورمضبوط رکھیں محبت اورمضبوطی کاطریقہ ہی
سب سےزیادہ مفیداورمؤثرہے۔
تاحیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےبچوں کےساتھ شفقت، نرمی اورتحمل کارویہ رکھااورامت کوبھی اسکی تاکید کی۔ البتہ بعض مقامات پر سختی کابھی حکم موجودہے۔سزا تو دراصل اینٹی بایوٹک ادویات کی طرح ہے۔شدید بیماری میں کبھی کبھارانکااستعمال مفید ہوتاہےلیکن باربارکےاستعمال سے بچہ کمزورہوتاچلاجاتاہے۔حد سے زیادہ سختی بچوں کو والدین سے باغی کردیتی ہے۔ کسی عالم نے کیا خوب کہا تھا کہ" اپنی اولاد سے محبت کرو اور اس کے قریب رہو،ورنہ کوئی غیر اس کے قریب ہوکر اسے آپ سے دور کردے۔




































