
ناہید طاہر سعید
مجھ سے میری ملازمہ نے پوچھا !باجی پہلےحضرت محمد امام مہدی رض کی آمد ہوگی یا پھرحضرت عیسیٰ ع کا ظہور ہوگا ؟ میں نے کہا پہلے حضرت
امام مہدی رض پھر حضرت عیسی ع کی آمد ہو گی ۔ مستند علم کتب سے یہ ہی علم میں بات آٸی ہے ۔ویسے جو حالات واقعات ہمیں بتا رہے ہیں ۔ دور فتن دنیا اقوام کے انسان پاس صرف 6چیزیں رہ گٸی ہیں۔ ہم قیامت کے قریب قریب جارہے ہیں۔ قیامت وقوع پذیرہے ۔
تم بتاٶ کیا تم نے قیامت ، قبر، فکرآخرت روزمحشر کی تیاری مکمل کرلی ہے؟ ۔ کیا تمہارے پاس دنیا وآخرت کے پاٸیدارساتھی موجود ہیں؟ ۔ کلمہ ، نماز ، تلاوت قرآن ،روزہ ،حج ، صدقہ خیرات،حقوق ادا، وصیت ، نصیحت ،اولاد یا بہن بھاٸیوں یا معاشرتی تعلیم وتربیت کا کام ہوچکا ہے؟ ۔ یعنی تم نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے؟ ۔
وہ یہ سن کر خاموش ہوگٸی۔ اس سوال کا جواب نہ اس کے پاس تھا اور نہ میرے پاس ۔ البتہ ہمارے پاس روزمرہ زندگی کا ایک شیڈول تھا۔صبح ناشتہ بنانا ہے۔ برتن دھونا ہے۔ کپڑے دھونے ہیں ۔ گھر صفاٸی پوچا لگانا ہے۔بس ہمارا روزمرہ کا یہی معمول تھا، یوں زندگی بسر ہورہی تھی ۔
پھر میں نے اسے کہا تم میری بات سن کر کسی سکتے میں نہ چلی جانا۔ اپنے خون و زندگی تازہ دم زندہ رکھنا ہے۔
ہم انسان اپنی زندگی کو قومہ کیوں لگاٸےہم سب کو معلوم ہے ۔ اللہ ایک ہے ۔ قرآن کلام الہٰی ہے۔ بیت اللہ ہے ۔ آخری پیغمبر سید الانبیاء حضرت محمد صلعم کی احادیث ہیں ۔سنت ہیں۔ ہمارے پاس عظیم دولت ہےعمدہ سرمایہ ہے۔ توہم کیوں ادھورے بن کر رہے۔ اب نہ تو کسی کو ہجرت کی ضرورت ہے اور نہ جہاد کی ضرورت ہے۔ اب ہمیں انسان ومسلمان کو آپس میں حقوق ادا کرنے کا وقت ہے ۔ ایک دوسرے سے اخلاق و اخلاص سے پیش آنے کا وقت ہے ۔ حقیقی طور پراب سبھی اقوام عالم ہرشرو بدی سے خود ہی بےزار ہوچکی ہیں ۔ ہر شخص عزت کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔ اب تو یہ وقت ہے کہ طاقتور ممالک بھی اپنے ملک وقوم کی چوکیداری کر کر کے تھک چکی ہیں۔ مصنوعی عیش وعشرت وغیر مذہبی رکھ کھاٶ اور فتنہ و فساد کو رد کر چکی ہے۔ اب ہر آدمی کو روٹی کی فکر ہے۔ بس اتنا کمالے کہ رات کو خاندان ،والدین، بیوی بچوں کھلا کرسلاسکے۔
موسم بدل سکتے ہی ںلیکن انسانوں کے رنگ روپ نقش ونگار اور پھلوں کے ذاٸقے نہیں بدل سکتے ۔جب انسان کے جان ومال عزت کا دوسرے انسان جان ومال عزت پرخلاف قانون اور خلاف آٸین ہےتو پھر کوٸی احمق یا نادان ہی دوسرے انسان کے جان ومال عزت کا دشمن ہو سکتا ہے ۔ بچپن سے لے کر پچپن عمرتک جمے بلغم یا آنکھوں پر چربی چڑجانے سے انسان کی عقل پر پردے پڑ جانے یا پھر آنکھوں کے اندھے کو بدبودار مواد چپک جانے سے سارے انسان گندے نہیں بن جاتے ۔
بچپن میں دو قطرے پولیو ہمیں زندگی دیتے ہیں ۔ ہمیں زندگی میں جوانی میں اپنے پیروں پر کھڑا کرتے ہیں ۔تو پھر ہم کیوں اپنے پاٶں پر کلہاڑی مارے ۔ کیوں آپس میں جھگڑ جھگڑ کرجانوروں کی طرح چھین چھین کرنوالہ کھائیں ۔ آخر انسان اور جانور میں خاصا فرق ہوتا ہے ۔ ہم اللہ کے بندے ہی بنے رہیں تو خوبصورت ہیں ۔ ہم درندے نہ بنیں تو بہتر ہے ۔ یہ بات ہمیں دوست انسان مسلمان دو بھاٸیوں نےبتاٸی سمجھاٸی ہے ۔ ہم چین ،سعودیہ بھاٸی ہیں ۔ ہم محنتی مستقل مزاج ہیں ۔میانہ رو ہیں ۔ دبٸی وقطر عرب نے ساری دنیا کے انسانوں کو امن و سلامتی طرف پیغام دیا ہے۔ ہم کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے اور معذور انسانوں کو بھی ان کے پیروں پر کھڑا کرنا ہے ۔ شکریہ




































