
نورالسحر
اب جبکہ پاکستان میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پاس ہونےکےآخری مراحل میں ہے ہمیں بحثیث مسلمان سمجھنا ہوگا کہ
ٹرانس جنیڈرہےکیا۔۔۔؟ جس کے خلاف سنیٹر مشتاق (جماعت اسلامی) سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں اور پارلیمنٹ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان کا ساتھ دے؟
یہ بل 2018 میں Intersex(خواجہ سرا )کے حقوق کے تحفظ کےلئےپاس ہوا۔اس کے مطابق کوئی بھی مخنث بغیر میڈیکل ثبوت کےاپنے احساسات وجذبات کےبل بوتے پرجنس کے تعین کا حق رکھتاہے۔
گویا اگر ایک مخنث نسوانی جذبات رکھتاہےتواپناجنس سرجری کےذریعے تبدیل کرنےمیں حق بجانب ہے۔اسی طرح احساسات مر دانگی رکھنے والا مخنث بھی اپنا جنس تبدیل کروا سکےگا۔اس قانون میں ٹرانس جینڈر پرسن کی تعریف نمبر 3 اور 2 میں مکمل مرد وعورت بھی اپنے احساسات وجذبات کی بنیاد پر جنس تبدیل کر سکے گے۔
ذرا سوچئے اگر یہ قانون پاس ہو جا تا ہےتومعاشرے سےمرد و زن میں فرق مٹ جائےگا،جنس پرستی عام ہو جائے گی۔ اسلام کے قانون وارثت میں خلل واقع ہو گا۔ صاف واضح لفظوں میں ہمارے حکمران قہر خداوندی کو آواز دینے پر تولے ہوئے ہیں۔۔۔۔
اس ضمن میں میرا اور آپکا کام یہ ہے کہ اس کے نتائج خبیثہ پراچھی طرح غوروخوض کریں۔۔۔۔۔
پھرشوشل میڈیا پر آواز اٹھائیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےانسانی حقوق کو ای میل کریں۔خطوط لکھیں اورعلماء کرام اپنا دین فریضہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف باہم متحد ہو کرفتویٰ جاری کر کے حکمرانوں کو لگام دیں ورنہ تیری بربادی کے مشورے ہیں آسمانوں میں ۔




































