
اقصٰی سعید
ہر گمشدہ چیز لوٹ سکتی ہے مگر وقت نہیں لوٹ سکتا۔ وہ اگر ضائع ہو جاتا ہےتو اس کےلوٹنےکی کوئی تصور نہیں کی جاسکتی۔اس لئے وقت
سب سے قیمتی شے ہے۔انسان کو چاہیےکہ اپنے اوقات کی اس طرح حفاظت کرےجس طرح ایک بخیل اپنی قیمتی چیز کی کرتا ہےکہ تھوڑی سی غفلت بڑے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ ایک سچ اور دانامسلمان وقت کی بڑی سختی سے قدر کرتا ہے، کیونکہ وقت ہی اس کی عمر ہوتی ہے۔ سورج ک ہر چکر ایک نئی صبح لاتا ہے۔
ہر نیا دن انسان کو اللہ تعالیٰ سے قریب جبکہ دنیا سےدورکرتا ہے۔ تو اس بات کاخیال آنا کہ انسان اپنے آپ کو توایک جگہ کھڑا ہواسمجھے اور وقت کو چلتا ہوا تو یہ بات سواۓ دھوکا کے اورکچھ نہیں۔ وقت برف کے ٹکڑے کے مانند ہےجس طرح برف تیزی سے پگھلتا رہتا ہے اور آخر میں اپنی شناخت کھو دیتا ہے، اس طرح وقت بھی تیزی سے سرکتا رہتا ہے اور چوبیس گھنٹوں بعد اپنے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ اور یہ گزرا ہوا وقت قیامت تک دوبارا نہیں آتا۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ اپنے ایک ایک لمحہ سے فائدہ اٹھایا جائے۔
اسلام نے اپنی بڑی بڑی عبادتیں دن اور سال پرتقسیم کردی ہیں۔ پانچوں نمازیں پورے دن میں شامل ہیں۔ ان کے اوقات دن کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ روزے سال کی ایک بار رمضان کے مہینے میں فرض کیے گئےہیں، جو ہمیں تقوی اور وقت کے پابند بناتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے سب اپنے وقت پر طلوع ہوتے ہیں اور وقت مقررہ پر غروب۔ سردی، گرمی، خزاں، بہار کا موسم آنے اور جانے کا وقت متعین ہے۔ اگر ہم غور کریں تو کائنات ک نظام وقت کی پابندی پر قائم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے صبح اٹھنے میں برکت رکھی ہے۔کامیاب ہوتے ہیں وہ لوگ جو طلوعِ فجر سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور پھر روزگار کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی عبادت میں، عمر میں، روزی میں، وقت میں، غرض کے ہر چیز میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔
اس کے برعکس وہ لوگ جو طلوعِ فجر کے بعد بھی دیرتک منہ لپیٹےسوئےرہتےہیں، وہ نہ تو کامیاب ہوتے ہیں اورنہ ہی ان کے رزق میں، عبادت میں، عمر میں، اور وقت میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔ بے برکتیں ان کےدروازے پر دستک دیتی ہے ۔
انسان ہمیشہ دو نعمتوں میں غفلت برتتا ہے ۔ پہلا صحت دوسرا فراغت۔ صحت دولت ہے۔ یہ ایسی نعمت ہے جس ک کوئی نعم البدل نہیں ۔ اگر ہم اپنی صحت کا خاص خیال نہ رکھیں تو عین ممکن ہے کہ ہم مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ ایک بیمار انسان نہ اپنے لیے کچھ کر سکتا ہے، نہ اپنے بچوں کےلئے، نہ اپنے معاشرے کے لیے، نہ دین کے لیے، اور نہ ہی اپنے ملک کے لیے۔ غرض کے وہ صرف اپنی آخری سانسیں گن رہا ہوتا ہے۔ کیوں؟ صرف وقت کی پابندی نہ کرنےکی وجہ سے۔ وقت پر نہ سونے اور نہ اٹھنے کی وجہ سے، وقت پر نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے، روزانہ ورزش نہ کرنے کی وجہ سے، وقت پر کھانا نہ کھانے کی وجہ سے اور کھانے میں احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے کہ کیا چیز صحت کے لیے اچھی ہے اور کیا بری۔
دوسری نعمت جس پہ انسان غفلت برتتا ہے وہ اس کے فرصت اوقات ہیں۔ ہماراالمیہ ہےکہ ہم اپنے فرصت اوقات کوفضولیات کی نظر کردیتے ہیں۔ جب بھی فرصت ملتی ہے اسے سوشل میڈیا میں اسکرولنگ کرتے ہوئے، بحث و مباحثہ میں، غیبت کرنے میں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔جس سے ہمیں فایدہ تو کچھ نہیں ہوتا البتہ نقصان ہمارا مقدر بنتا ہے۔
کس طرح کا نقصان؟ فرصت کے لمحات جو ہمیں ملے تھے اس میں اچھے کام کرنے تھے، اپنے لیے نیکیاں سمیٹنی تھیں، اپنے اور معاشرے کی ترقی کے لیے کچھ سیکھنا تھ کچھ کرنا تھا، لوگوں میں شعور بیدار کرنے تھے، بھلائی کی باتیں بتانی تھیں، اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا تھا۔ان فرصت کے لمحات کو صرف فضول اور بے کار کاموں کی نظر کر دیا۔ اور وقت ہمیشہ کے لیے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا۔ فرصت وقت برباد کرنے والا ہمیشہ ہاتھ ملتا رہتا ہےاور بعد میں اس پر ندامت مزید وقت برباد کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اپنے کام سے غرض رکھیں اور بے کار کاموں اور باتوں میں اپنے قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔
عقل مندی اسی میں ہےکہ انسان اپنے اوقات کی اس طرح تقسیم کرے کہ کچھ وقت اپنےاللہ سے دعا ومناجات کرے، کچھ وقت ایسا ہو جس میں اپنے نفس کا جائزہ لے، کوقتل ایسا ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی شان اور قدرت کے کرشمے پر غور و فکر کرے، کچھ وقت ایسا ہو کہ اس میں ضروریاتِ زندگی کے لیے فارغ ہو، کچھ وقت ایسا ہوجسے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارے۔
زندگی میں کچھ کرنے کےلئے اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا بےحد ضروری ہے۔
جوانی کا زمانہ غفلت کا زمانہ ہوتاہے۔ بہت کم لوگ ہی اس زمانےمیں عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئےاپنے آپ کو سستی، کاہلی، اورغفلت میں برباد نہیں کرتے۔ لیکن اکثروبیشتر لوگ اپنے آپ کو اس غفلت کی نظر کر دیتے ہیں۔ انھیں نہ دین کی پرواہ ہوتی ہے نہ دنیا کی۔ اور جب جوانی کی دہلیز پار کر کے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں۔ اس وقت انھیں ہوش آت ہے کہ ہم نے اپنی پچھلی عمر میں کیا کیا؟
کتنی غلطیاں اور کوتاہیاں کیں،آخرت کے لیےکوئی سرمایہ ہمارے پاس نہیں۔ اس وقت ان کی ہمت، اورطاقت بھی جواب دے چکی ہوتی ہے۔ سواۓ افسوس اور پچھتاوے کے کچھ نہیں ہوتا۔دولت اور وقت دونوں انسان کے لیے نعمتیں ہیں۔ دولت ایک ظاہری نعمت ہے جو کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ملتی ہے۔ جبکہ وقت ایک چھپا ہوا نعمت ہے جو سب کو برابر ملتا ہے۔ ہر انسان کو ایک دن ملت ہے جس میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں۔ یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ان گھنٹوں سے کس طرح فایدہ اٹھاتا ہے ۔
وقت کی اہمیت ک اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مرنے کے بعد ہم سےوقت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ جوانی کن کاموں میں گزاری؟ جو مال کمایا اسے کہاں خرچ کیا؟ غرض کے ایک ایک لمحہ کا حساب دین ہوگا۔ اس لئے وقت کے معاملے میں ہمیشہ ہوشیار رہیں، وقت کا خیال رکھیں، وقت برباد مت کریں۔
کچھ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اختیار میں نہیں دی ہیں۔ جیسے صبح کا آنا اور رات کا جانا، زندگی و موت، جوانی اور بڑھاپا کا آنا اور جانا وغیرہ۔ مگر کچھ چیزیں ہمارے اختیار میں دی ہیں۔ جیسے علم و آگہی ، سوچ و فکر، بہتر سے بہترین کی تلاش اور اس کے لیے محنت۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے وقت کو ہمارے اختیار میں دیا ہے کہ جیسے چاہیں اس کا استعمال کریں۔ لیکن آخرت میں اس کا حساب بھی دین ہوگا۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے وقت کا بہترین استعمال کریں۔ ایک ایک لمحہ سے فائدہ اٹھائیں ۔ جو کام دین و دنیا کے لحاظ سے بے حد ضروری اور نہایت اہم ہو اسے اسی وقت مکمل کرلیں کہ پھر موقع ملے یا نہ ملے، زندگی وفا کرے یا نہ کرے۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے




































