
ماہم احسن
اسکول میں بریک کی گھنٹی بج چکی تھی۔عارف ریاضی کی کاپی ہاتھ میں پکڑے احمر سے کہ رہا تھا۔
یار میں بہت پرشان ہوں ۔ریاضی کے سوالات بہت مشکل ہیں اور سونے پہ سہاگہ پہلا پیپر ریاضی کا ہے! " آخر کیا حل ہے اس کا؟؟؟
حل صرف جماعت اسلامی...." احمر نے گا گا کر کہا۔
تمہاری جماعت کی تو خیرہےلیکن تمہاری خیرنہیں ہے۔آج تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ " عارف دانت پیستے ہوئے اس کے پیچھے بھاگا۔
احمر اورعارف دونوں پکے دوست تھے۔جب سے بلدیاتی انتخابات کی ہوا چلی تھی ، احمر کو سیاست سے بہت زیادہ دلچسپی ہوگئی تھی۔ تب سے احمر کا " حل صرف جماعت اسلامی" تکیہ کلام بن گیا تھا۔ عارف کی فیملی پی ٹی آئی کی جبکہ احمر کی فیملی جماعت اسلامی کی تھی ۔عارف کو تو سیاست سے اتنی دلچسپی نہیں تھی جتنی احمر کو تھی وہ اس کا اظہار اپنی پوسٹوں میں کرتا رہتا تھا اور عارف سے بھی خوب بحث کرتا۔
فیس بک پر بھی خوب پوسٹس لگاتا۔ دونوں دوستوں کی چھوٹی موٹی نوک جھوک ہوتی رہتی۔
یار احمر، تم سے ایک مشورہ درکار ہے،امتحان سے پہلے ہمارے پاس ایک ہفتہ ہی بچا ہےاور اس ہفتے تمام گھروالے شادی میں شرکت کے لیےجا رہے ہیں۔تم مجھے بتاؤ کیا کروں میں؟ اس کا کیا حل نکالوں؟"
عارف رو دینے کو تھا جبکہ دوسری طرف احمر اس کی پرشان آواز سن رہا تھا۔
" میرے پاس تو ایک ہی حل ہے۔ " احمر کی سوچتی ہوئی آواز آئی ۔
" اور وہ کیا؟ " عارف نے جلدی سے پوچھا۔
" حل صرف جماعت اسلامی" احمر چڑانے والےانداز سے بولا۔
" اف ! تم بدتمیز !میرے سامنے آؤ ایک دفعہ ۔۔۔۔۔۔۔" عارف غصے سے بولا۔ دوسری طرف احمر پیٹ پکڑ کر ہنس رہا تھا۔۔
اف ! واٹس ایپ پر ایک پکچر کھیچنےمیں کتنی دیر لگتی ہے ؟ "وہ جھنجھلآ رہا تھا۔
کیا ہوا؟ لائبہ نے پوچھا۔
" آج میں نے طبیعیت خراب ہونے کی وجہ سے چھٹی کرلی تھی نا اپنی کلاس کے تمام لڑکوں کو واٹس ایپ پرمیسج کرکر کے تھک گیا ہوں لیکن مجال ہے کہ کوئی کام سینڈ کردے۔ "
عارف کو واٹس ایپ کردو۔ وہ تو ہمیشہ کام سینڈ کر دیتا ہے ؟ لائبہ نے اس کے درینہ دوست کا نام لیا۔
" وہ ناراض ہے مجھ سے۔ "
کیوں؟ “ لائبہ نے حیرانی سے پوچھا۔”
میں اسے چڑاتا رہتا ہوں۔ "حل صرف جماعت اسلامی " کہہ کہہ کر اور اب وہ ناراض ہے۔
دیکھو احمر، تم دونوں اچھے دوست ہو۔ابھی تو ووٹ دینے کی عمر بھی نہیں ہے۔" احمر کی بڑی بہن لائبہ اس کو سمجھا رہی تھی۔
دوسال تو رہ گئے۔ پھر میں بھی ووٹ ڈالوں گا۔ اب بچہ نہیں ہوں میں۔
" یہ دیکھیں ، عارف نے پوسٹ ڈالی ہے فیس بک پرمیں نے لکھ دیا " حل صرف جماعت اسلامی" احمر ہنس کر بولا۔
موبائل چھوڑو" لائبہ نے اس کے ہاتھ سے موبائل لیا۔ "اور یہ بتاؤ اسکول کے کام کا کیا کروگے؟ "
حل ہے میرے پاس "
اور وہ کیا؟"
حل صرف جماعت اسلامی" احمر جلدی سے اٹھ کر بھاگ گیا ۔لائبہ نے غصے سے اس کو جاتے دیکھا ۔ اور پھر مسکرادی۔
اسکول سے نکلتے ہی عارف کے سرپر پانی کی بوندیں گرنے لگیں۔ بارش اتنی تیز ہو رہی تھی کہ عارف پورا کا پورا بھیگ گیا۔ اچانک اس کو خیا ل آیا کہ پریکٹیکل جرنل تو اس کے بیگ میں ہی رکھا ہوا ہے۔ وہ جلدی جلدی چلنے لگا۔ گھر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ تمام کاپیاں بری طرح بھیگ چکی تھیں اور پریکٹیکل جرنل کا تو حال ہی برا تھا۔ اس نے سر پکڑ لیا۔
"اف اتنی محنت کی تھی۔ اب کیا ہوگا اس کا؟ " اچانک اس کے منہ سے نکلا۔
"حل صرف جماعت اسلامی" ۔ یہ بات کہتے ہی اس نے چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا۔
"کہیں کسی نے سن تو نہیں لیا؟" پھر وہ زیر لب مسکرانے لگا ۔




































