
آسیہ محمد عثمان
کس کس بات پرافسوس کروں کس کس حق کا تقاضا کروں۔ تیزی سےدوڑتی ہوئی یہ زندگی نہ جانےکتنے لوگوں
کے خواب اورخواہشات کوروند کر آگے نکل جاتی ہے۔ خواب اورخواہش پھر چلو چھوڑ دیتے ہیں ، یہاں تو ضرورتیں بھی پوری نہیں ہوتیں۔ ایک روٹی کے لیے اتنی شرمندگی، اتنی ذلت اور اتنی مشکل اٹھانی پڑتی ہے۔
لباس،تعلیم ، صاف پانی، بجلی،پیٹرول، گھر، گاڑی ان سب پر توجیسے لیبل لگا دیا گیا ہے"تمام سہولتیں غریب کی پہنچ سے دوررکھیں" سوکھی روٹی کمانا ہی مشکل بنا دیا ہے۔ ہر کوئی غریبی مٹاٶ کا نعرہ لگاتا آتا ہے اور لاکهوں غریبوں کو مٹا کرچلا جاتا ہے۔
اکثرخیال آتا ہےکہ ہم کہیں گونگےبہرے تو نہیں ہوگئےنہ حق کہتے ہیں نہ سنتے ہیں۔ ضمیر سوئے نہیں مرگئے ہیں۔ لوگ بھوک و پیاس سے مر رہے ہیں اور ہم بے خبررنگوں سےبنی دنیا میں مگن ہیں۔ جو ہاتھ پھیلا کر مانگ رہے ہیں ان پر توپھر صبر آجاتا ہےمگر سفید پوش کا کیا جو اپنی سفید پوشی میں ہی دفن ہو جاتے ہیں۔
کل ہی ایک ایسا سفید پوش دیکھا بس دل دہل سا گیا۔آنکھیں نم ہوگٸیں۔کریانے کی دکان پر کھڑا یہ مزدور مٹی سےاٹے کپڑوں میں کھڑا چندسکے لیےدکان کےکونے میں کھڑا انتظارکررہا تھا کوئی دس کلو آٹا لےرہا تھا تو کوئی تین کلو تیل دکان دار اب اس کی طرف آیا۔ مزدورآدمی نے تیس روپے کا تیل مانگا تو دکان دار نے صاف انکارکر دیا ۔ کھلا تیل گھی بند ہوگیا۔ اب جو آدمی دن بھر میں تین سے چارسو کماتا ہو کیا اس کا حق نہیں کےوہ بھی چند قطرے گھی تیل کھا لے۔
یہی نہی بچت بازارجانا ہوا تو سبزی کے بھاٶ صرف حکمرانوں سےباتیں کر رہے تھے،ہمیں تو منہ چڑا رہے تھے۔ٹماٹر اچھے اور لال سو روپے کلو پھر کچے ہرے ٹماٹراسّی روپے کلو پھر آتے ہیں ہم جیسے مزدور طبقے کے لیے ٹماٹو کیچپ کا مطلب گلے سڑے ٹماٹر وہ بھی پچاس سے ساٹھ روپے کلو۔چلو کوئی بات نہیں اسی ٹھیلے پر ایک کمزور بوڑھی عورت نے سارے اسٹینڈر کے ٹماٹروں کا بھاٶ پوچھا اورپھر پچاس روپے والے ٹماٹر میں سے صاف ٹماٹر نکالنے کی کوشش میں لگ گئی کچھ دیر بعد عورت نے تھیلی آگے کی اور پچاس روپے دے کر چلنےلگی پھر اس نے تھلی کھولی تو دیکھا ٹھیلے والے نے بھی اپنے حصے کی کرپشن کر دی سڑے ہوئے ٹماٹر ڈال دیئے عورت نے ایک ٹماٹرتبدیل کر لیا تو کرپٹ دکان دار کو برا لگ گیا اس نےپوری تھیلی کمزور عورت سے چھین کر ٹھیلے پر انڈیل دی اور پچاس روپے دے کرکہا۔ پچاس کے ٹماٹر لیے ہیں اس پربھی اتنے نخرے۔
بھائی صاحب وہ پچاس روپےاس کی محنت کی کمائی ہےتمہیں بھی غریب ہی ملے ذلیل کرنے کو باقی مہنگے خریداروں کو تو اضافی ڈال کر دےرہے ہو۔پچھلے دنوں سیل لگی تو ہم بھی چلے گۓ شیشے کے بنے بڑے سے شاپنگ سینٹر میں اٸیر کنڈیشن میں تازے تازے جوتے سجے ہوئے تھےتازے اس لیے تھے کےاے سی میں رکھے تھےگرمی میں رکھتے تو شاید خراب ہو جاتے۔بہرحال پورا شاپنگ سینٹر گھومنے کےبعد جب باہر نکلے تو خالی ہاتھ گھر جانے میں شرمندگی محسوس ہوئی سو چند قدم کے فاصلے پر ایک بزرگ کولا پوری چپل اورکھوسے زمین پر سجائے بیٹھے تھے مجھے وہی باسی کھسے پسندآگئے چارسو پچاس روپے میں اور کیا چاہیے۔ تب ہی دو خاتون سن گلاسس لگائے چھوٹی بہن کی جینز پہنے کولا پوری چپل پسند کرنے لگی دونوں نے ایک ایک جوڑی لی اور کہا چاچا دونوں کے چھ سولے لو بس۔لو بھئی یہاں بھی غریب ہی سےجوڑتوڑہوگا۔ بڑے بڑے شاپنگ بیگ بھر لیے یہ کہہ کرکہ سیل لگی ہےجس میں ایک چپل اٹھارہ سو تک کی تھی۔
مارٹ سے خریداری کرنی ہو توہر شے کےساتھ لکھی قیمت پرہی صبر آجاتا ہےاورغریب کے ٹھیلے سے کچھ لینا ہو تو گنجاٸش چاہیےواہ جی۔ پیک مونگ پھلی لینی ہوتو گھر جا کر ہی پیکٹ کھولےگا اور اگر ٹھیلے سے لی تو دس بارہ وہی کھڑے کھڑے کہا لو وہ بھی مفت میں۔ یہ توغریب کےساتھ ظلم ہوگیا۔ اگر ہم ہی ایک دوسرے کا احساس نہیں کریں گےتو کون کرے گا۔اس لیے خریدوفروخت میں نرمی اختیار کریں کوشش کریں چھوٹے دکاندار اور ٹھیلوں سے خریدیں۔ بچوں اور بزرگوں سے خاص تو پر خریداری کریں۔ بزرگ اپنے بچوں کے لیے حلال کماتے ہیں اور بچے کم از کم محنت تو کر رہیں اگر ہم ساتھ نہیں دیں گے تو وہ حرام کی طرف چلے جاٸیں گے۔
اسی طرح خود کو ظلم کا عادی نہ بنائيں کیوں کہ حد سےزیادہ ظلم سہنےوالا بھی ظالم ہوتا ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھاٸیں یا جو آپ کے حق میں آواز بلند کرتےہیں کم از کم ان کا ساتھ ہی دے دیں۔ ہم حکومت کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے جب دل دکھتا ہے تو آہ! تو نکل ہی جاتی ہے لیکن عوام بھی تو طاقت رکھتی ہے اسے بھی حق حاصل ہے کہ اپنا رہنما خود چُنے مگر ہم تو کبھی اس بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ اسی طرح ایک خالی ڈبے میں اگر بہت سارے پتھر ڈال کر زور زور سے ہلایا جائے تو آواز کس کی آئے گی ڈبّےکی؟
نہیں ڈبّہ تو خالی اور کھوکھلا ہےاس میں شور کرنے والے اور اس ڈبے کو آواز دینے والے پتھر ہیں جنہیں بعد میں راستے میں پھینک دیا جاتا ہےتو اسی طرح حکمران تو خالی آتےہیں ڈبّےکی طرح ہم عوام ہی ان کے حق میں نعرے لگا کر اور ووٹ دے کر کرسی پر بیٹھا دیتے ہیں پھر ہم روڈ پر اور وہ کرسی پر نظر آتے ہیں۔ اپنے لیۓ ایسے حکمران چُنیں جو آپ کے درمیان ہوں آپ کے طبقے کے ہوں جو آپ کے مساٸل کو نہ صرف سمجھیں بلکہ روز خود بھی ان مساٸل کا سامنا کرتے ہوں پھر وہ آپ کی آواز بنیں گے خود روڈ پر بیٹھ کر آپکے حق کےلیے لڑیں گے۔
ووٹ ایک امانت ہےاورامانت امانت دارکو ہی دینی چاہیے جوخوف خدا رکھتا ہو ۔اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اپنے لیے آنے ولے مستقبل کے لیے۔ ووٹ ایک گوہی ہے اور جھوٹی گواہی دینا بھی گناہ ہے اسی طرح اگر آپ کے پاس اختیار ہے کہ آپ کسی کی مدد کرسکتےہیں تو مدد کریں اللہ کے لیے حق کی بات کہیں۔"مسلمان مسلمان آپس میں بھائی ہیں" تو ہمیں اپنے غریب بھاٸیوں کی مدد کرنی چاہیے خاص کر سفید پوش لوگوں کی۔ جنہیں ان سب کی سمجھ نہیں ان کی شاید پھر بھی پکڑنہ ہو لیکن جو ان سب باتوں کی عقل رکھتے ہیں آخرت میں ان کی سخت پکڑ ہوگی اوربے شک وہ آخری ٹھکانا ہے جہاں سے واپسی نہیں۔




































