
میمونہ یحییٰ
جسم کی آ زادی اصل اور حقیقی آ زادی نہیں۔اگر قلوب اذہان نظریات عقائد معاملات اورمعمولات غیروں کےمرہون منت ہوں تو جسم آزاد ہوتے ہوئے بھی
انسان بدترین غلامی میں مبتلا ہے۔ جسم غلام اور ذہن آزاد ہو تو اللہ اس جسمانی قید سے نجات کی کوئی نہ کوئی سبیل نکال دیتےہیں ،مگر جب ذہن غلام اور جسم آ زاد ہوں تو یہی غلامی کی بدترین شکل ہے جس میں امت مسلمہ دھنسی ہوئی ہےمرغیانہ چال سرجھکا کر غیروں کے پھینکے ہوئے دانے یہ کرشمہ دکھاتے ہیں کہ اس قوم سے خودی و خوداری ہی چھین لیتے ہیں پھر انہیں مرغیانہ چال اور بھیک میں پھینکے ہوئے دانے ہی بھاتے ہیں اسی سے راضی بہ رضا رہتے ہیں یہ بھیک کے دانے انسان کی غیرت حمیت خودی اور خوداری کی موت ہیں
اللہ نے تو نبی کی زبان سے فرمایا تھا کہ تم مجھ سےیہ یک نکاتی کلمہ لاالہ الااللہ لے لوتوعرب اورعجم کےخزانے تمھارے زیرنگیں ہوں گے.عرب اور عجم کے خزانوں سے مراد دنیا کی امامت و سربراہ کاری اور پھر اس کے نتیجے دنیا تمھارے لیے مسخر کردی جائے گی اور ایسا ہوا بھی چشم فلک نے وہ نظارا دیکھا بھی کہ ان عرب بدوؤں کو جو زندگی میں کسی ضابطے اور قانون کے پابند نہیں تھے اس یک نکاتی کلمے کلمے کوتھام کر دنیا کے امام بن گئے غیروں کےسسٹم کی پیروی کرنےوالےنہیں بلکہ اپناسسٹم خود تخلیق کرنے والےاور دنیا کواسپر چلانے والے بن گئے۔
امت مسلمہ کو تو وجود میں ہی اسی لیےلایا گیا تھا کہ وہ اپنی دنیاآپ پیداکریں وہ کسی کے پیچھے نہیں بلکہ دنیا ان کے پیچھے چلے۔ مگر نبوت و خلافت ہی وہ زرین دور تھے جب چشم فلک نے وہ تجدید واحیائے دین کا وہ حسیں نظارہ بھی دیکھا کہ معاشرے میں خوشحالی امن سکون کا وہ دور دورہ تھاجب زکوٰۃ لینے والے لوگ ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے مسجدیں نمازیوں سےبھری ہوتی تھیں اور زمیں دہل جاتی تھی مومن کے سجدوں سے اور اب زمیں ترستی ہے اور تلاشتی ہے ان نمازیوں اور ان سجدوں کو۔
قران میں بیان کیے گئےمختلف قوموں کےقصےاس بات پر شاہد ہیں کہ جب کسی گروہ کا رشتہ اور رابطہ اس یک نکاتی کلمے اور اسکی اقامت سے منقطع ہوا اور اس کے نفاذ سےاعراض برتا تو شیطان کا تر نوالہ بن گئی ۔مختلف قوموں کی تہذیب و تمدن اورعقائد و نظریات کا شکار ہوگئی اور اپنی انفرادیت جو اللہ نے اسے بخشی دوسری قوموں کی نقالی میں گم کر بیٹھی.
آ ج ٹرانس جینڈر کا قانون ہویاعورت کی نام نہاد آزادی کا قانون سودی قوانین یوں یاعدالتی قوانین معاشی قوانین ہوں یا معاشرتی اصول وضوابط بے حیائی کا کلچر ہو یا نظام تعلیم یا نصاب تعلیم سب کچھ مغرب کا مستعار ہے اور ملک کو سیکولر بنانے کی طرف پیش قدمی ہے ۔ پہ سب اسی کلمے کو ترک اور رد کرنے کا شاخسانہ ہے چاہے ہم دن میں دس ہزار باربھی کلمے کا زبانی ورد کرتے ہوں جب تک اسکی اقامت و نفاذ نہیں اس کا کوئی وزن نہیں ۔ یہ سرکشیانہ اور باغیانہ روش ہے۔
مغرب جو آج الہہ کے درجے پر فائز ہےاسی کےقوانین اسی کی اسکیم اسی کے ضابطے اسی کےقاعدے أس دنیامیں غالب ہیں تو یہی وہ الہی منصب ہے جس کا مغرب دعویدار ہے اور وہ امت جس کو دنیا کو لیڈ کرنا تھا، وہ بنی اسرائیل کے طرز فکر و عمل اپنا کر دنیا میں ذلیل وخوار ہے کیونکہ جس طرح بنی اسرائیل نے تجدید و احیائے دین پر مبنی خدائی کائناتی اسکیم لا الہ الااللہ کی اقامت ونفاذ کو ترک کیا تو ذلیل و خوار ہوئی اوراس کی طرز فکر وعمل کو گلے لگاکر امت بنی اسماعیل بھی ذلیل و خوار ہے ۔ اور تب تک رہیگی ۔ جب تک دوبارہ اسی لا الہ الااللہ کے احیائی کلمے اور اس کی اسکیم سے نہیں جڑ جاتی دوبارہ اسی اقامتی راہ روش اور رستے پر نہیں آ جاتی ۔ اسی بھولے ہوئے سبق کو خود بھی یاد کرنا ہے اور امت کو بھی یاد کرانا ہے اسی میں ہماری سرخروئی ،ترقی ،بلندی عظمت اور شان و رفعت ہے ۔ بصورت دیگر خاکم بہ دہن ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
نوٹ: ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں( ادارہ رنگ نو )




































