
عریشہ اقبال
کبھی کوئی مخلص زندگی میں مل جائےتوسمبھال کررکھ لیجیےگا۔اسے اپنے پاس اپنی ضد اورانا کی بھینٹ نہ چڑھنے دیجیےگا۔ بدگمانیاں پیدا نہ ہونے
دیجیے گا۔نفرتوں کے بجائےعزت و محبت کوترجیح دیجیے گا۔ یہی تو وہ اصول ہیں جن سے تعلقات نہ صرف مضبوط ہوجاتے ہیں بلکہ خوبصورت اور بیش قیمت بھی ہوجاتے ہیں کیونکہ محبتیں خریدی نہیں جا سکتیں ۔محبت تو وہ متاع ہےجس کا آغاز ہی دل کی گہرائی سے جڑے خوشبو کی مانند مہکتے ہوئے احساس کی طرح ہوتا ہے۔ برائے کرم انا کا جھوٹا لبادہ عزت نفس کو پہنانا چھوڑدیجیے
یہی زندگی کو خوبصورت بنانے کا فلسفہ ہے۔رب کی رضا کوحصول مقصد سمجھیں گے تو کوئی کام مشکل اورنہ ممکن نہیں رہےگا کیونکہ وہ ناممکن کی قید سےآزاد ہے۔ وہ ذات زندہ وقائم رہنے والی ذات ہے،جس کو دوام ہے ،اسی کی بادشاہی ہےاوراسی کا ملک سب کچھ تواس کے اختیار میں ہے تو پھر آخر ایسا کیسے ہوسکتا ہےکہ ہم صبر کررہے ہوں اور وہ ہمیں نظروں میں نہ رکھے،ہماری آنکھیں اشک بار ہوں اور وہ اس کی لاج نہ رکھےیہ جو رشتہ ہے ناں ہمارا ہمارے رب سے اس کواپنی طاقت سمجھ کریہ جھوٹی انا اور ضد کو قربان کریں اوراپنی قیمتی محبتوں اورمخلص ساتھیوں کو بچالیجیے کیونکہ اس جھوٹی اور بے بنیاد انا کی تسکین سے کہیں زیادہ اہم اورخوبصورت ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دھوکے اور فریب میں آکر آپ اور میں اپنی زندگی کا بہترین حصہ گنوادیں جس سے آپ کی اورمیری زندگی میں خالص محبتوں کی خوشبو لیےمہکتے ہوئے احساسات اپنی قدرکھو دیں۔




































