
اسماء نذیر/ حریم ادب
پاکستان کا وجود بلاشبہ ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ پاکستان کا اصل مقصد اسلامی نظریات کا تحفظ کرنا تھا ۔ہمارےعظیم بزگوں کو سمجھ آ چکی
تھی کہ ہندو سامراج مسلمانوں کو نہ صرف غلام بنانے کےدر پے ہے بلکہ اسلامی تشخص کو مٹانے کے بھی درپے ہے۔
ہمارے عظیم مسلمان رہنماؤں کی بدولت آج پاکستان وجود میں تو آگیا لیکن ہم نے اپنے ان آباؤ اجداد کی وراثت کی حفاظت نہیں کی۔ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ دو سیاسی جماعتوں یا شخصیتوں کی صرف خود غرضی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ عشروں پر محیط ناانصافیوں اور زیادتیوں کا خمیازہ تھا۔
یقیناً سقوط ڈھاکہ ایک عظیم المناک ناقابل تلافی سانحہ ہے،جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا اتحاد صدیوں بعد دین اسلام کی درخشندہ تعلیم اخوت و بھائی چارگی کی بنیاد پر قائم ہوا تھا مگر ہمارے حکمران اور ادارے مساوات کو قائم نہ رکھ سکے جس کی وجہ سے یہ مثالی اتحاد ،بغض کینہ پروری اور حسد کی نذر ہوگیا۔
سانحہ سقوط ڈھاکہ اس قدر المناک اور دل خراش ہےکہ نصف صدی گزرنےکے بعد بھی زخموں کی تکلیف کومحسوس کیاجاسکتا ہے۔حقیقت حال یہ ہےکہ 16 دسمبر 1971ء کی صبح ہم عزت و وقار کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست ہونے کا اعزاز بھی کھوچکے ہیں۔
مشرق پاکستان میں موجود ایک بہت بڑا طبقہ مسلم لیگ،جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کےسپوٹر اور ہمدردوں پر مشتمل تھا جو عوامی لیگ کے نظریات و افکار کے نہ صرف مخالف تھا بلکہ دو قومی نظریہ، نظریہ پاکستان کا زبردست حامی تھا۔ یہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے پاکستان سے والہانہ محبت کی اور پاکستان ہی کو اپنا ایمان کاحصہ قرار دیالیکن ان کی اس پرخلوص اور والہانہ محبت کا صلہ انہیں آنسوؤں اور اذیتوں کی شکل میں ملا۔ تاریخ کے اوراق میں ان مجاہدین کو رضاکار، الشمس اور البدر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،جنہوں نے حب الوطنی کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔




































