
انعم حسین
"تم تو پریشان تھے؟"
"ہاں مگر اب سکون میں ہوں۔"
"سکون میں؟"
"ہاں سکون میں۔ بہت سکون میں۔"
"کہاں تلاش کیا سکون کو؟"
"اپنے رب کے ذکر میں۔"
"کیا سکون مل گیا تمہیں؟"
"ہاں مل گیا۔"
"وہ کیسے؟"
"رب کی یاد میں غافل ہوکے۔"
"مگر تم تو پرسکون جگہ بیٹھ کر کتابیں پڑھنا ساتھ میوزک سننا پسند کرتے تھے؟"
"ہاں افسوس کہ میں بھٹک گیا تھا۔"
"پھر گناہوں سے کیسے بچے؟"
"جب یہ بات جان لی کہ مجھے اپنے رب کو ہر چیز کا جواب دینا ہے۔"
"اچھا پھر کیا ہوا؟"
"پھر میرے رب نے مجھے ہدایت دی ، سیدھی راہ دکھائی اور تھام لیا۔"
"تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟"
"رب سے ملاقات کرکے۔"
"رب سے ملاقات وہ کیسے؟"
"نماز میں۔"
"کیا واقعی تمہیں محسوس ہوا کہ تم نے اپنے رب سے ملاقات کی؟"
"ہاں بالکل محسوس ہوا۔ بندہ نماز میں ہی تو اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے۔"
"اچھا رب سے ملاقات کرکے کیسا لگا؟"
"بہت سکون ملا اور اس سکون کو پانے کے لیے میں نماز کا پابند ہوگیا۔ سکون نے مجھے سکھا دیا کہ نماز تو فرض ہے یہ سکون کے لیے نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ ہر حال میں نمازادا کرنی ہے کیونکہ یہ مجھ پہ فرض ہے۔"
"اچھا اورجب نمازادا نہیں کرتے تو؟"
"تو بہت الجھن سی ہوتی ہے؟"
"اچھا پھر کیا کرتے ہو؟"
"وضو کرتا ہوں ۔ اپنا آپ ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے،پھر نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہوں اس کے بعد رب سے باتیں کرتا ہوں۔ تو وہی سکون مجھے واپس مل جاتا ہے۔"
"رب سے باتیں کیسے کرتے ہو؟"
"دعاؤں میں۔ اپنے دل کی ہر بات اپنے رب سے کرتا ہوں۔"
"جواب ملتا ہے ان دعاوں کا؟"
"بالکل ملتا ہے؟"
"کیسے ملتا ہے؟"
"جس چیز کا مجھے گمان بھی نہیں ہوتا ،وہ چیز مجھے مل جاتی ہے۔"
"کیا رب ہماری دعائیں سنتا ہے؟"
"بالکل سنتا ہے۔ بلکہ ہماری دعاوں کا جواب بھی دیتا ہے۔"
"رب تمہیں سن رہا ہے یہ کیسے معلوم ہوتا ہے؟"
"جب دل مطمئن ہوجاتا ہے کہ میرا رب مجھے سن رہا ہے۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔"
"وہ ہمارے سوالوں کے جواب بھی دیتا ہے؟"
"بالکل۔ ہمارے ہر ایک سوال کا جواب قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن مین میرے رب کے الفاظ ہیں، میرے رب کی باتیں ہیں۔"
"مجھے تو نہیں ملا قرآن سے کبھی کوئی جواب؟
قرآن کو سمجھ کر پڑھو گے تو تمہاری آنکھیں نم ہوجائیں گی۔ رب اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتا ہے تمہیں اندازہ ہوگا۔ اس نے ہماری ہدایت اور ہم تک نصیحت پہنچانے کے لیے ہی تو یہ کتاب نازل کی۔"
"صحیح کہاں۔ قرآن کو صرف پڑھنا نہیں ہوتا اسے سمجھنا بھی ہوتا ہے۔"
"بس یہی بات ہے!"
"آخری بات پوچھوں؟"
"ہاں ضرور پوچھو۔"
"واقعی تمہیں لگتا ہے تمہیں رب سے جڑ کر سکون ملا؟
ہاں واقعی اور اس میں کوئی شک نہیں۔"
"تمہیں یہ محسوس کیسے ہوا؟"
"جب سجدوں سے میرا اٹھنے کو جی نہیں چاہا۔ جب سجدے میں جاکر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ اور جانتے ہو یہ لمحے تکلیف کے ساتھ بہت سکون دہ بھی تھے میرے لیے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ ذکر ہے کہ: (ترجمہ: سکون تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔) پھر مجھے سکون کیسے نہ ملتا۔"




































