
صفیہ ملک صابری
حضرت علامہ اقبال رح کی نثر ہو یا شاعری آپ کےارُدو ہو یا فارسی آپ کےسارے کلام کا محورومرکز،خلاصہ،جوہر،لب لباب
صرف اور صرف عشق مصطفیٰ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلمّ اوراطاعت مصطفیٰ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلمّ ہے۔کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ذاتِ باری تعالیٰ تک پہنچنے کا صحیح اورسچا راستہ عشقِ مصطفیٰ صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلمّ ہی ہے۔آپ کے کلام میں آقا علیہ السلام کےساتھ عشق کے جو مناظر دکھائے دیتے ہیں ان کا احاطہ یااظہار کرنا تو بہت مشکل ہے۔لیکن ہم آپ کے کلام ہی سے سہارا لیتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جیسا کہ آپ اپنےفارسی کلام میں فرماتےہیں ۔
در دل مسلم مقام مصطفیٰ است
آبروئے ما زِ نام مصطفیٰ
است پنجہ او پنجہ حق می شود
ماہ از انگشت او شق می شود
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گربہ اونہ رسیدی تمام بو لہبی است ۔
یعنی اپنےآپ کو سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلمّ کی بار گاه تک پہنچاؤ کیونکہ دین سارے کا سارا آپ صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ بابرکات ہےاگر وہاں تک نہ پہنچ سکا تو تیری زندگی ابو لہب کی سی ہوگی۔، پھر فرماتے ہیں:
وه دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راه کو بخشا فروغِ وادی سینا
نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یاسیں وہی طہٰ
فرماتے ہیں
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استاده اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آماده اسی نام سے ہے
فرماتے ہیں
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد صلی ﷲ سے اجالا کر دے
فرماتے ہیں
لوح بھی بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
عشقِ مصطفی صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلمّ ٰ ہی آپکی زندگی کا محور و مرکز ہے آپ آقا علیہ السلام پر ہر وقت درود پاک بھیجتے اور اسی کی بدولت ہی دنیا میں اقبال کا اقبال بلند ہوا کیونکہ حضرت اقبال رحمۃ ﷲ علیہ کے نزدیک عشق رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہی سرِ دین ہے اور وسیلۂ دنیا بھی ہے اور اس کے بغیر نہ انسان دین کا ہے نہ دنیا کا اس لیے فرماتے ہیں:
در دلِ مسلم مقامِ مصطفیٰ است
آبرو ئے ما زمامِ مصطفیٰ است۔
عشقِ مصطفیٰ صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم ہی وه انمول خزانہ ہے اور قیمتی ہیرا ہے جس کو ہمارے دلوں سے چرانے کے لیےہم پر ہرطرف سے حملے ہو رہے ہیں کیونکہ جس گھر میں کوئی قیمتی چیز ہو چور بھی وہیں نقب لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔خالی گھر میں کچھ نہ ہو وہاں چور کبھی نہیں آتے اس قیمتی خزانے کی حفاظت کرنا ہم سب پر فرض ہے اور ہماری عزت و آبرو اسی عشق کی بدولت ہی ہے اور ذاتِ باری تعالٰی تک پہنچنے کا صحیح اور سچاراستہ عشقِ مصطفیٰ صلی ﷲّٰعلیہ وآلہ وسلم ہی ہے ۔ فرماتے ہیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں۔
اقبال رحمتہ ﷲ علیہ کی طبیعت میں اس قدر سوزو گداز تھا اور آپ حب رسول صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم میں اس قدر سرشار تھے کہ جب کبھی حضور صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک ہوتا آپ دیر تک روتے رہتے اگر کسی وقت آپ سرکار دوعالم صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ پاک کے کسی عنوان پر گفتگو فرمانے لگتے تو ایسی عام فہم ،سیر حاصل اورشگفتہ بحث کرتے کہ ہر موافق و مخالف گرویده ہو جاتا اگر آپ کے سامنے کوئی مسلمان محمد صاحب کہتا تو آپ کو بہت تکلیف ہوتی تھی ۔ ایک بار کسی نے سرورِ دوعالم کی شان میں کچھ گستا خانہ الفاظ استعمال کیے تو آپ بے حد برہم ہو ۓ اور فوراً اسے محفل سے نکلوا دیا جناب فقیر سید وحید الدین صاحب " روزگار فقیر " میں لکھتے ہیں ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ ﷲ علیہ کی سیرت اور زندگی کا سب سے زیاده ممتاز ، محبوب اور قابلِ قدر پہلو عشقِ رسول صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔ ذاتِ رسالت مآب کے ساتھ انہیں جو والہانہ عقیدت تھی اس کا اظہار انکی چشمِ نمناک اور دیدہء تر سے ہوتا تھا ۔ اپنی طویل نظم ساقی نامہ میں فرماتے ہیں۔
میرے دل کی پوشیده بے تابیاں
میرے دیدۀ تر کی بے خوابیاں
میرے نالۂ نیم شب کا نیاز
میری خلوتوں میں انجمن کا گداز
امنگیں میری آرزویں میری
امیدیں میری جستجوئیں میری
یہی کچھ ہے ساقی متائے فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر۔
اسی طرح جہاں کسی نے ان کے سامنے حضور صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیا ان پر جذبات کی شدت اور رقت طاری ہوجاتی ۔ آپ کا ذکرِ پاک چھڑتے ہی اقبال بے قابو ہو جاتے ۔جب اقبال رحمۃ ﷲ علیہ گول میز کانفرنس سے واپس آئے تو والد صاحب ان سے ملنے گۓ بڑی مدت کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تھی اس لیے بڑے تپاک سے ملے اور ڈاکٹر صاحب سے ان کے سفر کے تجربات سے متعلق گفتگو ہونے لگی ۔
والد مرحوم نے دورانِ گفتگو کہا اقبال تم یورپ آۓ مصر اور فلسطین کی بھی سیر کی کیا اچھا ہوتا کہ واپسی پر آپ روضہ اطہر کی بھی زیارت کر لیتے؟ یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کی حالت دگرگوں ہو گئی یعنی چہرے پر زردی چھا گٔی اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور چند لمحوں تک یہی کیفیت رہی پھر کہنے لگے ۔فقیر کس منہ سے روضہ اطہر پرحاضر ہوتا؟ ۔آخری زمانے میں تو یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بندھ جاتی تھی آواز بھرا جاتی تھی اور وه کئی کئی منٹ سکوت اختیار کر لیتے تھے تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں ۔
تو اے مولائے یثرب آپ میری چاره سازی کر
میری دانش ہے افرنگی میراایماں ہے زناری
ﷲّٰ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت ، اتباعِ رسول صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ولولوں کے کاسے، عشقِ مصطفیٰ صلی ﷲّٰ علیہ وآلہ وسلم سے لبریز فرمائے اور فکرِ اقبال کی شمع روشن رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔




































