
عالیہ شمیم
اللہ نے نسل انسانی کی بقا کے لیےعورت مرد کے جوڑے بنائے۔ عورت معاشرے کاستون، خاندان کامرکز محبت اورقوم کا دھڑکتا دل ہے۔
عورت اور مرد نوع انسانی کے دو اہم جزوہیں اور مل کر معاشرہ کی بنا ڈالتے ہیں ۔اللہ نے ان دونوں میں ایک دوسرے کے لیے انتہائی کشش رکھی تاکہ وہ ایک دوسرے کی طرف راغب ہوں۔ محسن انسانیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری دنیا میں سے تین چیزیں زیادہ پسند ہیں۔عورت، خوشبو اور نماز۔
میاں بیوی خاندان کی بنیاد رکھتےہیں اورخاندان معاشرے کی اہم و بنیادی اکائی واولین ادارہ ہے۔ خوشگوار خاندان اورخوشگوار معاشرے کو جنم دیتا ہے۔خوشگوار شادی دنیوی جنت ہے اور ناخوشگوار شادی جہنم۔ گھر کی تعمیر کے بغیر معاشرہ کی تعمیر نہیں ہو سکتی گھریلو زندگی حقوق و فرائض کا مجموعہ ہے،ایک ایسا گھر جہاں کے افراد آپس میں جو حقوق و فرائض اور خلوص و محبت، اثار و قربانی کے اعلیٰ ترین قلبی احساسات اور جذبات کی مضبوط ڈوریوں سے بندھے ہوں آئیڈیل گھر کہلا تا ہے تحمل، برداشت، صبر، عفو و درگزر جیسی صفات سے مزین زوجین اعلیٰ اخلاق کے حامل بن جاتے ہیں جن کی شادی شدہ عملی زندگی میں اختلافات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔اسلام کی تعلیم ہی یہی ہے کہ عورت گھر کو راحت کدہ اور مرکز سکون بنا ئے تاکہ مرد گھر میں ذہنی سکون و اطمینان پا سکے ۔مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آنے لگی ہیں وہ گھر جو پہلے محبت کا قلعہ تھا نفسیاتی حصار تھا جذباتی اور سماجی زندگی کی ڈھال تھا اب صرف افراد کا مجموعہ بن گیا ہے بقول جون ایلیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
بے شک ٹوکنا تو منفی رویہ ہے مگر اس منفی رویے میں مثبت عمل بھی پوشیدہ ہے کہ ٹوکا اسی کو جاتا ہے جس سے اپنا ئیت کا تعلق ہوتا ہے۔ نہ ٹوکنے سے قربت ختم ہو جاتی ہے ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے فاصلے بڑھ جاتے ہیں، ہر کوئی اپنے خول میں بند ہ ایک دوسرے سے بے نیاز ہو جاتا ہے لیکن اس ٹوکنے و نصیحت کرنے میں مثبت رویہ بہت ضروری ہے مثبت سوچ ا ور مثبت رویہ ایک دوسرے کے معاملات کو جوڑ کر قربت پیدا کرتی ہے ۔ پہلے لوگ دور رہ کر بھی نزدیک تھے اور آج قریب رہ کر بھی ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔قوم کی تعمیر کے لیے فرد کی تعمیر ضروری ہے،قوم افراد تیار نہیں کرتی بل کہ افراد کے ہاتھوں میں قوم کی تعمیر ہوتی ہے اور فرد و مستحکم معاشرے کی تعمیر کے لیے خاندان کا ادارہ بہت ضروری ہے۔اسلام میں خاندان کے تصور کی بہت اہمیت ہے،نکاح کو آپ ﷺ نے نصف دین قرار دیا،زوجین اور پھر بچوں کی صور ت میں خاندان کی تشکیل کی گئی اور بچوں کی پیدائش و پرورش کا درجہ بلند کر کے عظیم نعمت سے جوڑ دیا اورتعلق رب کو خاندان کے مستحکم و پائدار ہونے کی علامت قرار دیا جب تک رب سے تعلق برقرار رے گا خاندان مستحکم رہے گا اور بغیر تعلق رب کے خاندان کا ادارہ اضمحلال انتشارو انہدام کا شکار ہو جائے گا۔
قرآن علم و حکمت کا منبع جو مکمل دستور حیات عطا کرتا ہے، عورت و مرد کے دائرہ کار کو معین کر کے مرد کو قوام بنا کر اس کا رتبہ و درجہ عورت سے بلند کرتا ہے جب کہ عورت کو ماں بہن بہوی و بیٹی کے روپ میں صنف نازک قرار دے کر عورت کوباہر کی ذمہ داریوں سے بری قرار دیتا ہے۔لیکن موجودہ دور میں مساوات مرد و زن کے نعرے نے عورت کو ہر طرح کی ذمہ داریوں خاندانی روایات و بندھنوں سے آزادی کی سوچ عطا کر دی ہے،اور حقوق نسواں کے نام پر عورت کو اس کے دائرہ کار گھر اور خاندان سے کنارہ کش کر دیا ہے اب عورت ہر قسم کی ذمہ داریوں سے آزاد ہونا چاہ رہی ہے، ہر اصول ہر قانون ہر نظم سے آزادی، ہر حیثیت سے آزادی کا نعرہ لبوں پر ہے،، شوہر سے آزاد، رشتوں سے آزاد، لباس و ستر کے احکام سے آزاد، خاندان کا شیرازہ ہی بکھر گیا، اب خاندان کا کوئی قوام نہیں، کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں، عورت کی اس بے لگام آزدی کا پس منظر کیا ہیے ذرا سوچیں کہیں ،عورتوں کے حقوق تو پامال نہیں کی جارہے؟
ہر گز نہیں۔۔۔اگر عورتوں کے حقوق کی بات کی جائے تو صرف نظام اسلام ہی نے عورت کے شرف و وقار کو بحال کیا ہے، یہودیت اور عیسائیت کے نزدیک عورت گناہ کی جڑ تھی اسی لیے وہ کسی عزت و احترام کی مستحق نہیں بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ مرد کی دلربائی کا فریضہ انجام دے ۔
ہندو مت میں عورت کو پست ذلیل و حقیر سمجھا جاتا رہا او ر شوہر کی چتا کے ساتھ عورت کو بھی جلا دینے کا رواج رہا، ، ہندو معاشرت اور قانون میں عورت کے لیے معاشی و تمدنی میدان میں کوئی حصہ نہیں، معیشیت میں کوئی حصہ نہیں، عمل و فکر کی قطعا آزادی نہیں، اس کے بر عکس جدید مغربی عورت کو آزادی دی گئی، مگر یہ مادر پدر آزادی نے عورت کو محض دل بستگی کا ذریعہ بنا دیا۔
قبل اسلام بیٹیوں کو زندہ جلا دیا جاتا رہا ، لکھنے پڑھنے سے محروم رکھا جاتا رہا ، قحبہ خانوں کی زینت بنائی جاتی رہی۔صرف اسلام ہی نے عورت کو انسانی اور سماجی حقوق عطا کیے، اسے وراثت کا حقدار ٹھہرایا، عملا حق مہر دلوایا۔ نازک آبگینے کہہ کر نرمی و در گذر کی تاکید کی، انتخاب رفیق کا حق دیا اور ماں بہن بیوی اور بیٹی کے روپ میں مجموعی طور پر وہ وہ شرف و وقار اور تحفظ عطا کیا جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ اصل المیہ یہ کہ اسلام نے عورت کو قرآن و سنت کے جن اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی تھی، دور حاضر کی عورت نے ان کی نفی کر کے بے حجاب ہو کر اپنے آپ کو پھر سے دور جاہلییت کی طرح مظلوم و محروم اور مرد کے لیے کھلونا بنا دیا، عورتوں کے لیے حجاب رب کا حکم ہے اور معاشرہ کو پاک صاف رکھنے کا عملی ذریعہ بھی ہے۔بے پردگی بہت بڑا فتنہ اور شیطا ن کا کاری وار ہے، کوئی قوم اس وقت تک زوال پذیر نہیں ہوتی جب تک اس کی عورتیں زیور حیا سے مزین اور مرد شمشیر غیرت سے مسلح ہوں۔
مذہب اسلام نے عورت اور مرد کو بحیثیت انسان بنیادی انسانی حقوق میں مساوات اور یک رنگی عطا فرمائی، مرد و خواتین دونوں ہی کے لیے ایک ہی نظام عقائد ہے، دونوں ہی کے جنت میں مقیم رہنے، نونوں کے اکھٹے لغزش کھانے اور دونوں کے زمین پر بھیجے جانے اور دونوں ہی کی جانب سے توبہ قبول کیے جانے کے احوال یکساں ہیں، اخلاقی لحاظ سے دونوں میں مساوات ہے، یعنی فضائل اخلاق اور رذائل اخلاق کی راہیں ایک جیسی ہیں، نیکی اور بدی کا بدلہ یکساں ہے اور دونوں میں سے جو جتنا تقوی میں بڑھ جائے مرتبہپاسکتا ہے۔ حلال و حرام کی قیود بھی دونوں کے لیے یکساں مقرر ہیں۔ نیز دونوں کے ساتھ عدل و انصاف کے قوانین بھی یکساں ہیں لیکن اللہ کی اس کائناتی تقسیم میں مرد اپنی جگہ ذمہ دار ہیں اور عورت اپنی جگہ۔ عورت قیمتی خزانہ ہے گھر اور خاندان کا اہم ستون عورت ہے، وہ گھر گھر نہیں جہاں عورت نہیں، جب بھی کسی آئیڈیل گھر کا تصور ذہن میں آتا ہے تو پہلی تصویر اس پرسکوں گھر کی ابھرتی ہے جہاں ہر کام ایک جادوئی میکنزم کے تحت شیڈول کے مطابق ہوتا نظر آتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ مرد کو کسب معاش کا ذمہ دار بنا کر بیرون خانہ کے تمام کام تجارت، زراعت،صنعت و حرفت، معیشیت، فوجی دفاع سونپ دیا گیا تمام سخت بھاری اور مشقت کے کام مرد کے ذمہ ڈالے گئے اور عورت کو شمع حرم بنا کر آئیندہ نسل کی تخلیق، پرورش،کفالت تربیت و جملہ خانہ داری کے فرائض سونپے گئے۔ دراصل عورت کی اصل بنیادی ذمہ داری گھر کی فضاکو سنوارنا ہے، گھر بنانا ہے گھر توڑنا یا بگاڑنا نہیں ہیے، اسلام مین مرد و زن کوئی حریف یا مخالف جنس نہیں،نہ ان میں کوئی معرکہ کار زار گرم ہے، نہ ہی مردوں کی بے جا حمایت ہے اور نہ ہی عورتوں کا استحصا ل ہے بلکہ رب کائنات کے نزدیک تمام عورتیں اور مرد من حیث الانسان برابر ہیں اور مقصد اسلامی و آئیڈیل معاشرے کی تخلیق ہے،وہ اللہ جو تمام مخلوقات کا خا لق ہے ستر ماوں سے بڑھ کر چاہنے والی ذات،کیا وہ ہی نہیں جانے گا، کہ اس کی مخلوق کے لیے کیا بہتر ہے۔ عورت اصلا گھر کی مالکہ ہے ، ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔
شوہر کا خیال رکھنا اس کو کسب معاش کے لیے گھر سے سکون و راحت فراہم کرنا بچوں کو اچھے باشعور بنا کر قوم کے مستقبل کو سنوارنا ہی ماں کا اصل ہدف ہے، بڑے بڑے بزرگ ولی اللہ،نبی ولی شھہد سب ما ں ہی کی تربیت کا نمونہ بن کر ابھرے، اسلام ماں کے قدموں تلے جنت کہہ کر عورت کو خیر کی بنیاد قرار دیتا ہے،، نکاح کے ذریعے عورت کو محصنات قرار دے کر باعزت مقام عطا کرتا ہے جبکہ مغربی معاشرے سے مستعار لیے گئے مساوات مرد وزن کے پر کشش نعروں اور سرمایہ داروں کی چال نے آج کی عورت کو امن و سلامتی کے حصار سے نکال کر اپنے ہی ملک اپنے ہی شہر اور اپنے ہی محلے میں غنڈہ ازم کا شکار بنا دیا ہے۔ گجرات کا سانحہ، گوجرانوالہ، چشتیاں، زینب سمیت نہ جانے کتنی ہی معصوم بچیوں کے اغوا و تشدد، ہماری اخلاقیات، ہمارا قانون ہمارے حکمران ان سب کے دامن پر یہ ایسے گندے و داغدار دھبے ہیں جن کو کسی پانی سے نہیں دھویا جا سکتا۔ بہ نسبت دور اسلامی کا سعادت والا زمانہ، جہاں عورت اپنی عصمت کے ساتھ محفوظ تھی۔
دور جدید کا المیہ کہ شہر شہر قصبے قصبے رقص گانے بجانے، ماذلنگ اور عورت کی عریاں تصاویر نے ماحول کو آلودگی سے پرکر دیا ہے، عورت کی نسوانی وقار کو تار تار کر کے اس کو صرف مال بیچنے کی جنس بنا دیا اور لباس کی حدود و قیود سے آزاد عورت اپنے اوپر ہونے والے استحصال پر نوحہ کناں کہ اسے آزادی چاہیے۔ یہ انقلاب دور جاہلیت کی طرف لوٹائے جانے کا انقلاب ہے جبکہ اسلامی انقلاب دین کے صحیح ایمان و شور سے پیدا ہوتا ہے اسلام کے معاشرتی قوانین کا فیض ہے کہ زوجین میں بے حد محبت ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے پر جان دیتے ہیں۔بطور بیوی کے حضرت خدیجہ کا کردار سب خواتین کے لیے مشعل راہ ہے، جنہوں نے نہ صرف قبول اسلام میں سبقت کی بلکہ بار نبوت کو اٹھاتے وقت اانحضور ﷺ کے کانپتے دل کو تسلی دی،ان کی ڈھارس بندھائی،پھر اپنا مال، اپنا دل و دماغ، اپنے غور و فکر کی پوری قوت،،اپنی ہمدردیاں، جانثاریاں سب حضور پاک ﷺ کی محبت میں آپ کی ذات مبارک پر نچھا ور کر دیں۔تمام امہات المومنین تمام صحابیات،راہ حق میں اپنے مردوں کی ڈھارس بندھانے والی،گھریلو پریشانیوں سے ان کو نجات دلا کر
فریضہ اقامت دین کے لیے ان کو زیادہ سے زیادہ وقت و سکون اور اطمینان مہیا کرنے والی، ان کو حرام سے بچا کر حلال کمائی پر قناعت کرنے والی، ہر تنگی ترشی میں انہیں اپنی غمگساری،ہمدردی اور تعاون کا یقین دلانے والی اور پورے خلوص و جانثاری سے ان کی اطاعت اور
خدمت بجا لانے والی تھیں، سب اپنے شوہر کی خوشنودی پر جان دیتی تھیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بغیر محبت و اطاعت کے رشتہ نکاح ایک جسد بے روح ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ روئے زمین پر جتنے بھی مسلمانوں نے کارنامے انجام دیے، ان میں بیویوں کی تر غیب و تحریص کو بہت دخل ہوتاتھا الغرض گھر عورت کی واحد پناہ گاہ ہے اور دور جدید کے مساوات مرد و زن اور ترقی نسواں کے نعرے شیطان کے حربے ہیں جن سے بچ کر ہی عورت نہ صرف اپنے حقوق حاصل کر سکتی ہے بلکہ تحفظ و عزت بھی پا سکتی ہے..




































