
خورشید بیگم
پاکستانی قوم نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو بجا طور پر مصور پاکستان اور مفکرپاکستان کےالقابات سےنوازا ہے۔علامہ
اقبال درحقیقت ملت اسلامیہ کے شاعر ہی نہیں بلکہ فکری رہنما بھی ہیں۔ ان کا دور وہ دور تھا جبکہ ہندو اور انگریز دونوں ہی اس کوشش میں مگن تھے کہ مسلمان اپنے سیاسی نظریات، اپنی تہذیب کے خاص شعور اور اپنے امتیازی وجود سے محروم ہو جائیں۔ ہندو سامراج متحدہ قومیت کا نعرہ لگا کر یہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کا قومی وجود ہندومت میں ضم ہو جائے۔ ان دونوں قوموں نے جہاں مسلمانوں کو اپنے اپنے نظریات سے مسخر کرنا چاہا وہاں عملی میدان میں زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے دھکیل دیا۔ مسلمان انگریزوں کے جبروتشدد سے تنگ آچکے تھے اور انھیں احساس ہوچکا تھا کہ انکے دینی اور ملی عزائم کی تکمیل کا سامان تو کجا ان کی باقی ماندہ ثقافت کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ یہی وہ حالات تھے جن میں تصور پاکستان ابھرا۔
علامہ اقبال نے ١٩٣٠ء میں مسلم لیگ کےالہ آباد کےاجلاس میں ایک ایسے خطےکی تشکیل کا تصور پیش کیا جہاں اسلام مرکزیت اختیار کر سکے۔ آپ نے فرمایا
"مجھے یہ اعلان کرنے میں مطلق تامل نہیں کہ اگر فرقہ وارانہ امورکے ایک مستقل اور پائیدار تصفیہ کے تحت اس ملک میں مسلمانوں کو آزادانہ نشوونما کا حق حاصل ہو تو اپنے وطن کی آزادی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ میری یہ خواہش ہے کہ پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ہی ریاست میں ملا دیا جائے۔ مجھے یہ نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآخر ایک منظم ریاست قائم کرنا پڑے گی۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت زندہ رہے تو اسکے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقہ میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔"
(خطبات اقبال)
گویا شمال مغربی سرحدی علاقے میں اسلامی مملکت کے قیام کا خواب علامہ اقبال نے قوم کے سامنے پیش کیا جو پندرہ سال بعد دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی تھی۔ جس کا نقشہ انھوں نے اس طرح پیش کیا
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
ان کی جمیعت کا ہےملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے ہے مستحکم جمیعت تری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمیعت کہاں
اور جمیعت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
مسلمانان ہند کی خوش بختی کہ اس عظیم مفکر اور دانائے راز نے افکار تازہ کو تابندگی بخشی۔ قوم کے شاہینوں کو بال و پر عطا کرنے کے ساتھ ساتھ خودی اور خودشناسی کے اسرارو رموز سمجھائے۔ پھر قوم کی عظمت رفتہ کو اجاگر کر کے ضابطۂ زندگی کا درس دیا۔ وہ آتش نمرود میں بصورت عشق کودا اور اپنی شاعری اور خطبات سے قوم کے قلب کو گرما کر حکیم الامت کہلایا۔ یہ اسکی نگہ بلند، سخن دلنوا اور جاں پرسوز کا اعجاز تھا کہ معاشی و معاشرتی اور سیاسی و سماجی طور پر پسی ہوئی قوم کے مرض کہنہ کی تشخیص ہوئی پھر احساس جنوں جاگا اور جذبہ آزادی کا شعور عطا ہوا۔ عزم و عمل کی راہیں متعین ہوئیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب "خضرِ راہ" "نیا شوالہ" "میرا وطن یہی ہے" "شکوہ" "جواب شکوہ" اور "طلوع اسلام" جیسی نظموں نے مسلمان شاہینوں کو جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کے گر سکھائے اور پھر
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں
اقبال کی بصیرت یہ جان چکی تھی کہ مسلمانوں کی نجات اس میں ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کے بتائے ہوئے صراط مستقیم کے مطابق زندگی بسر کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی قوت کو مضبوط کریں۔ انکی تمام تر جدوجہد اس مقصد کے حصول کے لئے ہونی چاہیے۔ چنانچہ انھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو تحریک آزادی کا مطلب سمجھاتے ہوئے یہ احساس دلایا کہ اس وقت اسلام ہی وہ واحد قوت ہے جو انھیں بچا سکتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھانے کے لئے وہ کہتے ہیں۔ "اگر مسلمان بربادی سے بچنا چاہتے ہیں تو اسلام کی جانب لوٹ آئیں۔ آج اگر آپ اپنی نگاہیں اسلام پر مرتکز کردیں اور اس میں جو دائمی قوت آفریں تخیل مضمر ہے اس سے تحریک حاصل کریں تو آپ اپنی پراگندہ قوتوں کی شیرازہ بندی کر لیں گے۔ اپنے کھوئے ہوئے عروج کو حاصل کر سکیں گے اور اپنے آپ کو مکمل بربادی سے بچا لیں گے۔"
نخل اسلام نمونہ ہے برومندی کا
پھل ہے یہ سینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا
نظریہ اقبال کے مطابق مسلمانان ہند کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کی غرض سے اسلامی نظام کے قیام کے لئے سیاسی اقتدار حاصل کرنا ضروری تھا۔ لیکن اسلامی مملکت کے قیام کا یہ خیال 1930ء میں عملی سیاسیات کے دائرے میں کہیں نظر نہ آتا تھا۔ البتہ اپنی دوراندیشی کی بنا پر اقبال نے اسکا خاکہ اپنے ذہن میں تیار کر لیا۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ملت بیضا پر ایک نظر کے عنوان سے لیکچر دیتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کو اس طرح واضح کیا۔
"اسلام کی نوعیت ہمارے لئے یہی نہیں کہ وہ ایک مذہب ہے بلکہ اس سےبہت بڑھ کر ہے۔ اسلام میں قومیت کا مفہوم خصوصیت کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔ ہماری قومی زندگی کا تصور اسوقت تک ہمارے ذہن میں نہیں آسکتا جب تک ہم اس اصول سے پوری طرح باخبر نہ ہوں۔ بالفاظ دیگر، اسلامی تصور ہمارا وہ ابدی گھر اور وطن ہے، جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں۔ جو نسبت انگلستان کو انگریزوں سے اور جرمنی کو جرمنوں سے ہے وہ اسلام کو ہم مسلمانوں سے ہے۔ جیسے ہی اسلامی اصول یا ہماری مقدس اصطلاح میں "خدا کی رسی" ہمارے ہاتھ سے چھوٹی اور ہماری جماعت کا شیرازہ بکھرا، وہیں ہماری قومیت ختم ہو گئی۔"
قوم مذہب سے ہے،مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں
علامہ اقبال کے یہی افکار و نظریات اور اجتماعی تنظیم کے ٹھوس اصول تھے جنکی وجہ سے مسلم لیگ منزل بہ منزل بڑھتی گئی۔ آخرکار تصور پاکستان ارتقاء کی مختلف منزلوں سے گزر کر عروسِ آزادی سے ہمکنار ہوا۔ اب پاکستانی قوم کو مفکر پاکستان کے اس پیغام کو اصولِ زندگی بنا لینا چاہیے
چشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری
ہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیری
زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری
کوکب قسمت امکان ہے خلافت تیری
وقت فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے




































