شبنم شبیر
حضرت آدم اوربی بی حوا جنت میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں دن رات ہنسی خوشی میں گزر رہے ہیں جنت باغات سے بھری
ہوئی ہے آسمان و زمین کی وسعتوں کے برابر درختوں سے جنت بھری پڑی ہے لیکن اللہ نے صرف ایک درخت کا پھل کھانے سے روکا اور شیطان نے اسی درخت کے پھل کو کھانے کی خواہش کو دل میں جنم دیایعنی جس کام سے اللہ نے منع فرمایا ہو شیطان کا وار وہیں ہوتا ہے پھر اسی خواہش کی بدولت ان کے ستر کھل گئے اور وہ اپنا جسم پتوں سے ڈھانپنے لگے روز اول سے ہی شیطان کا انسان پر پہلا حملہ اس کی حیا پر ہوا ہے حیا دراصل دل میں پیدا ہونے والی وہ جھجھک ہے جو کوئی گناہ کرتے ہوئے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے جب جذبہ حیا دل میں ماند پڑ جا تا ہے تو برائی انسان کے لئے قابل قبول ہوتی چلی جاتی ہےاور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اسے گناہ گناہ نہیں لگتااللہ کی نافرمانی نافرمانی نہیں لگتی اور پھر برائی برائی نہیں لگتی
لفظ حیا :حیات سے نکلاہےیعنی زندگی حیا وہ جذبہ ہے جو مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہےجس کی موجودگی سے عبارت ہےاور اگر حیا نہ ہو تو آپ موت کے برابر ہیں
رسول نےفرمایا
جب تم میں حیا نہ رہے توجو چاہے کرو
اسی طرح معاشرہ سےجب حیا ختم ہوجائےتومعاشرہ کیا منظر پیش کرتا ہےcairoمیں کی گئی ریسرچ کے مطابق دنیا بھر میں 88فیصدشادیاں جو شادی سےقبل کی محبت کی بنا پراستوار ہوئی ہیں
ناکام ہوتی ہیں اور جبکہ جو شادیاں اسلام تعلیمات کے مطابق سرانجام پاتی ہیں ان میں 78 فیصدافراد میاں بیوی کی حثیت سے ایک کامیاب زندگی گزارتے ہیں
حقوق نسواں کے علمبردارعورتوں کی صفات میں سے حیا کا خاتمہ کرنے میں موئثر انداز میں کامیاب رہے ہیں جس کے نتیجے میں آج کی خواتین کے خلاف جرائم اور زیادتیوں کے بڑھتے رجحان سے دیکھا جا سکتا ھے
A return to modesty -Wendy shalit
اس کا حل وہ حدود ہیں جو ہمارے رب نے نبی آخروزماں کے ذریعے ہم تک پہنچا دی ہیں غض بصر (بری نظر )ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک ہے
رب کائنات کا فرمان ہے جو شخص مجھ سے ڈر کر اسے چھوڑ دے گا میں اسے اس کے بدلےایسا قیمتی ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا
اس لئے ستر کی حفاظت ہماری اولین زمہ داری ہے
عورت کا ستر چہرےاورہاتھوں کے علاوہ پوراجسم ہے
حدیث مبارکہ ہے
کسی عورت کے لئےجو اللہ اوریوم آخرپرایمان رکھتی ہو جائزنہیں کہ وہ اپناہاتھ اس سے زیادہ کھولے یہ کہ کر آپ نے اپنی کلائی کے نصف حصے پر ہاتھ رکھا
ستر جسم کے اس حصے کو کہتے ہیں جس کا دھانکنافرض ہےسترکی یہ حدود نا محرم اور محرم رشتہ داروں کے سامنے ہوگی
سورہ الاعراف64
اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس اس لئےاتاراہےکہ تمہارے جسموں کوڈھانپ دے اورتمہارے لئے زینت کا ذریعہ بنے
جو عورتیں لباس پہن کر بھی بے لباس رہیں اور دوسروں کو ریجھائیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کر کے چلیں وہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ جنت کی خوشبو کو پا سکیں گی
لباس چست نہ ہو جھلکنے والا نہ ہو مردوں سے مشابہت نہ کرے
اپنی آواز اور گفتگو میں احتیاط رکھیں اگر تمہارے دل میں اللہ کا خوف ہےتو دبی زبان سے بات نہ کرو جس شخص کے دل میں بد نیتی کی بیماری ہو وہ پھر تم سے امید وابستہ کرے گا بات کرو تو سیدھے سادے طریقے سے کرو
مخلوط ماحول معاشرے میں خرابی کا باعث بنتا ہے
حضرت عبداللہ بن عمر کا کہنا ہے کہ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نےمنع فرمایا کہ ایک مرد عورتوں کے درمیان چلے
ایک مرتبہ حضور نے حضرت فاطمہ سےپوچھا بیٹی عورت کی سب سے اچھی صفت کونسی ہے؟حضرت فاطمہ نے جواب دیا عورت کی سب سے اعلی خوبی یہ ہے کہ نہ وہ کسی غیر مرد کو دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اس کو دیکھے
اللہ کے رسول نےفرمایا
بے حیائی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے عیب دار بنا دیتی ہے اورحیا جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت دیتی ہے کیا میں چاہوں گی کہ میری شخصیت میں عیب ہوایسا عیب جیسے رسول اللہ نے نہ پسند فرمایا ہو تو پھر کیوں نہ اس زینت حیا کو اپنایا جائے جو مجھے پاکیزہ خوبصورتی عطا کرتی ہے رسول اللہ نے فرما یا ہے اللہ تمہارے جسموں کو تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا وہ تمہارے دلوں کو اعمال کو دیکھتا ہے آئیں اپنی نیتوں کے پیمانے بدلیں ظاہری خوبصورتی کے بجائے قلب و روح کی خوبصورتی کو اہمیت دیں تا کی آج کی حفاظت ہمیں کل روز حشر میں رسوا ہونے سے بچا لے اور رب کائنات کی نظر میں سب سے خوبصورت ٹھرائی جاوں بلکل ویسے جیسے قرآن ہمیں چھپے موتی قرار دیتا ہے آخر میں اس دعا کے ساتھ
اے اللہ میرے نفس کو پرہیز گاری عطا کر اسے پاک کر تو ہی اسے بہتر اور پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا نگران اور آقا ہے.
آمین




































