
آیت الاخراص/ حریمِ ادب
السلام علیک یارسول اللہ ﷺ
کیسے ہیں آپ؟
یقیناً رب العالمین کے پاس بہترین میزبانی میں ہوں گے۔
(لم نراک یارسول اللہ لکننا نحبک)
یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ کو دیکھا نہیں لیکن ہم آپ سےمحبت کرتے ہیں۔
لیکن پیارے رسول اللہ ﷺ اس بات کو کہتےہوئےمجھے وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے۔آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ عمر آپ سے یوں مخاطب ہوتے ہیں یارسول اللہ ﷺ مجھے آپ میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں"نہیں قسم اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک میں تمہیں خود تمہاری جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اور یہ سن کر سیدنا عمر رضہ کہتے ہیں " واللہ اب آپ ﷺ مجھے میری جان سے زیادہ محبوب ہیں۔ پھر آپ ﷺ فرماتے ہیں : اے عمر اب تم مومن ہو۔ (صحیح البخاری مفہوم)
یارسول اللہ ﷺ سمجھ نہیں آتا اپنی گناہوں سے بھری پوٹلی کے ساتھ آپ کو کیسے مخاطب کروں! شرمندگی کے مارے جذبات ماؤف ہو جاتے ہیں جب کبھی سوچتی ہوں کہ حضور ﷺ آپ میرے واسطے بھی روئےتھے!
آپ کی امت بڑے کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔ میری ہر جانب فتنوں کا دور دورہ ہے۔ٹیکنالاجی نے گناہوں کو آسان تر بنا ڈالا ہے اور اولاد آدم احسن تقویم سے اسفل السافلین کے درجے پر مسلسل گرتی جا رہی ہے۔
حضور ﷺ آپ کی یہ ادنٰی سی امتی پریشان ہے کہ ایمان کوبچائے تو کیسے! آپ کی پیشن گوئی کےمطابق بندہ صبح کو مومن ہے اورشام کو کافر۔
واللہ اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے۔اُمت پہ تیری آکےعجب وقت پڑاہے۔حضور ﷺ میرا بہت جی چاہتا ہے آپ کےدور میں سانس لے سکوں، آپ کے چہرہ انور کو دیکھنا نصیب ہو، آپ کی محبت بھری تسلی اس دل کے حصے میں آئے۔
کبھی کبھی آپ مجھے بہت یاد آتے ہیں۔ صحابہ کرام کو جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ آپ کی خدمت میں حاضرہوتے اور تسکین قلب کے ساتھ واپس لوٹتے۔ حضور آپ کے زمانے میں حق اور باطل واضح تھا۔ آج آپ کی امت کئی فرقوں میں بٹ چکی ہے۔ ایک عام مسلمان پریشان ہے کہ کس فرقے کے اسلام کو مانے۔ آپ کی امت صدیوں سے زوال سے دوچار ہےاے احمد مجتبٰی ﷺ۔
وہ دین جو بڑی شان سے نکلا تھا
پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے!
حضور ﷺ دجال کی آمد قریب دکھائی دیتی ہےمگرآنکھوں کوچکا چوند کرنے والی یہ دنیا بار بار جکڑ لیتی ہے۔ حضور ﷺ دیکھیں نا میں کوشش کرتی ہوں مگر ابلیس میری تاک میں لگا رہتا ہے۔
بار باراٹھ کھڑی ہوتی ہوں کہ پھر پوری شدت سے گرادی جاتی ہوں۔
حضور ﷺ مجھے بہت خوف آتا ہے کہ میری موت حالت کفر میں نہ ہو۔ حضور ﷺ میں ہمیشہ ہی سے آپ سے محبت کے دعوے سے خوف كھاتی ہوں۔ وہ جیسے عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کچھ ایسا ہی حال میرا بھی ہے۔ اے محبوب دو جہاں ﷺ آپ نے مجھے اپنے احسانات کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ مجھے اپنے محرم رشتوں کے درمیان بیٹھ کر ڈھیروں ڈھیر محبتیں وصول کرتے ہوئے اکثر آپ کا خیال آتا ہے کہ ایک عورت کو یہ تمام مقام دلوانے والے آپ ہی تھے۔
اے محسن انسانیت ﷺ میرا دل چاہتا ہےکہ مجھےوہ ایمان، علم نافع، صالح اعمال کے ساتھ وہ تاثیر الفاظ عطا ہو کہ میں دین اسلام کو اس کے تمام تر پہلوؤں کے ساتھ انسانیت کےسامنے پیش کروں۔ آپ کی انقلابی حکمتِ عملی کو پہنچا سکوں۔حضور ﷺ آپ کی اور موسیٰ علیہ السلام کی راہ میں مجھے مثلِ ہارون وہ لوگ ملیں جن کے ساتھ مل کر میں الٰہی نظام کے قیام اور اُمتِ مسلمہ کے عروج کے لیے سرگرداں رہوں۔ رب میری اور آپ کے ہر امتی کی زندگی اِس آیت کی عملی تصویر بنا دے۔
قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ
کہو ، میری نماز ، میرے تمام مراسِم، عبودیت ،میرا جینا اور میرا مرنا ، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
آمین یارب العالمین
آپ کی ایک ادنٰی امتی۔




































