
شگفتہ ضیاء
عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے پارلیمینٹ میں موجود تینوں بڑی جماعتوں نے ٹرانس جینڈرایکٹ کی قانون سازی کی
اورعجلت میں ایکٹ پاس بھی کردیا۔ بھلا ہو اس تنہا آواز کا جس کی بدولت پوری قوم پر اس شبخون کا راز فاش ہوا۔گزشتہ دو ماہ اس ایکٹ کے خلاف ہر طبقٸہ خیال اور ہر معاشرتی فورم پہ اتنی زیادہ گفتگو ہوٸی ہے کہ اب اس کی تفصیل کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔
بظاہر تو ہمارے خاندانی نظام ہماری دینی اقدار اور ہماری تہذیبی روایات کوپارہ پارہ کر دینے والے اس قانون کے خلاف معاشرے کی اکثریت ہم آواز نظر آٸی لیکن دشمن کے جس شدید دباٶ کے تحت یہ کام شروع ہوا تھا وہ تسلسل سے جاری ہے کچھ ہی دن پہلے تعلیمی اداروں میں ٹرانس جینڈر کوٹے کی ہولناک خبر میڈیا میں گردش کرتی رہی اور نٸی نسل کی تباہی کے اس دجالی فتنے کو گلیمراٸز کرکے نوجوانوں کو براہ راست ٹارگٹ کرنے کے لیے اسی مرکزی خیال پر جوائے لینڈ نامی فلم بناٸی گٸی ہے
اور اس کی کہانی ایک ٹرانس جینڈر کے ساتھ لو افیئرپرمشتمل ہے۔ جسے حسب معمول خواجہ سراٶں کے حقوق کا پر فریب رنگ دیا جارہا ہے۔ اس فلم کو فرانس میں کانز فیسٹیول میں کوٸیرپام ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ ناظرین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ ایوارڈ ایل جی بی ٹی یا ہم جنس پرستی یا فیمینزم کا پرچار کرنے والی فلموں کے لیے مختص ہے۔ اس سے فلم کی اہمیت اور معنویت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
کانزعالمی فلم فیسٹیول میں ایوارڈ حاصل کرنے والی یہ پہلی پاکستانی فلم ہے۔اب اس فلم کو پاکستان نے آسکر ایوارڈ میں بھیجنے کے لیے بھی نامزد کر لیا ہے اور پاکستانی نژاد متنازعہ خاتون ملالہ یوسف زٸی کو اس کا ایگزیکٹو پروڈیوسر بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ یہ وہی خاتون ہیں جن کو نکاح کےبغیر پارٹنر شپ کے تعلق پر کوٸی اعتراض نہیں تھا ،بہر حال ٹرانس جینڈر ایکٹ کی منظوری سے شروع ہونے والے شیطانی پلان کی تکمیل کے مراحل کی راہ میں کوٸی رکاوٹ حاٸل نہیں ہوٸی اور پاکستان کے مرکزی سینسر بورڈ نے فلم کی نماٸش کا اجازت نامہ اس طرح دے دیا گویا یہ فلاحی موضوع پر بناٸی گٸی کوٸی اصلاحی فلم یا عالمی سطح کا زبردست کارنامہ ہے۔ اطلاع کے مطابق 18 نومبر کو فلم جواۓ لینڈ پاکستان میں نماٸش کے لیے پیش کر دی جائے گی۔
فاعتبرو یا اولی الابصار۔۔۔۔
بیرونی ایجینڈےکی تکمیل کی راہ میں اس س کوٸی فرق نہیں پڑتا کہ ملک کاحکمراں کون ہے !! ہر حکمراں منصبٍ حکمرانی پر فاٸز رہنے کے لیے عالمی طاقتوں کے شیطانی ایجینڈے کے آگےسرتسلیم خم کرنے کے لیے بے قرار رہتا ہے۔ چاہےوہ کسی مفاد پرست لمحے کی ایسی خطا ہو جس کی سزا صدیوں پر محیط ہو۔
لیکن اس مملکت خدا داد میں کچھ ایسے صالح نفوس موجود ہیں جو شیطانوں کی چالوں کو روکنے اور ثقافتی دہشت گردی کے اس حملے کے آگے بند باندھنے کی ہر ممکن کوشش کو دینی و معاشرتی فریضہ نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر کریں گے ان شاء اللہ۔اور پاکستان کے نادان عوام کو اس زہر سے محفوظ رکھنے۔ فلم کی نماٸش کا اجازت نامہ منسوخ کروانے کی حتی الامکان جدو جہد کریں گے۔
کیونکہ آج کے دور کے ان نضر بن حارثوں سے اپنی نسلوں کو بچانے سے بڑھ کر بھلا کیا نیکی اور عبادت ہو سکتی ہے۔۔۔؟
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































