
لطیف النسا
جنت کا سفر صبر کا سفرہےجنت کا تمام تر سفر بنا صبر کے صفر ہےجونفس کی چوٹ کو اپنے سینہ کی ویرانیوں میں چھپالے,جو شخص جنت
کاحصول چاہتا ہو اس کو سب سے پہلے سب سے بڑا تحفہ جو اپنے رب کی خدمت میں پیش کرنا ہے وہ صدقِ دل سے شکر کا جذبہ ہے۔
آدمی مشکلات ومسائل سے اوپر اٹھ کرسوچنے کی نظر اپنے اندر پیدا کر لے۔ گویا جنت کی قیمت شکر ہے جو یہ قیمت ادا کر لے جنت اس کی!! نعمتوں میں بڑی نعمت ماں ہے اور اللہ تو ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے واقعی کائنات کا دین اللہ کی اطاعت ہے۔ مضبوط ایما ن والا تو ہوتا ہی وہ ہے جس کے ہاں ایمان وعمل ایک چیزبن جائے۔جب ہی تو صبر کرنے والا اللہ کی خاطر اپنے آپ کوہر محرومی پر راضی کر لیتا ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں تلخیوں اور ناخوشگواریوں کے بغیر چارہ نہیں۔ جو شخص جنت کامسافر بننا پسند کرتا ہے اس کو تو یقینی طور پرجان لینا چاہئے کہ وہ ایسے راستے پر چل رہا ہے جس میں لوگوں کی طرف سے کڑوی باتیں ملیں گی۔
اس موقع پر اگر وہ اپنا صبر کھو دے تو وہ اپنے راستے کو کھوٹا کرے گا اورجنت تک نہ پہنچ پائے گا۔ عجیب بات ہے مگر سبق آموز ایک عام سا واقعہ ہے مگر جس کو اللہ حکمت دے، سمجھ دے اس کیلئے زبردست آنکھیں کھول دینے والی حقیقت میری ایک ملنے والی نے جو آسٹریلیا میں رہتی ہے بتا یا کہ اس کے شوہردبئی میں رہتے تھے شادی کے دوسرے ہی سال وہ آسٹریلیا چلے گئے اور اب وہیں کے شہری ہیں۔
کہنے لگی کہ ہم تین بہنیں ہیں دو آسٹریلیا میں رہتی ہیں ایک امریکہ میں میری امی ابو جب آسٹریلیا آئے تو کچھ دن رہنے کے بعد ا نہیں یہ ملک کچھ زیادہ پسند نہ آیا پھر ایک مرتبہ دوبارہ آناہوا دوسرے بیٹے کی پیدائشی پر مگر پھر بھی انہیں یہ ملک کچھ زیادہ پسند نہ آیا۔اسی عرصے میں میرا اکلوتا بھائی تعلیم حاصل کرنے یہاں آ گیا۔
میں تو خوشی ہوئی کہ چلو بھائی بھی آ گیا اب جب اس کا پی آر اور ٹی آر وغیرہ ہو جائے گا تو امی ابو کوبھی یہاں بلوا لینگے۔ میں نے اپنا ارادہ اپنی ماں کو بتایا جو کا فی مذہبی اور سمجھدار خاتون ہیں۔ انہوں نے فوراً مجھے سمجھایا کہ بیٹا نہیں یہ ممکن نہیں۔ اپنی آسائش اورسکھ چین کیلئے اپنا اسلامی ملک اپنی آزادی اپنے لوگ چھوڑ کر غیرمسلم ملک میں جا کر رہنا درست نہیں۔ہم یہیں ٹھیک ہیں, یہاں سب مسلمان ہیں اذانیں گونجتی ہیں۔ ایک دوسرے سے تعلقات ہیں، عزیز رشتہ داروں کی نعمتیں،حقیقی برکتیں ہیں اور ویسے بھی اسلامی ملک کو چھوڑ کر غیر اسلامی ملک میں صرف تین مقاصد کیلئے جایا جا سکتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کیلئے، نمبر دو کسی بیماری کے علاج کیلئے یا پھر تبلیغ دین کیلئے جانادرست ہے پر تعش زندگی کیلئے اسلامی ملک چھوڑنا منع ہے!!! میرے بھائی کی جب تعلیم مکمل ہو گئی تو اس کو یہاں نوکریاں بھی ملنے کے کھلے امکانات نظر آنے لگے میں تو خوش ہوگئی کہ چلو اب بھائی تو یہاں ہی رہ جائیں گے مگر میری ماں نے یہ بات میرے بھائی کو کچھ اس طرح سمجھائی کہ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو اور یہاں کس چیز کی کمی ہے؟تم تعلیم یافتہ ہو اور باہر سے ڈگری لے چکے ہو میں تو تمھیں آسٹریلیا اتنی دوررہنے کی اجازت ہر گز نہ دونگی یہیں رہواپنے ماں باپ کے ساتھ انکی اب تمہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہ تمھارے اور تمہاری نسلوں کیلئے بھی بہت بہتر ہے انسان کو اپنی آخرت کی زیادہ بلکہ سب سے زیادہ فکر رکھنی چا ہئے باقی بیٹا آپ کی مرضی مگر میں تمہیں معاف نہ کرونگی!!!بس یہ سننا تھا کہ میرا بھائی کچھ اسطرح سمجھ گیا کہ جیسے بڑا فیصلہ ہا تھ آگیا ہو! مجھے یاد ہے جب وہ واپس پاکستان جا رہا تھا۔ ہم بہنوں نے سب نے بہت روکنے کی کوشش کی کہ بھائی یہاں تو ترقی کے لئے بے پناہ ذرائع ہیں اور پھر ہم بہنیں بھی تو ہیں۔,مگر وہ نہ مانا اور واپس پاکستان چلا گیا۔ ہم رو دھو کر خاموش رہ گئے اللہ کا کرنا دیکھیں آنٹی دوسرے ہی مہینے اسے ایک ایسی جگہ سے جاب کی آفر آئی تواس نے کہا ہوا تھا کہ میں یہ جاب پاکستان میں ہی رہ کر کر سکونگایہاں نہیں اور کمپنی والوں نے یہ اسکی شرط قبول کرلی اور آنٹی دوسرے ہی مہینے اسے آسٹریلیا کی جاب پاکستان میں آن لائن کرنے کی اجازت مل گئی! سبحان اللہ یہ کہتے ہوئے اسکی آنکھیں نمدار ہوگئیں اور میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا کہ سبحان اللہ! اللہ تیری شان! اور قدرانی! سبحان اللہ توکتنا عظیم ہے کتنا قدردان ہے ماں کی ایک خواہش کوپورا کرنے کا کتنا بڑا انعام دیا کہ پھولے نہ سمائے.
ہمارے ملک میں بے روزگاری عام ہے، نوکریاں نہیں ملتیں،ہزارہا پریشانیاں، سفرکی صعبتیں اور نہ جانے کیا کیا بے ایمانیاں ہیں مگر اللہ کی شان! اللہ کی شان! اس بیٹے نے ماں کامان رکھا۔ رب حیم نے اپنی کبریائی سےاسے نہال کر دیا۔ اب وہ جب چاہے آسٹریلیا آجا سکتا ہے ماں باپ کے ساتھ سکھ سے رہ سکتا ہے اور بہنوں سے بھی مل سکتا ہے اور تو اور سب سے زیادہ اپنے مقصد حیات کو ماں کی خدمت اورقربت کو ادا کرے۔
جنت کے حصول کیلئے مزید اپنا ایمان اپنی مثال سے بڑھا سکتا ہے۔ میری بھی اس کہانی کو سن کرآنکھیں کھل سی گئیں۔ ماؤں کو بھی عموماً دین سے جڑنے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ جب انہیں دین کا شعورہو گا تو ہی وہ اپنی نسلوں کی صحیح رخ پر ابیاری کر سکتی ہیں اور صحیح راہنمائی کر سکتی ہیں۔ بچوں کو صحیح راہنمائی دینا ہی در اصل انکواور انکی نسلوں کو بچانا ہے۔اسی کا توصلہ ہے!اسی کی تو آزمائش ہے! ورنہ آپکو معلوم ہے جیسا دیس ویسا بھیس اگرایک نسل کوآپ اپنی کوششوں سے کھینچ تان کر بچانے کی کوشش بھی کرلیں تو دوسری تیسری نسل ضرور اس ماحول میں ڈھلنے لگتی ہے جسکے ذمہ دار بھی والدین ہی ہونگے۔ اللہ تعالیٰ والدین کو عقل و شعور عطافرمائے دین کا صحیح فہم نصیب فرمائے تاکہ ہماری اولادیں اور ان کی تمام نسلیں رہتی دنیا تک دین پر اور دین اسلام کے قائم کرنے والے بنیں۔آمین.
اس کے ساتھ ہی مجھے بھی یہ احساس ہوا کہ اللہ مجھے بھی شعورعطا فرمائے اورمیری دیگر بہنوں اور بھائیوں کو بھی دین کا صحیح شعور عطا فرمائے جو دنیا کمانے کی غرض سے تو ان کی دوری برداشت کر لیتے ہیں مگر آخرت کی تیاری اور دینی تعلیم، رجحان اور دینی تعلیم اور اخروی کامیابی ے کی طرف صدقِ دل سے انہیں وہ شعور عطا نہیں کرتے کیونکہ خود جو محروم ہوتے ہیں یا کمی ہوتی ہے۔ پھر جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو بھی توبہ کا در کھلاہے۔ رب رحیم قدر دان بھی ہے اور قادر بھی!ہر حال میں ہمیں اس کی طرف رجوع کرنا ہے کہ یہی ہماری منزل کاٹھکانہ ہے۔ اللہ ہماری خطاؤں کومعاف فرمائے اور اولادوں کو، ان کی نسلوں کو،دین اسلام کو قائم کرنے والا بنائے۔آمین یا رب العالمین




































