
لبنیٰ مزمل
پل پل دل دہلا دینے والی خبریں ہیں دل غم سےپھٹ رہا ہےبار بار دل بھر آ تا ہےآ نکھیں نم ہوجاتی ہیں موبائل بند
کر دیتی ہوں مگر پھر بے چینی بڑھ جاتی ہےاور چین نہیں لینے دیتی پھر فیس بک کھول لیتی ہوں ہر طرف چیخیں سسکیاں آ نسو اور بہتے لاشے سوچتی ہوں کچھ لکھوں مگر کیا ؟۔ نوحہ لکھوں تو کس کا لکھوں ؟ تعزیت کروں تو کس کی کروں ؟ عیادت کروں تو کس کی کروں ؟ میرا توسندھ بھی بہ گیا بلوچستان بھی بہ گیا۔
خیبرپختونخوا بھی بہ گیا اور پنجاب بھی میں کراچی والی ہوں اوریہ سب میرے اپنے ہیں۔ یہ اسی طرح میرے دل میں بستے ہیں جیسے میرے جسم میں خون گردش کرتا ہےمیرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جنہیں میں ضبط تحریر میں لا سکوں آ نکھیں بند کروں توان پانچ بھائیوں کی دلدوز چیخیں اور پکار دہلا دیتی ہیں اس تین سالہ بچے کی لاش بہتی نظر آ تی ہے۔ میں چونک اٹھتی ہوں ۔ اپنے ارد گرد لیٹے اپنے بچوں کو پُرسکون نیند لیتے ہوئے دیکھتی ہوں ۔ مگر پھر بھی سکون نہیں ملتا ۔
رات کی تاریکی اور چاروں جانب سیلا بی پانی اورایک چھپر تلے وہ نو معصوم بہن بھائی ماں کو ساری رات پکارتے رہے۔ اماں بھوک لگی ہے اماں اندھیرا ہے اماں دودھ دے دو ۔ اماں مچھر کاٹ رہے ہیں ۔ اور وہ معصوم بچی جو کیچڑ میں لتھڑی اپنی کتابوں کو جمع کر رہی ہے ۔اور وہ لوگ جو اپنے آ شیانوں کو خیر باد کہنے ہوے اپنا قیمتی اثاثہ قرآن پاک ہی اٹھا پائے۔ دل کٹ رہا ہے یہ منظر دیکھ کر ۔اس مقدس کتاب کو کبھی سینے سے لگاتے ہیں تو کبھی ہونٹوں سے لگاتےہیں اور کبھی سر پر رکھ لیتے ہیں اوراپنے رب کےآگے گڑگڑانے لگتے ہیں ۔۔
چیختا۔۔۔ دھاڑتا۔۔ ٹکریں مارتاسیلابی پانی سب کچھ تہس نہس کرکےاپنے ساتھ بہا لےجا رہا ہے
گاؤ ں کے گاؤں صفحہ ہستی سےمٹ رہےہیں کیا انسان کیاجانورآسمان کی بلندیوں کو چھوتے چیڑ کے درخت یا کنکریٹ کے بنے ہوٹل سب ہی بہ رہے ہیں اورہمیں یہ باور کروا رہے ہیں کہ
جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
آج ہم جو اس آ فت ربانی سے محفوظ و مامون ہیں تو ہمیں اس وقت انصار کا کردار ادا کرنا ہے۔اپنےآفت زدہ بہن بھائیوں کےلیے اپنے دلوں کے دروازے وا کرنے ہیں۔ اور اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے
میرا رب بڑا رحیم و کریم ہے اگر آج آ پ اس کارخیر میں ایک ذرہ برابر بھی حصہ ڈالیں گے تو میرا رب آخرت میں دس گنا کر کے لوٹائے گا ۔




































