
روبینہ اعجاز
یارمیں تو تنگ آگیاہوں اس مہنگاٸ سے،بلو ں میں جانے کیسے کیسے ٹیکس ڈال دیٸے ہیں جو چیز لینےجاٶ ہر
چیز میں ٹیکس،پٹرول تو اس کی قیمت آسمان پر ،ان سب چیزوں کو پورا کریں تو تنخواہ پوری ہو جاتی ہے۔گھر کے باقی خرچے کہاں سےپورے کریں؟
دور دور سے سنتے ہیں .کسی نے اپنے بچےبیچ دیٸے کسی نے پھانسی لےلی۔چوریاں رشوت سود کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔بجٹ آتےہیں تو سرکاری ملازمین کی موجیں ہو جاتی ہیں۔ہم غریبوں کے لیے تو بجٹ میں کوٸ حصہ نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کی عیاشیوں کےخرچےان کی گاڑیوں کے پٹرول ان کے گھروں کے بل اور ایوانوں کے خرچےبھی ہم سے لیے جاتےہیں۔
کیا قصورہےہمارا؟کہ ہم پاکستان میں پیداہوئے۔یہاں پلےبڑھےبڑوں سےسنتے تھے۔
حضرت عمررض کی حکومت،وہ اپنی رعایا کا بہتخیال رکھتے تھے!پاکستان بھی تو اسلام کےنام پرحاصل کیا گیا ہے۔کہاں ہیں ایسےحکمران جو اپنی رعایا کا خیال رکھیں.ان کو مشکلوں سےنکالیں.... ذوہیب بولتا چلا جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
بس کرو بس کروذوہیب.علی نےتنگ آکے کہا۔یہ بس سب کہنے کی باتیں ہیں۔ورنہ دلی طور پر ہم راضی ہیں۔ایسے ماحول میں اورایسی کرپشن میں ایسے سودی نظام میں۔اگر ہم راضی ناہوتےتو اپنے اردگرد گرد نظر دوڑاتے اور دیکھتے۔کون ہےہمارا ہمدرد خیرخواہ صادق اورامین؟
کیا مطلب علی؟ کیا آج کے دورمیں بھی کوئی ہےجو ہماراخیرخواہ ہو ؟ذوہیب نےپوچھا۔جی بالکل
میں کسی ڈھکی چھپی جماعت کی بات نہیں کررہا، میں جماعت اسلامی کی بات کررہا ہوں. 80سال ہو گٸے اس جماعت کو بنے ہوۓ،اتنی سینئر جماعت ہے۔26 اگست 1941 میں75 افراد اس سےوابستہ تھے مگر اب اس جماعت میں لاکھو ں کی تعداد میں لوگ شامل ہیں. اس جماعت کا 80 سال پہلے بھی جو نصب العین تھا ۔آج 2022 میں بھی ہے ،اسی اپنے نصب العین کے مطابق چل رہی ہے۔کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قاٸم کرے گی ۔جماعت اسلامی ہر طبقہ زندگی پر کام کررہی ہے.ماشاءاللہ
اسلامی جمعیت طلبہ
اسلامی جمعیت طالبات
جے آئی یوتھ
جے آئی کسان
تنظیم اساتذہ
آفاق
جمعیت اتحاد العلما۶
ڈاکٹرز میں پیما
ہومیو پیتھک ڈاکٹرز میں ایما
وکلا میں آئی ایل ایم
اس جماعت کے100 سے زیادہ شعبےکام کر رہے ہیں۔درس وتدریس کےذریعےعورتوں اور مردوں کی تربیت کرتے ہیں،سوشل میڈیا کے ذریعےنوجوانوں کی تربیت کی جاتی ہے۔شعبہ اطفال میں بچوں کی تربیت کرتے ہیں
جہاں 5 سال سے 12 سال کے بچوں کواحادیث دعاٸیں آداب اور چھوٹےچھوٹے لیکچرزکےذریعے بچوں کو اللہ کی پہچان کرائی جاتی ہے۔اسمبلیوں میں عوام کے نماٸندے کی حیثیت سے بولتےہیں
اسی لیےتوکرپٹ اشرافیہ کبھی نہیں چاہتا ۔کہ جماعت اسلامی اپنے نیک مقصد میں کامیاب ہو جائےگی جورضائے الہی ہے ۔ کسی کےچاہنے یانا چاہنےسے کیا ہوتاہےجب اللہ چاہےگا۔جماعت اپنے پورے عروج کے ساتھ آگےآئے گی۔یہ تومجھے نہیں پتا تھا علی-پھر تو ہمیں ضرور کوشش کرنی چاہیے کہ جماعت کے بندوں کا ساتھ دیں اوراس دفعہ ہونے والےالیکشنوں میں جماعت کو کامیاب کرواٸیں اور ضروراپنےملک میں اللہ کا نظام قاٸم کروا کر اسلامی پاکستان کی خوشحالیاں دیکھیں اچھا تو چلو ذوہیب جن سب حالات سے تنگ آکر تم اتنا پریشان ہو تو پھر آگے بڑھو اور سب جاننے والوں خاندان والوں دوستوں اور رشتہ داروں کو تیار کرو کہ ہم سب جماعت اسلامی کو ووٹ دیں گے ،کیونکہ سب پارٹیاں کرپشن میں مل گٸ ہیں اور صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی ہے ۔جو نہ کبھی بکے گی نا جھکے گی ان شاء اللہ۔ پھر دونوں کے منہ سے بے ساختہ نکلا،اس وقت ہر مسئلہ کا حل صرف جماعت اسلامی ہے ۔
نوٹ :ایڈیٹرکا بلاگرکے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں (ادارہ رنگ نو)




































