
جویریہ قاسم
جب تمہیں ایسا لگےکہ تم اکیلےہو گئے ہو اور تمہارے ساتھ کوئی نہیں تو دیکھنا اس وقت تم اپنےرب کو خود کے بہت قریب پاؤ گے"بےشک وہ
ہماری شہہ رگ سےبھی قریب ہے"
تو پھرتم کیوں پریشان ہو کہ کوئی ساتھ نہیں تمہارے ساتھ تو وہ ذات ہےجو تمہاری ہر تکلیف اور ہر تڑپ کو جانتا ہےوہ تو تمہاری ہر سوچ اور خیال سے واقف ہے۔
یاد رکھو!اللّٰہ تمہارے دل پر گزرنےوالی ہر کیفیت سےواقف ہے تم سمجھتے ہو کہ وہ تم سے دور ہے،وہ کیسے دور ہو سکتا ہے جب اس نے فرما دیا "اور بےشک ہم نے انسانوں کو پیدا کیا اور ہم ان کےوسوسوں کو بھی جانتے ہیں جو اس کے نفس (اس کے دل ودماغ میں ڈالتا ہے) اور ہم شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیں" (القرآن 50:16)
وہ جانتا ہے کہ تم کس تکلیف میں ہو؟ تمہارے صبر کا سفر جانتا ہے۔ اللّٰہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیتا ہے اگر تم غور کرو تو حیران رہ رہے جاؤ گےجیسے کہ کوئی کوٹیشن، کوئی لائن یا کوئی قرآن کی آیت یا پھر کوئی موٹیویشنل ویدیو یا پھر کسی کی کوئی اچھی بات بھی دل میں اتر جاتی ہےاور پھر سے ایک نئی امید جاگ اٹھتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا
یہ اللّٰہ تعالیٰ کا جواب اور مدد ہوتی ہے.کیونکہ کہ کچھ بھی بلاوجہ نہیں ہوتا۔ابھی تم جس بھی حال میں ہو بس اللّٰہ کا شکر ادا کرو اور صبر سے اس ذات کے فیصلے کا انتظار کرو اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا " اگر تم شکر گزاری کروگے تو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کروگے تو میرا عذاب بھی سخت ہے" (القرآن 14:07)
شکر ادا کرو ہرحال میں اس نے کہا ہے کہ وہ اور دے گاکیا تمہیں یقین نہیں ہے اس ذات پر؟
اور اگر تم شکوے کرتے رہے تو وہ تمہیں اپنوں کےہاتھوں ہی پریشان کرے گا پھر تم سنبھل نہیں سکو گے۔اس ذات کو مایوسی اور ناشکری نہیں پسند اس کی بھی پسند نا پسند ہے اور اس کی پسند نا پسند کا خیال تمہیں رکھنا ہوگا۔جب تم اس کی رضا میں راضی ہوجاو گے تو وہ تمہاری چاہت کو تمہارے نصیب میں بھی لکھ دے گا۔
زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب نہ تو ہمیں سمجھ آرہی ہوتی ہے نہ دعائیں سمجھ آرہی ہوتی ہے نہ یہ کہ جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے وہ آزمائش ہے سزا ہے یا پھر اس ذات کی کوئی مصلحت کہ تکلیف ختم ہی نہیں ہورہی اور جب تمہیں یہ محسوس ہو بس تب تم یہ سوچ لینا بے بسی ایک نعمت ہے اپنے رب سے جڑنے کی اور یہ بے بسی ہی تمہیں اپنے رب کے در پر لے جاتی ہے۔
ابھی تم جس کیفیت میں ہو یہ سزا نہیں ہے یہ تمہاری حفاظت اور بہتری کے لیے ہورہا ہے جب تمہیں یہ لگے کہ صبر ٹوٹ رہا ہے تو یہ آیت خود سے دہرالینا۔ "نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوا ہے" (القرآن 93:03)
جلد بازی مت کرو اتنا مت سوچو تمہاری سوچ سے کئی زیادہ وسیع طاقتوں کا مالک ہے وہ رب۔
وہ رب جو چیونٹیوں کے دھڑکتے دل کی آواز بھی سن لیتا ہے تو وہ تمہاری دعائیں نہیں سن سکتا کیا؟
یہ وقتی آزمائش ہے اختتام نہیں ہے تمہاری زندگی کا اس کے "کن"کہنے کی دیر ہے سب کام سنبھل جائیں گے۔کیا تم نے دیکھا نہیں ہے کہ وہ سمندر جس کا آدھا حصہ نمکین اور آدھا میٹھا ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے ملتے نہیں ہے ہیں اس میں بس مختصر فاصلا ہے اس ذات کے کن کہنے کا تمہاری ہر دعا اس زات کے "کن"کہنے کی منتظر ہے تمہاری دعائیں رد نہیں ہورہی وہ خود تم سے مخاطب ہو کر قرآن میں فرما رہا ہے "مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا (القرآن 40:60) تو پھر اپنی دعاؤں کے رد ہونے کا خوف کیوں رکھا ہے دل میں مت بھولو اس کے کن کی دیر ہے اور سب کام ہو جاتے ہیں وسیلے بن جاتے ہیں،رستے نکل آتے ہیں ،دروازے کھل جاتے ہیں اور تم خود دیکھو گے کہ تمہاری دعائوں سے کتنے کام ہو جاتے ہیں اور قریب ہے وہ دن جب تم اپنی مانگی ہوئی دعا کو قبول ہوتا دیکھو گے اور تم خوش ہو جاؤ گے۔




































