
آسیہ محمد عثمان
کبھی کبھی دل بہت اداس ہوجاتا ہے زندگی کے کچھ واقعات ہم پر اس طرح ہاوی ہوجاتے ہیں کہ پھر چاہے دنیا بھر کے راستے ہمارے منتظر ہوں ۔
منزلیں ہمیں پکارتی ہوں اور ہمارا ایک قدم توکل الہٰی کی طرف اٹھے اورزندگی پھر سےروشنی کی طرف چلنے لگے،مگر صرف ایک چیز چھین جانے پر یا حالات کے سخت ہونے سے ہم زندگی جینا چھوڑ دیں تو یہ نادانی ہی نہیں کفر بھی ہے ہم یہ تو نہیں کہے سکتے کہ پوری دنیا پرسکون ہے اور بس ہم ہی بےسکون ہیں ہر انسان کوئی نا کوئی بوجھ درد تکلیف اپنے اندر لیےگھوم رہا ہے۔
زندگی جب بھی مشکل لگےیا برداشت سے باہر ہوجائے اور دل و دماغ آپ کو کہے کے بس اب سب ختم زندگی کا سورج اب غروب کردینا چاہٸے تو یاد رکھیں۔خود سے کہیں کہ میرا اللہ فرماتا ہے "مشکل کے بعد ہی آسانی ہے" اور جس نے زندگی دی ہےاسے ہی یہ حق ہے کہ وہ جب چاہے جس طرح چاہے آپ کو موت کی آغوش میں لے کر زندگی کا سورج غروب کر دے۔
"دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے"
اورآپ اس جگہ سکون پانا چاہتے ہیں جہاں آدم علیہ اسلام کو سزا کے لیےبھیجا گیا تھا۔
دنیا تو فانی ہے اگر اس جہاں جین وسکون نہیں ملا تو آخری آرام گاہ کو کیوں خراب کرتے ہیں کیوں خودکشی جیسے عمل کرتے ہیں اور ہمیشہ کی ازیت اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں۔
یہ سب باتیں کسی بھوکے غریب درد مند حالات کے ستائےہوئے کوسنائے جاٸیں تو شاید وہ یہی کہے کے جس پر گزرتی ہے وہ ہی جانتا ہے لیکن ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اس سے زیادہ مساٸل کا سامنا انبیأ اکرام نے کیا اور کیا کیا مشکلیں نہیں آٸیں حق کو بجا لانے میں ہدایت کو پھیلانے میں کسی کو آگ میں ڈالا گیا۔ کسی کو موزی مرض نے گھیر لیا کسی کو مچھلی نے نگل لیا کوٸ مصر کی گلیوں میں چند سکوں کے عوض فروخت کیا گیا میرے آخری نبی مُحَمَّد ﷺ نے کس طرح تکلیفیں برداشت کیں شرارتی لڑکوں نے پتھر مارے۔ طاٸف کی وادی میں کتنی مشکل کے دن گزارے مگر کبھی اللہ سے شکوہ تک نہیں کیا اپنے رب کی رضا میں راضی رہے۔ اب ہم کہیں گے وہ تو پیغمبر تھے ہم تو گناہ گار بندے ہیں۔
وہ غریب لوگ جو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور توحید پر قاٸم ہیں وہ لوگ یوم آخرت پچاس سال پہلے جنت میں داخل کیۓ جاٸیں گے۔
تو جان لیں اللہ ہماری بھی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے وہ معاف کرنے والا اندھیروں میں اجالے کرنے والا ہے بشرطیکہ کہ توکل ہو پختہ ایمان ہو۔ جنتیں تو ہمارے لیے بھی ہیں اور جنت اتنی آسان تو نہیں۔ جنت تلواروں کے سائے میں ہے اگر آپ کی ساری عمر بھی تنگی اور دکھ میں گزر جاتی ہے تو بغیر شکوہ شکایت کے اپنے رب سے ملاقت کے لیۓ تیار رہیں آپ کا صبر وشکر بہترین اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کی صورت میں آپ کو انعام میں دیا جاۓ گا۔
ایک ماں بچوں کی بھوک برداشت نہیں کرسکتی تو وہ خودکشی کا ارادہ کر لیتی ہے جبکہ آپ سے رزق کتنا کھایا اس کا سوال ہوگا کتنا نہیں ملا اس کا بدلہ اللہ کے یہاں آپ کو مل جاۓ گا۔ حلال رزق کمانا اس کی تلاش کرنا آپ کی زمے ہے پر جو لقمہ آپ کے لیۓ لکھا ہی نہیں اسے آپ نہیں کھا سکتے پھر چاہے کچھ بھی کر لیں۔
کوئی نوکری نا ملنے پر مایوس ہوجاتا ہے کوئی امتحان میں فیل ہوجائے تو وہ آخرت کے امتحان میں بھی فیل ہونے کے لیے تیار ہوجاتا ہے کسی کو من پسند رشتہ نا ملے تو اسے باقی کی زندگی بوجھ لگنے لگ جاتی ہےاور وہ دو قطرے زہر آپنی ساری زندگی میں گھول لیتے ہیں مر گۓ تو رب کے آگے شرمندہ زندہ رہے تو سب کے آگے شرمندہ۔
وہ بہتر لے کر بہترین دیتا ہے پرافسوس ہمیں ہر چمکتی ہوئی چیز اچھی لگتی ہے اور اسے اپنا مقدر بنانا چاہتے ہیں، خواہش کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن دعا اور کوشش آپ کے ذمے ہے نتیجہ خالق پر چھوڑدیں مخلوق کی کیا اوقات جو خالق کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے۔
ہم اور آپ واقعی کسی مشکل میں ہیں تو کسی اپنے سے بات کریں، کسی دوست کو مدد کے لیےپکاریں۔ اللہ سے رجوع کریں مسٸلے کا حل تلاش کریں،پھر بھی اگر کوئی راستہ دیکھائی نہ دے تو اللہ کے "کُن" کہنے کا انتظار کریں اور اگر وہ خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی تو ہمشہ رہنے والی آخرت باقی ہے نا! وہاں آپ کو انمول بدلہ دیا جائے گا۔
اللہ فرماتا ہے اگر جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جاۓ تو اس کے لیے بھی مجھ پر توکل کرو اور ہم اس کے بناۓ دل ٹوٹ جانے پر یا تو خود مرمت کرنے لگتے ہیں یا مٹی کا دل مٹی کے پتلوں کے حوالے کر کے یہ سوچتے ہیں کہ اب سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ جی نہیں مشین جس نے بناٸ ہے وہی ٹھیک کرے گا ہاں وسیلہ انسان ہی بنیں گے مگر آپ اپنا ٹوٹا دل اللہ کے حضور پیش کریں وہ بہترین کارساز ہے۔
کامیابی،دولت ،شہرت،عزت،نفع و نقصان یہ سب تو آنی جانی شہ ہے یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ہم گھبراتے کیوں ہیں ہمیں ہارنا نہیں ہے خوکشی تو بلکل بھی نہیں کرنی حالات کا سامنا کرنا ہے، اچھے وقتوں کا انتظار کرنا ہے ہمیشہ نیچے دیکھ کر چلنا ہے تاکہ نہ گریں نہ مایوس ہوں۔
جس شخص نے خودکشی کی وہ قیامت تک اسی طرح مرتا رہے گا۔
اب خودکشی صرف یہ نہیں کہ ایک جھٹکے میں خود کو ختم کر دینا۔
مایوس ہوکر علاج نہ کروانا۔ایسا نشہ کرنا جو آہستہ آہستہ موت کی طرف لے جائے، بغیر وجہ کے ایسا سفر کرنا جہاں آپ کو پتہ ہو کے کبھی بھی موت واقع ہوسکتی ہے۔یعنی ایسا کوٸ بھی عمل جو صحت کے لیے مضر ہو خودکشی ہی ہے۔۔۔
مثلاً ایک مریض کو ڈاکٹر نےدودھ سختی سے منع کیا کہ اب اگر ایک گھونٹ دودہ بھی پیا تو آپ مر جاٸیں گے لیکن ان صاحب نے کہا کے چاہے میں مر جاٶں مگر دوده ضرور پیوں گا اور وہ دودھ کا گلاس پی کر آدھے گھنٹے بعد انتقال کر گئے۔ جب کسی بڑے عالم سے پوچھا تو انہوں نے کہا اسے بھی خودکشی کہتے ہیں اورخودکشی کرنے والے کے لیے مغفرت کی دعا بھی نہیں کی جاسکتی۔
اب دوده تو پاک چیز ہے مگر اللہ کے قانون کو توڑنے والے کو معافی نہیں۔
ہمارے یہاں خودکشی کا رجحان بڑھ جانے کی ذمہ داری ریاست کی بھی ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر توجہ نہیں دیتے سیاست سیاست کھلتے ہیں اور اسی کھیل میں کٸ معصوم زندگی کی یہ جنگ ہار جاتے ہیں۔
"عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اگر میرے دورہ خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گا یہ تھے اس وقت کے خلیفہ جو صرف ایک ہی سپر پاور سے ڈرتے تھے جس کے ہاتھ میں میری اور آپ کی جان ہے"۔ اور آج نہ جانے کتنے انسان بھوک و پیاس سےمر رہے ہیں اور ہمارے حکمران سیاست کی نیند سو رہے ہیں۔
اپنی اور اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں خود بھی اس حرام موت سے بچیں اوردوسروں کو بھی بچاٸیں۔




































