
شگفتہ وسیم
اردو جس کے معنی'' لشکر '' کے ہیں۔
جو عربی، فارسی،ہند ی،سنسکرت اردو اور ترکی زبانوں کا مرکب ہے۔
25 فروری ہماری اردو زبان کا دن ہے اور قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے ہماری قومی زبان قرار دیا۔ دنیا میں وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنا علم،فنون فنون لطیفہ،سائنس اور ٹیکنالوجی،ثقافت اور تجارت صنعت کے لیے اپنی زبان رائج کرتی ہیں۔ یہ آپ کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔دنیا میں وہی ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک ہی ترقی کررہے ہیں جو اپنی زبان کورائج کیے ہوئے ہیں۔جیسے چائنا،جاپان،روس جرمن،فرانس،برطانیہ اور امریکا ہیں۔
ہمیں 73 سال ہو گئے ہیں۔ برطانیوی راج سے آزادہو ئے مگر ہم اب بھی انگریزی زبان کے غلام ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں، دفاتر، عدالتی اور تجارتی داروں کی زبان انگریزی ہے،لیکن ان اداروں میں اردوابھی تک اپنی جگہ نہیں بنا سکی۔
انگریزوں کے پاک وہند میں آنے سے پہلے یہاں کی زبان فارسی تھی جو مغل بادشاہوں کی زبان تھی۔انگریزوں نے یہاں حکومت سنبھالنے کے بعددفتری اور عداالتی زبان انگریزی کرد ی اور یہی زبان مسلمانوں کی تنزلی،غربت،غلامی جہالت اورگراوٹ کا سبب بنی۔
قیام پاکستان سے پہلے اردو ہماری قومی زبان ہے،ہندی نہیں،یہی نعرہ تھا۔ سر سید احمد،علی برادران اردو کی ترویج کے لیے اخبار اور رسالے اس زبان میں شائع کرتے۔صحافت کے بانی اور ترقی دینے والے شاعر اس زبان کے لیے تو الگ ریاست کا مطالبہ کرہے تھے۔مگر آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم نے اپنی تہذیب وتمدن کے بجائے انگریزوں کی پیروی کرنی شروع کردی،ہجرت اور اتنی قربانیاں دینے کا متبادل انگریزی زبان ہے تو آزادی کا مقصد لاحاصل ہی رہاہے۔
آج ہم لوگ انگلش پر فخر کرتے ہیں۔انگریز کی زبان، لباس اور طریقہ تعلیم پر فخر محسوس کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے تو اسے اپنی ''مدر ٹنگ ''کا درجہ دے رکھا ہے۔
ان پڑھ، گونگے اور بہروں کیلئے بھی اردوابلاغ سب سے زیادہ موثر ذریعہ ہے۔
اردواسلامی تہذیب وتمدن، ترقی اور نشونما کے لیے ہمیں اس زبان سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ اردو زبان کو صحیح معنوں میں عروج دینے کیلئے اسے تعلیمی اداروں اور سرکاری طور پر ہرمحکمے میں لازمی رائج کیاجائے۔
ہمیں اردو زبان کے استعمال پر فخر ہونا چاہیے۔نوجوانوں اورنئی نسل کو اس سے آراستہ کرنا چاہیے،اس زبان پر فخر ہونا چاہیے جسے ہمارے عظیم قائد نے قومی زبان قرار دیا۔




































