
سنیہ عمران/ بہاولپور
میرا سفر ابن بطوطہ والی سیاحی سےہرمعاملےمیں الگ ہے.زندگی تو خود ایک سفر ہے اورنہ بھی چاہیں تو بھی یہ جاری وساری رہتا ہے۔کبھی نہیں رکتا
چلتا رہتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ہم محسوس کرتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی جس پر آپ سوار ہیں رکی ہوئی ہے۔
جیسے کسی پانی کےجہاز پرآپ بیٹھےہوں اورایک سفربھی جاری ہو مگرجہازکےباہرتا حد نگاہ پھیلا ہوا پانی ر کا ہوا لگتا ہےتوآپ اس مغالطے میں آجاتے ہیں کہ جہاز بھی کھڑا ہے۔ چل نہی رہا مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ تو گویا میں بھی ایک ایسے ہی مغالطے میں تھی کہ اچانک میری زندگی کے سفر نے پانی والے جہاز سے خلائی پرواز تک جست لگائی اور جن سمندروں رہگزاروں، جنگلوں اور نخلستانوں میں اپنے اٹل ارادے اور پہاڑ جیسی ہمت کے ساتھ ابن بطوطہ بیس سال سیاحت کرتا رہا ۔۔۔ انہیں یاد کرنےمیں میرے بیس گھنٹے بھی صرف نہ ہو ئےاور میں ہوائی جہاز کے دریچے کے شیشے سے سرٹکائے ان جنگلوں اور سمندروں کے اوپر سے اڑتی ہوئی ۔۔۔۔
اپنے پیارے وطن کے تاریخی شہرملتان اتری ۔
ہزاروں باراس شہر میں آنا ہوا۔ پراس باراس تاریخی شہر کی سرزمین پہ لینڈ کرتے ہوئےعجیب سا جوش اورخوشی تھی کہ جلدی جلدی امیگریشن کےتمام مراحل طے ہوں اور میں اپنے مقام پہ پہنچوں۔ یہ سفر رب سے جڑنے کا سفر تھا اور مجھے" جامعہ محصنات ملتان " پہنچ کے" تربیتی میڈیا ورکشاپ برائے صو بہ پنجاب لینی تھی "اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے تمام مراحل عافیت اور بہت تیزی سے طے ہو گئے اور گاڑی "جا معہ محصنات"کی عمارت کے سامنے رکی۔
دل میں سکون سا اترا اور الحمدللہ پڑھ کہ جب میں اندرگئی تو اپنے صوبے کی نگران شہناز مجید صاحبہ کو مہمانوں کا منتظر پایا۔ وہ مہمانوں کو بڑے پیارے انداز میں مختلف ہدایات دے رہیں تھیں۔ چہرے پر بڑی جاندار مسکراہٹ تھی اور جس محبت اور گرم جوشی سے انہوں نے استقبال کیا سمجھے ساری تھکن اتر گئی۔ ہال پہ نظر ڈالی تو پینا فلیکس پہ بڑی پیاری خوش خطی میں لکھی یہ تحریر " ستارے جس کی گرداں ہوں وہ کارواں تو ہے" اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔
بچیوں نے بڑے پیارے پنک اور مو کلر کے پیپرروز سے ڈائیس کو سجا رکھا تھا ٹیبل پہ پڑ ی فریش گلابوں کی باسکٹ بڑی بھلی لگ رہی تھی ۔ مختلف پینا فلیکس دیواروں پرآ ویزاں تھے اوران پر لکھیں پراثرتحریریں دلوں کو جھنجھوڑرہیں تھیں۔
خوبصورت آ واز میں تلاوت کلام پاک کی سورہ حمم سجدہ کی آیت نمبر 30 تا 36 سے ورکشاپ کا آ غاز ہوا۔ورکشاپ میں مختلف پروگرامز پر گفتگو اور لیکچرز ہوئے۔ داعی دین اور عصر حاضر کے چییلنجز، آ سان نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد، نیا زمانہ نئی صبح وشام پیدا کر ،تمہارے عزم سے دنیا بدلی جائے گی ،مجھے رب قیمتی سمجھے،اور تیری ذات سے ہیں سلسلے سارے،وہی جہاں ہے تیرا جس کو تو کرے پیدا ۔ہر پروگرام اپنی مثال آپ تھا اور اس شعر کی مکمل تصویر تھا۔
میرے ہمدم میرے دوست
ہم نے دنیا بد لنی ہے
مرکز سےآئی ہوئی ٹیم اپنے اپنےشعبے میں بے پناہ مہارت رکھتی تھی۔ان کا انداز بیان پر اثر الفاظ اور سکھانے کا بہترین انداز بے حد متاثر کن تھا۔ وہاں بیٹھے بیٹھے میں محسوس کر رہی تھی کہ ابھی تو میں طفل مکتب ہوں اور ان شعبوں کی آ گاہی اس ورکشاپ نے دی ہے اور شدت سے ان ساتھیوں کی کمی محسوس ہوئ جو موجودنہیں تھے کہ کاش کہ وہ بھی موجود ہوتے کیونکہ ہر چیز سمجھا ئی نہیں جا سکتی نہ لکھی جا سکتی ۔ بس جو افراد اس طرح کی ورکشاپ میں شامل ہوتےہیں وہی اس کی آفادیت کوسمجھ سکتےہیں۔صحیح کہتے ہیں سب کہ ایسی محفل پہ فرشتوں کا سایہ ہوتا ہے۔وہاں محصور کن ماحول میں بیٹھ کہ پاکیزہ خیالات کا آنا اورکچھ کرنےکی دھن کا جذبہ ابھرنا ہی اس ورکشاپ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری اور میڈیا کوآرڈینیٹر آمنہ عثمان کا درس سنتے ہوئےدل میں اکثر خیال آتا کہ اتنی خوبصورت آوازاوراتنا بہترین درس ان کی خود کی شخصیت کیسی ہو گی۔
تربیت گاہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاقات کرادی کبھی سوچانہیں تھاکہ یوں ملاقات ہوگی۔ واقعی وہ اپنےدرسوں کی طرح اپنی شخصیت میں بھی اپنی مثال آپ تھیں ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے ہم زمانے سے نہیں دور دور سے آ ئ پیاری بہنیں کچھ بہنوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ یہ صرف رب سے جڑنے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کے آ ئیں ۔ یہ سب بہنیں ایک مٹھی کی مانند تھیں۔ بغیر زات پات کی تفریق کے صرف تحریکی ساتھی، کچھ کرنے کا جذبہ، کچھ سیکھنے کی دھن نہ کوئی جھنجھلاہٹ نہ غصّہ اور نہ کوئی تھکن ۔
آخر میں شرکا کی حو صلہ افزائی کے لیئے مرکز کی طرف سے سرسٹیفیکٹ دیے گئے" ڈائریکٹرمیڈیا سیل عالیہ منصور نے بڑ ے محبت بھرے انداز میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور حالات پاکستان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور آ ئ ایم ایف کے غلاموں نے پاکستان کا حال اور مستقبل تباہ کر دیا ہے، کراچی میں جماعت اسلامی کی بڑھتی ہو ئی مقبولیت کی وجہ سے حکومت الیکشن سے بھاگ رہی ہے اس میں جماعت اسلامی کا نہیں کراچی کا نقصان ہےجو کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے" ۔ ناظمہ صوبہ تسنیم سرور نے بھی شرکا کا شکریہ ادا کیا اور وطن عزیز کی تباہ حالی پہ فکر کا اظہار کیا کہ "کرپشن کی وجہ سے وطن عزیز ایک لینڈ مافیا بن چکا ہے ، اور مزید ملک میں درپیش مختلف مسائل پر روشنی ڈالی ۔
انہوں نے کہا بھارت اپنی طاقت کے نشے میں کشمیر ی بہن بھائیوں پر ظلم کا ہر ہتھکنڈہ آزما رہا ہے ، حکومت کو چاہیے کہ اقوام عالم کے سامنے ان کا مقدمہ ٹھوس طریقے سے رکھے اور اپنے بہن بھائیوں کی آ زادی کے لیئے عملی اقدامات اٹھائے۔" ناظمہ صوبہ کے خطاب کے ساتھ ہی اس پر وقار محفل کا اختتام ہوا اللّہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بہترین طریقے سے عمل کی توفیق دے اور اس سیکھے علم کو سیکھانے کی توفیق بھی دے۔ آمین
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لا لہ وگل سے کلام پیدا کر
بہت بو جھل دل کے ساتھ اپنے عزیز بہنوں اور عزیز نظم کو الوداع کہا اور اس عزم کے ساتھ واپسی کی ۔
ہے پکارا جو تو نے تو ہم آ ئیں گے
بننے بازو تیرا دم بدم آئیں گے




































