
سمیرا غزل
مری تاب تحریر کیسے بیان میں لائے ان کی سیرت طیبہ کوکہ جنہوں نے ایسا انقلاب برپا کیا کہ جاہل عالم ہوگئے،ظلمت نور بن گئی،تاریکیوں سے
روشنی کی کرنیں نمودار ہونے لگیں۔
مری تاب سخن کیسے احاطہ تحریر میں لائےاس صوت ہادی کو،جس نےعرب کی سرزمین کا نقشہ پلٹ کر رکھ دیا۔دشمن دوست بن گئے۔۔ حریف حلیف ہوگئے۔۔۔غلام بادشاہ ہوگئے۔۔۔ کم تر سمجھے جانے والے تاجور ہوگئے۔۔۔۔جی ہاں ایسا انقلاب کہ تاریخ کے دھارے بدل گئےاور جس کی نظیر نہ پہلے کبھی تھی نہ قیامت تک ملے گی۔
آپ صہ کی سیرت مبارکہ کی کیا اور کتنی تعریف کی جائے کہ نہ ایسی کوئی زباں ہے،نہ ایسا کوئی قلم۔،نہ آج تک کوئی ایسی نکتہ آفرینی کی جسارت کرسکا کہ حق اداہوجائے کہ حق تو ادا ہو ہی نہیں سکتا۔
جی ہاں کیسے حق ادا ہوگا کہ جب دعوت کے میدان کا علم اٹھائے طائف پہنچےتوسرداران طائف نے شریر لڑکے پیچھے لگادیے اور انھوں نے سر بازار وہ پتھر برسائے کہ نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔۔۔فرشتہ مزدہ خدواندی لے کر حاضر ہوا۔۔۔۔مگر لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوتہ حسنہ والے نے اف تک نہ کی بلکہ دعا دی۔اور اس دعا کہ بدولت طائف نے دین کو مثالی مددگار عطا فرمائے۔
ایسی عیادت کی مثال کون لائے کہ جب بوڑھی عورت نےکچرا نہ پھینکا تو فکر مند ہوئے۔اور بیماری کا احوال معلوم ہونے پر عیادت کو تشریف لے گئے۔۔۔کوئ اونٹ کی اوجھڑی ڈال دے۔کوئی طعنے کسے۔۔تو مدرگزر کے سوا کوئ ہتھیار نہیں۔بدرو خندق کی گھاٹیوں میں کسی سے پیچھے نہ رہے صحابہ کرام کے ساتھ ہر غزوے میں برابر کا کام کرواتے۔کبھی کسی خادم کو جھڑکی نہ دیتےکہ حضرت انس بن مالک آپ کی نرمی اورخادموں سے محبت کی جابجا گواہی دیتے ہیں۔
زید بن حارثہ اپنےوالدین کےساتھ جانے سے انکارکردیتے ہیں۔خدیجہ رضہ گواہ ہیں کہ محمد صہ جیسا کوئی شوہرنہیں۔فاطمہ رضہ گواہ ہیں کہ محمد صہ جیسا کوئی باپ نہیں۔جورضاعی ماں کی بھی تکریم سگی ماں کی طرح کریں اوررضاعی بہن کے لیے اپنی چادربچھادیں۔
اور ان کی یہی سیرت ان کی حقانیت کی گواہ بنتی ہےکہ پھروہ یارحاصل ہوتےہیں کہ کوئی یارغار ہے تو ابوبکر صدیق بنتا ہے۔کوئی موت کے بسترپر لیٹ کر ہجرت کے لیے نکال دیتا ہےتو کوئی توحید ورسالت کی گواہی میں تپتی ریت پر گھسیٹا جانا تو منظور کرلیتا ہے،مگررسالت و توحید کا انکار نہیں کرتا تو بلال حبشی بن جاتا ہے تو کوئی عمار بن یاسر اور کوئی عشق میں اویس قرنی۔
گناہ اور رزیل کام حرام ہوتے جاتے ہیں۔ بے تکریموں کو تکریم ملتی جاتی ہے یہاں تک کہ بیٹیوں کی پرورش پر جنت کی خوش خبری ملتی ہےاور ماں کے قدموں تلے جنت قراردی جاتی ہے۔
درحقیقت آپ صہ پر نبوت نازل ہوئی تو دین محمدی صہ کو آقائے نامدارمحمد مصطفی صہ کی سیرت ہی کے مطابق اتارا گیا اور آپ صہ کی سیرت و کردار ہی شریعت قرار پائےکہ آپ صہ تو تھے جنہوں نے قبل از اسلام بھی کوئی گناہ کا یا بے حیائی کا کام نہ کیا۔
اورجب آپ صہ کی سیرت کا نور مزید آگے پھیلا تو فتح مکہ بنا۔ قیصروکسریٰ کے ایوانوں کو ہلاتا چلا گیا کہ پھر ایک دن اسلامی تہذیب کوہ فاران کی چوٹیوں سے نکل کر دنیا کی عظیم ترین تہذیب بنتی ہے ۔پھر تاریخ اسپین کے ساحل پر مسلمانوں کی کشتیاں جلتی دیکھتی ہے۔یورپ کے قلب میں نعرہ تکبیر بلند ہوتا دیکھتی ہے اور مسجد ومنبر کی سادگی کا عروج احرام مصرکا غرورخاک میں ملا دیتا ہے۔اسی سیرت کا نور ہندوستان کی گلیوں میں پہنچتا ہے اور شرک و کفر کے مرکزسے قلعہ اسلام بن کرنکلتا ہے۔
درحقیقت میرے نبی صہ کی سیرت مبارکہ کا کوئی گوشہ، کوئی پہلو کشف و کرامت سے خالی نہیں ہے۔ قیامت تک حاصل ہونے والی معراج اسی نور سیرت صہ کا نتیجہ ہوگی۔ ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی سیرت کو سیرت محمدی صہ کے مطابق ڈھالیں اور اپنی شکت و ذلت کو فتح و نصرت اورعزت و وقارسے بدلیں۔




































