
صائمہ وحید/حریم ادب
کراچی میں سردی کے موسم میں شادیوں وتقریبات کا اہتمام زیادہ کیا جاتا ہے کیونکہ سردی میں نہ کھانا خراب ہونے کاڈر ہوتا ہے نہ میک اپ خراب ہونے کا
خطرہ۔۔ خواتین،لڑکیاں،شرارے،غرارے،ساڑھی، بھاری لباس وزیورات ،آرائش وزیبائش سے مزین ہو کرسب سےملتی اورلطف اندوز ہوتی ہیں۔چھوٹے بچے،منےمجازی خدا کے حوالے ۔۔ وہ کبھی بچوں کودیکھتے۔۔ کبھی۔۔پریوں کو ۔۔
مرد حضرات بھی ریشم وکڑاھی کےلباس میں ملبوس اکثر زیورات پہنے،نک سک سےتیارنظرآتے ہیں۔ ہماری تہذیب واقدارکی بنیادیں بہت مضبوط ہیں جس میں اصراف وتبذیر، مخلوط محافل اور مردوں کے لئے سونا ریشم کے لباس پہننا،عورتوں کی سی مشابہت کی ممانعت ہے۔ سادگی،اعتدال ومیانہ روی کی تعلیم دی گئی ہے۔ بقول ہماری والدہ کے پہلے امیر گھرانوں میں بھی خواتین کے پاس دعوت میں پہننے کے چند مخصوص لباس ہوتے تھے۔ وہی لباس تمام تقریبات میں پہنے جاتے تھے۔
دلہن کے لئے بھی سرخ سوٹ ہی بنایا جاتا تھا کیونکہ پہلے ٹی وی بلیک اینڈ وائٹ تھا۔ پھرکلر میں بھی صرف پی ٹی وی تھا۔ وہ بھی اخلاقی، دینی روایات و حدود کا پابند تھا،جیسے جیسے چینلز میں اضافہ ہوا۔آزادی ملتی گئی ۔ ہمارے معاشرے سےاخلاقی و روحانی اقدارختم ہوتی گئیں۔۔ نئے فیشن آگئے ۔لڑکیوں کے لباس میں ،ٹائٹس،جینزشامل ہوئیں اوردوپٹہ غائب ہوگیا۔ شادیوں میں دلہن کے لباس عریانیت زدہ فیشن سےآراستہ ہونےلگے۔۔
ہمارے لباس، تقریبات ہماری تہذیب و تشخص کی نمائند ہ ہیں۔ اسی سے ہم صالح وپاکیزہ معاشرت قائم رکھ سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پروان چڑھتےغیر ملکی رسم ورواج،غیرمتوازن رویےمیڈیا کے معاشرے پراثرات کی وجہ سے ہے، پہلے پی ٹی وی پر کمرشل آتا تھا۔ پڑھیں گے لکھیں گے تو روشن ہوگا نام،دنیا میں کریں گے ہم اچھے اچھے کام۔ سب سے پیاری ہماری"ڈیئر" پینسل۔
یہ ایک پینسل کا اشتہار تھا جس میں خوبصورت، سبق،پیغام تھا۔اب اشتہارات پیش کئے جاتے ہیں داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ خوبصورتی کو کیا چھپانا،خو بصورتی سےکیا شرمانا ۔جیسے چاہے جیو۔۔۔ مارننگ شوز میں ندا یاسر ڈانسر بلاتی ہیں اورخوب لڑکے لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرایا جاتا ہے۔ میڈیا پر مارننگ شوز میں صرف ناچ گانا ہی رہ گیا ہے۔ان کے پاس معاشرے کے افراد،نوجوانوں کے لئے کوئی مثبت سرگرمی نہیں ۔موضوعات ختم ہوگئےہیں ۔
ہمارامیڈیا معاشرے سےمستحسن ذوق،احساسات،معیاری طورطریقوں کو بدل کراس کی جگہ فحاشی وعریانیت، رقص وموسیقی،حیوانی و نفسانی خواہشات و طرززندگی کوفروغ دے رہا ہے۔
آنکھیں چندھیا دینے والی چکا چوند،گلیمر،تعیشات کی دوڑمیں حلال و حرام،جائزو ناجائز کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں چوریوں ،ڈکیتیوں،معصوم بچیوں کے اغوا، بیٹیوں اوربیوی کے قتل سمیت دیگر جرائم ذہنی ہیجان اورمسائل اضافہ ہوا ہے۔اس کا اہم سبب میڈیا پرجرائم پر مبنی پروگرامز اور واقعات کی تشہیر ہےاور مسائل کے حل کے لئے بامقصد ڈرامے نہیں دکھائے جاتے۔ پہلے مقبوضہ کشمیر ،بھاتی ظلم وجارحیت پر ڈرامے ضرور دکھائے جاتے تھے وہ بھی ختم کردیے گئے ہیں۔ چینلز کی بھرمار کے باوجود تاریخی ڈرامے نہیں بنائےجاتے۔
خاندانی نظام کو کمزور کرنے، فتنہ فساد برپا کرنےکے موضوعات پرڈرامے دکھائے جارہے ہیں۔۔ اس ضمن میں ہمارے حکمرانوں کا غیرذمہ دارانہ رویہ ،غلط فیصلےبھی میڈیا کی بےمہارآزادی کا سبب ہیں۔
ہم جنس پرستی پرمبنی فلم 'جوائے لینڈ" کی نمائش کی اجازت دینا۔ پاکستان کے نظریہ سے غداری اورعوام دشمن فیصلہ ہے۔ بسنت،بوکاٹا۔ نے کتنی گردنیں گٹواٹی ہیں۔اب مزید ہمارے ارباب اقتدار ملک وقوم کوکن مصائب سےدوچار کرنا چاہتے ہیں۔جب برائی کو ٹھنڈے ٹھنڈے برداشت کیاجاتا ہےتومعاشرے عذاب الٰہی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔۔ضروری ہےکہ انفرادی واجتماعی ہر سطح پر ان فیصلوں کے خلاف احتجاج کیا جائے۔۔حکمرانوں اور میڈیا کی سمت درست کی جائے۔Sa




































