
فوزیہ تنویر
سالوں سے پاکستانی معاشرے میں بے حیائی کا جوزہر ڈھکے چھپےاور کہیں کھلم کھلا نہایت ہوشیاری سےپھیلایا جا رہا تھا، اس کی تباہ کاریاں
ایک خطرناک فتنےکی صورت میں اپنی تمام ترغلاظتوں کےساتھ ابھر کر سامنےآگئی ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ گندگی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے، اس کے آگے مضبوط بند باندھنے پڑیں گے۔
ہر پاکستانی کوکمر کس لینی چاہیےاور دھڑے بندیوں کی سیاست سے بالاتر ہو کراپنی آئندہ نسلوں کی بقاء اور سلامتی کے لیے فکر مند ہونا چاہیے حالانکہ ہمیں بہت پہلے ہی ہوشیار ہو جانا چاہیے تھا لیکن شاید یہ ہمارا مزاج بن گیا ہے کہ جب بھی کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے تو ہر طرف خوب شور مچتا ہےلیکن پھر بھول کر روز مرہ کےکاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
اللہ نے بار بار غوروفکر کی دعوت دی ہےلیکن مسلمانوں کےپاس ایک غورو فکر کا ہی تو وقت نہیں ہے۔صاف دکھائی دے رہا تھا کہ تعلیم کے نام پر کیا ہو رہا ہے، مارکیٹوں میں، چوراہوں پر،میڈیا میں، غرض ہر جگہ کسی نہ کسی سطح پر فحاشی دکھائی دے رہی تھی لیکن کسی نے بھی کوئی خاص نوٹس نہ لیا۔ ہاں کچھ سرپھرے لوگ واویلا مچاتے ہیں لیکن ان کو دقیانوسی کہہ کردبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بے حیائی اور فحاشی کا وبال جب کسی بڑے حادثےکا سبب بنتا ہے تو تھوڑی دیر کےلئےسب کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اوررودھو کر متاثرہ خاندان سے اظہار افسوس کرلیا جاتا ہےلیکن پھر وہی بے حسی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہےجب تک کوئی دوسرا بڑا حادثہ رونما نہیں ہوتا۔ ہماری اسی غفلت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج تمام سیاسی پارٹیاں اس بے حیائی کو قانونی شکل دینے کے لئےگٹھ جوڑکیےبیٹھی ہیں۔
یہ عوامی نمائندے ٹرانس جینڈرکےحقوق کے نام پراتنی بڑی جرأت کرنےچلے ہیں۔ یہ جرأت ان کو کس نے دی ہے؟ ظاہر ہے اس ملک میں بسنے والے لوگوں نے ہی دی ہے۔ کیا ان سیاسی پارٹیوں کے چیلوں کو اپنی اولادوں سے اتنا پیار بھی نہیں ہے کہ کم از کم دنیا میں تو ان کو تباہی سے بچا لیں آخرت کا تو شاید انہیں یقین ہی نہیں ہے۔ اللہ رحم کر،اس ملک کے باسیوں کو کچھ تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا فرما کہ اس تعفن زدہ سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لئے یکجا ہو جائیں۔
خبر دار ہو جاؤ! گندگی کا یہ سیلاب صرف مخصوص علاقوں کو ہی اپنی لپیٹ میں نہیں لےگا بلکہ پورے معاشرے میں تباہی اورغلاظت پھیلا دے گا۔ جس میں برے لوگ تو اپنی برائیوں اور بدفعلیوں کے ساتھ ڈوبیں گے ہی ساتھ ساتھ عبادت گزاروں کی شب و روز کی عبادتیں بھی بہہ جائیں گی۔ اس تیزی سے اٹھنے والے فتنے کو نظرانداز نہ کریں۔ اس کی سرکوبی کے لئے ہر ایک پاکستانی کو میدانِ عمل میں آنا ہوگا نہیں تو بہت دیر ہو جائے گی۔
نوٹ :ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں (ادارہ رنگ نو )




































