
صائمہ وحید
بچوں کےامتحان بھی شدید گرمی میں ہی لیتے ہیں۔اوپر کی بجلی کی آنکھ مچولی ۔۔
شکیلہ بیگم غصےمیں بڑبڑارہی تھیں۔انہوں نے واشنگ مشین لگائی تھی کہ لائٹ چلی گئ۔اب شام ہورہی تھی۔مگر بجلی غائب۔۔ وہ گرمی سے بےحال کچن میں شربت بنارہی تھیں۔
جب گرمی ذیادہ ہوتا ہے تو بجلی کم آتا ہے ۔
جنید نے کہا۔۔
مگر ۔۔بجلی کا بل تو برابر ،ذیادہ آتا ہے ۔
جویریہ نے ہاتھ کے پنکھے سے ہوا کرتے جواب دیا ۔
تو بی بی۔۔بل اوپر تک بھی برابر جاتا ہے۔
جنید نے آواز بناکر کہا۔۔دونوں بہن بھائی ہنسے۔۔
شکیلہ بیگم شربت لئے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ان کے بچےچٹکلے چھوڑ تےہنس رہے تھے
ان کےتین تین بچےتھے۔جنید میٹرک میں،جویریہ ساتویں میں۔چھوٹا بیٹا چارسال کا تھا۔
انکے شوہر منیر صاحب ابھی کام سے آئے تھے۔
لائٹ کب سے نہی آئی سوال کررہےتھے۔
بابا صبح دس بجے سےبجلی غائب ہے۔جویریہ نے بتایا۔
اچھا۔کوئ خرابی ہوگئی ہوگی۔منیر صاحب نے کہا۔
ارے جب نااہلوں کو سر پر مسلط کریں گے تو شامت تو آئے گی ۔شکیلہ بیگم نے کہا۔
الیکشن میں وعدے کرتے مہنگائ ختم کریں گے،لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے۔کچرے سے بجلی بنائیں گے۔ کچرا تو جوں کا توں۔۔جگہ جگہ ڈھیر،بدبو،تعفن،بیماریاں،الودگی پھیلا رہے ۔نہ بجلی بناتے۔۔ںہ صفائ کرتے۔۔
شکیلہ بیگم غصے سے بولتی۔۔ہاتھ کے پنکھے سے ہوا کرنے لگیں۔ بیٹری میں چارجنگ بھی ختم ہوگئی تھی۔جس سے ایک پنکھا چل رہا تھا۔
بابا ۔۔اب تو کوڑے کو بھی استعمال میں لاکر بجلی بنائ جارہی۔دنیا میں 850پلانٹ ہیں اور صرف جاپان میں کوڑے سے بجلی بنانے کے 330 پلانٹ ہیں۔پاکستان اپنے کوڑے سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی یومیہ حاصل کرسکتا ہے۔ اور اس سے 4لاکھ اینتھول فیصل بھی باآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اینتھول فیول سے ڈیزل،مٹی کا تیل حاصل ہوتا ہے۔جس سے منافع ملے گا۔
اس طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ سےمتاثر صنعتیں بھی چلیں گی۔عوام کو روزگار،سستی بجلی بھی ملے گی ہماری معیشت بھی مستحکم ہوگی۔
جنید بتایا تھا۔
جی ہاں۔بیٹا۔۔پاکستان تو وسائل سےمالامال ملک ہے۔۔
یہاں شمسی تونائ،ہوا،پانی،ڈیم بناکرتوانائی بحران حل کیا جاسکتا ہے ۔
اگرصرف کالا باغ ڈیم ،ہی بنالیں۔تووہی ہمارے لیے کافی ہے،
تو پھر بابا یہ لوڈ شیڈنگ،توانائی بحران کیوں ہے۔۔؟؟
کل امتحان کے دوران شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ سے ایک طالب علم بے ہوش ہو گیا۔اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔۔۔جنید نے کہا۔
بابا۔۔کراچی جیسے میگا سٹی میں 8سے12 گھنٹے لوڈشیڈنگ،اورکے الیکٹرک کی بدعنوانی،نا قص مٹیریل سے ہرسال کرنٹ لگنے سے کتنے معصوم بچے،لوگ جان گنواتےہیں۔۔مگر نہ حکومت نوٹس لیتی ہے۔نہ ادارے اپنی روش بدلتے ہیں۔
بس بیٹا پاکستان کی عوام کی سالوں سے بحرانوں سے نبردآزما ہے۔اس کی وجہ حکمرانوں کی غفلت،غلط ترجیحات،بدعنوانی ہے۔
ہمارے تمام مسائل کا حل امانتدار،محب وطن،مخلص،صالح لوگوں کو ملک کا اقتدارِ سونپنےمیں ہے۔۔
لائٹ آگئی تھی۔۔مگر۔۔
اللہ پاکستان کےعوام کوشعورعطاءفرمائے،جو ملکی وسائل کولوٹنے،غیر منصفانہ تقسیم کے بجائے ملک و ملت کی خوشحالی واستحکام کے لئےاستعمال کریں۔پاکستان ترقی کرے۔۔آمین




































