
ثمرین عالم
لوگ کیا کہیں گےاس جملے کی بازگشت ہروقت ہمارے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔آج انسان اس نہج پر ہےکہ وہ کوئی بھی کام کرنے سےپہلےاس کام کا
انجام سوچنے کے بجائے یہ سوچتا ہےلوگ کیا کہیں گے؟ یہ جملہ صرف جملہ نہیں رہا بلکہ نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔کوئی اپنے لباس میں تبدیلی چاہتا ہے اس ڈر سے نہیں کرپارہا ہوتا کہ ہے کیا لوگ کیا کہیں گے.
زندگی کی کچھ ضروریات ایسی ہوتی ہیں جو ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ ناگزیر بھی ہوتی ہیں .پردہ ہم سب مسلمانو پہ فرض ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے’’ الحیاء من الایمان‘‘ حیاء قبیح اور بُرے کاموں سے بچنے کو کہتے ہیں جن کو کرگزرنے سے انسان نادِم و پشیماں ہو۔ حیاء ہمیشہ خلاف شرع کاموں سے انسان کو روکتی ہے اور اسی وجہ سے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاء کو ایمان کا ایک جز قرار دیا اور جو حیاء دار ہوگا وہ جنت میں جائے گا، اور بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدکار آدمی دوزخ میں جائے گا۔حدیث شریف ہے کہ حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جس چیز میں فحش ہوگا اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں اور جس میں حیاء ہے اس کا انجام خیر ہی خیر ہے۔‘‘
اسلام دائمی اور بین الاقوامی نظام حیات ہے۔ اسی لئے اسلام نے شرم و حیاء کی دائمی اور عالمی قدریں مقرر کردیں ہیں۔ جب جب اورجہاں جہاں اسلام کو سمجھا گیا وہاں شرم و حیاء کی قدریں نکھرتی اور سنورتی رہیں۔ دراصل حیاء نام ہے شرم کا۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حدود کے اندر رکھنے کا۔ یہ حدود لباس، غذا، زبان و عمل، غرض تمام چیزوں میں اسلام نے مقرر کردیئے ہیں۔
والدین اور اولاد، استاد وشاگرد، سماج و فرد، یہاں تک کہ عبد اور معبود کے درمیان استوار ہیں۔حیاء کےبغیر ایمان مکمل نہیں ہے تو پھر ہم نے ایمان کی شاخ کو فراموش کرکے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمارا ایمان سلامت رہ سکے گا اور تو اور اس ایمان کی حالت زندہ کی سی ہے اور وہ بھی صرف اس بات کے ڈر سے کہ " لوگ کیا کہیں گے " ان کا رویہ کیا ہوگا یہ سوال آخر ہمارے زہن میں کیوں نہ آیا کہ اللّہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمارے سروں پر سے اپنا سایہ ہٹادیں گے ، نظر عنایت پھیر لیں گے استغفرُللہ !! زرا سی قریبی رشتہ داروں کی تلخ مزاجی ہمیں توڑ کر رکھ دیتی ہے تو ہمارا کیا حال ہوتا ہے جبکہ ان رشتوں کو تخلیق کرنے والی ذات حتیٰ کہ ہم تمام انسانوں کو مجھے اور آپ کو تخلیق کرنے والی پاک ذات ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والی مالک عرض و سماں مجھ سے اور آپ سے کیا تقاضا کرتا ہے،اس کا احساس تک نہیں خدارا ہوش کریں حیا کو فراموش نہ کریں اسے پروموٹ کریں اسی میں ہمارے نظام کی بہتری ہے!!




































