
مریم بنت شبیر
میرا بہت دل چاہ رہا تھا آپ سے بات کروں۔ بہت کچھ بتاؤں۔ نصیحتیں لوں۔ ویسے تو آپ ہمیشہ میرے دل میں رہتے ہیں۔ میرے ہیرو،میرے رہبر ہیں۔ بچپن
سے لے کر آپ کے متعلق ہمیشہ بہت پڑھا محبت سے پڑھا۔۔۔آج بہت بہت یاد آرہے ہیں مجھے، پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ آج آپ کا یوم شہادت ہے۔ سب آپ کی محبت میں آپ کو یاد کرتے رہے ہیں۔ کوئی آپ کی شان بیان کررہا ہے تو کوئی آپ کے مسلم امت کے لیے سرانجام دئیے گئے کارناموں کے گن گا رہا ہے۔ میرا بھی بہت دل چاہ رہا تھا کچھ کہوں، لکھوں، لفظوں سے ہی زرا محبت کا اظہار کر دوں.
آپ دعاے نبی ہیں اور اس وقت سسکتی امت کی دعا بھی آپ ہیں۔ بلوچستان میں سیلاب آیا ہوا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ان کا۔ آپ ہوتے تو کیا ممکن تھا امت یوں بےیارو مددگار ہوتی ؟
دجلہ کنارے پیاسے کتے کی فکر تھی آپ کو۔۔ آج انسان کے بچے پیاس سے مر رہے ہیں ۔۔ ہم کچھ نہیں کر پا رہے۔۔ ہمیں آپ شدت سے یاد آتے ہیں۔
کچھ دن پہلے کراچی میں ایک ماں بچہ گندے نالے میں ڈوب کرمر گئے۔۔ وللہ مجھے آپ یاد آئے۔۔ آپ چلے گئے تو آپ سا کوئی نہیں آیا ۔ گدھ حاکم ہیں ہم پر۔ اس امت پر جس کی خاطر آپ کو محبوب خدا نے خدا سے مانگا تھا۔
آپ نے روتے بچے کی آواز سن کرہر پیدا ہونے والے بچے کا وظیفہ لگا دیا تھا۔مگر اب یہ حال ہے کہ مائیں بچےمار دیتی ہیں کہ بھوک سے بلکتے بچوں کے لیے کوئی عمر نہیں رہا۔
بچپن سے لے کر ہمیشہ کتابوں میں،بڑوں سے آپ کے رعب و دبدبے کی بےشمار داستانیں سنیں کہ حضرت عمر اتنے اور اتنے سخت تھے۔ جو حاکم بھوکے پیاسے کتے کی فکر کرنےوالا ہو اس سے کیسا ڈر؟ مجھے تو آپ سے ڈر نہیں لگتا ہے۔۔ کیوں لگے ؟ میں تو امتی ہوں نا اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس کی آپ مراد ہیں۔
آپ کے مبارک ہاتھوں نےالقدس پر اسلام کا جھنڈا لہرایا تھا۔ میں سخت شرمندہ ہوں یہ بتاتے ہوئےکہ اب القدس بھی ہمارا نہیں۔ بہت ظلم کرتے ہیں یہودی، اورفلسطینی آپ کو یاد کرتے ہیں۔ کب عمرآئے گا کب ہم آزادی پائیں گے ۔
آپ کے زمانے میں عورت میلوں کا سفر اکیلے طے کر کے آجاتی تھی۔ اب تو گھر کے دروازوں سے بچیاں اغوا ہوجاتی ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ آپ تو اس قدر غیرت مند تھے کہ جنت میں آپ کا محل دیکھ کر نبی پلٹ آئے۔۔ آپ کی غیرت کا خیال آگیا تھا ان کو۔ دیکھیں آج کوئی آپ کی غیرت کا خیال نہیں کررہا۔ آپ ہوتے تو کبھی برداشت نا کرتے ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں۔ مگر ہم کمزور ہیں لاچار ہیں۔ چاہ کر بھی تلواریں نہیں اٹھا پا رہے۔
آپ تھے تو شیطان بھی راستہ بدل لیتا تھا۔ کتنا خوش ہوا ہوگا وہ آج کے دن۔ دیکھیں تو اس نے اپنے کارندے ہم پر مسلط کر دیے ہیں۔ آج ناعرب ویسا ہے جیسا آپ کی موجودگی میں تھا نا عجم ویسا رہا۔ اہل عرب میں بھی وہی غرور و طنطنہ آگیا ہے،وہاں سے اب کوئی نہیں آتا جو لٹتی امت کا خیال کرے۔ وہ عیاشی میں ڈوبے پڑے ہیں۔ ان کا توشہ خانہ آپ جیسا نہیں ہے۔وہاں کوئی عمرنہیں ہے جس کے سامنے بڑھیا کھڑی ہوکر کپڑے کا حساب مانگے۔ جو کانپتی زمین کو پاؤں مار کر چپ کروا سکے۔
یہ تو آج کے حالات ہیں نا جو بتا رہی ہوں۔ سچ تو یہ ہے آپ کی زندگی کا سورج غروب ہوتے ہی اسلام پر شیطانی وار شروع ہوگئے تھے۔ پہلے آپ کے جانشیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیاگیا،۔پھر مسلمانوں میں ایسی پھوٹ ڈلوائی کہ جنگ صفین ہوگئی اےعمر ۔۔ آپ ہوتے تو تاریخ اتنی خونی کبھی نا لکھی جاتی۔۔ دکھوں غموں نےتو پھر امت مسلمہ کی جانب رخ ہی کرلیا تھا۔ آپ کے بعد آل رسول کو بےدردی سے شہید کر دیا گیا۔۔ دیکھیں تو صحیح کتنی جرات پالی آپ کے ہی قاتلوں نے۔۔ آج بھی وہ دندناتے پھرتے ہیں۔ آپ کے ساتھیوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ کوئی ان کی زبان کھینچنے والا نہیں یہاں۔
میرا دل بہت چاہتا میں آپ کے رو برو ہوں۔ پھر آپ کے بعد امت پر بیتنے والے سارے غم اشکوں کے ساتھ بیان کروں۔ سب کی شکایت کروں کس کس حاکم نے کیسے کیسے بیچا اس امت کو یاعمر۔ آپ کو لے کر آپ کے پیچھے پیچھے القدس جاؤں۔ وہاں آپ کے نام کی ایک مسجد ہے اس مسجد میں آپ کی امامت میں نماز ادا کروں۔ کتنا ہی دلنشیں اورروح پرورمنظر ہوگا۔
آپ ہمارا غرور،ہمارا فخر ہیں اور مجھے بہت محبت ہے آپ سے۔ کیوں نا ہو۔ آپ کے دل کی بات تو قرآن بن کر اتر جاتی تھی۔ اب آپ جنتوں کے مکیں ہیں۔ رب العالمین سے دعا ہے اس کی رحمت کی امید وار ہوں۔ کہ میں جو دنیا میں آپ سے نا مل سکی، وہ مجھے آپ سے جنت کی آبشاروں میں ملاے۔۔ پھر میں یہ شکایتیں وہاں دہراوں گی۔ کیونکہ بس آپ سے کرنی ہیں مجھے۔ آپ کو بتانا ہے سب بس۔
آپ کی ادنی سی غلام




































